تلنگانہ ہائی کورٹ نے ریاست کو ایڈووکیٹ برکت علی خان کی تجویز کردہ عبوری لفٹ سیفٹی گائیڈ لائنز نافذ کرنے کی ہدایت دی

حیدرآباد ۔ عوامی تحفظ کو یقینی بنانے اور لفٹ و ایلیویٹر کی سلامتی سے متعلق طویل عرصے سے موجود قانونی خلا کو پُر کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت میں، تلنگانہ ہائی کورٹ کی ڈویژن بینچ جس میں چیف جسٹس آپریش کمار سنگھ اور جسٹس جی ایم محی الدین شامل ہیں، نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایڈووکیٹ برکت علی خان کی جانب سے پیش کی گئی عبوری حفاظتی گائیڈ لائنز پر غور کرے اور مجوزہ لفٹ ایکٹ کے نافذ ہونے تک انہیں عمل میں لائے۔
یہ معاملہ اصل میں مارچ 2025 میں ایڈووکیٹ برکت علی خان نے اٹھایا تھا، جس میں ریاست تلنگانہ میں لفٹس، ایلیویٹرز اور ایسکلیٹر واک ویز کو منظم کرنے کے لیے جامع قانونی فریم ورک کی عدم موجودگی کو اجاگر کیا گیا تھا۔سابقہ سماعتوں کے دوران معزز ہائی کورٹ نے درخواست گزار کو ہدایت دی تھی کہ باضابطہ قانون سازی تک قانونی خلا کو پُر کرنے کے لیے عبوری گائیڈ لائنز کا مسودہ تیار کیا جائے۔
عدالتی ہدایات کی تعمیل میں، ایڈووکیٹ برکت علی خان نے وسیع تحقیق اور مختلف متعلقہ فریقین سے مشاورت کی، جن میں لفٹ مینوفیکچررز، لفٹ مینٹیننس کمپنیاں، حالیہ لفٹ حادثات سے متاثرہ افراد کے اہل خانہ، لفٹ ایسوسی ایشنز اور انشورنس کمپنیاں شامل ہیں۔مکمل مطالعہ اور مشاورت کے بعد، ایڈووکیٹ برکت علی خان نے 11 نکاتی عبوری حفاظتی گائیڈ لائنز مرتب کرکے معزز عدالت میں پیش کیں۔ اس کے علاوہ، انہوں نے ریاستی حکومت کے غور کے لیے تلنگانہ لفٹ ایکٹ کا ایک جامع مسودہ بھی عدالت کے سامنے رکھا۔
معاملہ سننے کے بعد معزز ہائی کورٹ نے عبوری ضابطہ جاتی اقدامات کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہوئے ریاست کو ہدایت دی کہ باضابطہ لفٹ ایکٹ کے نفاذ تک مجوزہ گائیڈ لائنز پر غور کرے اور انہیں نافذ کرے۔کارروائی کے دوران محکمہ توانائی کے سرکاری وکیل مسٹر پی۔ گنیش نے اپنے جوابی حلف نامے میں عرض کیا:“ضابطہ جاتی خلا کو دور کرنے کے لیے تلنگانہ لفٹس ایکٹ 2015 کا مسودہ تیار کرکے حکومت کو پیش کیا گیا تھا۔ مذکورہ مسودہ زیرِ غور رہنے کے دوران محکمہ نے تکنیکی ترقی اور ایز آف ڈوئنگ بزنس کے تقاضوں کا جائزہ لیا اور اسی مناسبت سے تلنگانہ لفٹس ایکٹ 2025 کا نظرثانی شدہ مسودہ تیار کیا گیا۔”
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ لفٹ سیفٹی سے متعلق قوانین کم از کم 14 ریاستوں، بشمول آندھرا پردیش، کرناٹک، مہاراشٹر، اتر پردیش، بہار اور ہریانہ میں پہلے سے نافذ ہیں۔ تاہم ریاست تلنگانہ کے قیام 2014 کے بعد سے لفٹس کے لیے کوئی مخصوص قانون سازی نہیں کی گئی تھی۔ اس سنگین قانونی خلا کو ایڈووکیٹ برکت علی خان نے خصوصی طور پر عدالت کے سامنے اجاگر کرتے ہوئے عوامی جان و مال کے تحفظ کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
معزز ہائی کورٹ کا موجودہ حکم تلنگانہ بھر میں لفٹ تنصیبات کے لیے مؤثر نگرانی، جوابدہی اور بہتر حفاظتی معیارات کو یقینی بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔



