ایجوکیشن

سرکاری اسکول کا بڑا کارنامہ: جب کتاب سے نکل کر سائنس زندگی میں اتر آئی — غوث نگر اسکول کا سائنس فیر 270 طلبہ کے عملی سائنسی مظاہرے۔

سرکاری اسکول کا بڑا کارنامہ: جب کتاب سے نکل کر سائنس زندگی میں اتر آئی — غوث نگر اسکول کا سائنس فیر 270 طلبہ کے عملی سائنسی مظاہرے۔

حیدرآباد (نمائندہ خصوصی):

Government High School Ghouse Nagar میں منعقدہ سالانہ سائنس فیئر اس سال اپنے منفرد اور عملی انداز کی بدولت غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا۔ تقریب میں 270 سے زائد طلبہ نے شرکت کرتے ہوئے ایسے ورکنگ ماڈلز پیش کیے جنہوں نے نہ صرف حاضرین بلکہ ماہرینِ تعلیم کو بھی حیرت زدہ کر دیا۔

 

اس بار اسکول انتظامیہ نے روایتی نمائشی ماڈلز کے بجائے صرف ورکنگ ماڈلز بنانے کی ہدایت دی تھی، تاکہ طلبہ محض نظری معلومات تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی تجربے کے ذریعے سائنسی اصولوں کو سمجھیں۔ اس مقصد کے لیے انتظامیہ نے باقاعدہ رقم مختص کی، ضروری سامان فراہم کیا اور اساتذہ کی نگرانی میں کلاس روم ہی کو تجربہ گاہ کا درجہ دے دیا گیا۔

عملی تعلیم کی روشن مثال

 

سائنس فیئر کے دوران طلبہ نے بجلی کی بچت، قابلِ تجدید توانائی، ماحولیاتی تحفظ، پانی کی فلٹریشن، اسمارٹ سٹی ماڈل، زرعی ٹیکنالوجی اور صحت سے متعلق موضوعات پر مکمل طور پر فعال ماڈلز پیش کیے۔ ہر اسٹال پر طلبہ نہایت اعتماد کے ساتھ اپنے پروجیکٹس کی وضاحت کرتے نظر آئے۔

 

اساتذہ کا کہنا تھا کہ جب طلبہ کو اعتماد اور مواقع فراہم کیے جاتے ہیں تو وہ اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کا ایسا مظاہرہ کرتے ہیں جو نصابی حدود سے کہیں آگے بڑھ جاتا ہے۔ متعدد اساتذہ نے اعتراف کیا کہ طلبہ کی فنی مہارت اور تخلیقی سوچ نے انہیں واقعی دم بخود کر دیا۔

 

معزز مہمانانِ خصوصی کی شرکت اور تحسین

 

تقریب میں بطور مہمانانِ خصوصی

Shanta Bai Rathod (ڈپٹی ایجوکیشن آفیسر، بنڈل گوڑا زون)،

Laxman Singh (ڈپٹی انسپکٹر آف اسکول، بنڈلہہ ۱گوڑا)

اور K Dashrath (ڈپٹی انسپکٹر آف اسکول، بنڈل گوڑا ۲) ڈائٹ حیدرآباد کے لیکچر اور سید عمران صاحب شریک ہوئے۔

 

مہمانانِ خصوصی نے مختلف اسٹالز کا تفصیلی معائنہ کیا، طلبہ سے سوالات کیے اور ان کی سائنسی فہم و فراست کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اسکولوں میں اس نوعیت کی عملی سرگرمیاں نہ صرف تعلیمی معیار کو بلند کرتی ہیں بلکہ طلبہ میں تحقیق و جستجو کا جذبہ بھی پروان چڑھاتی ہیں۔

 

بین المدارس اشتراک: ایک مثبت پیش رفت

 

اس سال کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی رہی کہ اطراف کے سرکاری و خانگی اسکولوں کو باضابطہ دعوت دی گئی۔ جن اداروں نے شرکت کی ان میں

گورنمنٹ پرائمری سکول نوری نگر، گورنمنٹ پرائمری سکول اکبر نگر، گورنمنٹ پرائمری اسکول برکس

Mahboob e Konein High School،

S R Vidyalaya

اور Emanis Global School شامل ہیں۔

 

ان اسکولوں کے طلبہ اور اساتذہ نے مختلف اسٹالز کا دورہ کیا، طلبہ سے براہِ راست تبادلۂ خیال کیا اور ماڈلز کی تیاری کے مراحل کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ خانگی اسکولوں کی انتظامیہ نے اعتراف کیا کہ کسی سرکاری اسکول کی جانب سے اس انداز میں دعوت اور علمی اشتراک ایک خوش آئند اور قابلِ تقلید روایت ہے۔

 

انعامی تقریب اور حوصلہ افزائی

 

بعد ازاں ایک باوقار انعامی تقریب منعقد ہوئی۔ ججز کی جانب سے پرائمری سیکشن سے تین اور ہائی اسکول سے تین بہترین پروجیکٹس کا انتخاب کیا گیا۔ نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو انعامِ اول، دوم اور سوم کے طور پر ٹرافیاں اور میڈلز پیش کیے گئے، جبکہ تمام شرکاء میں سرٹیفکیٹ آف پارٹیسپیشن تقسیم کیے گئے۔

 

تقریب کے اختتام پر خوشی اور فخر کے جذبات نمایاں تھے، اور والدین و اساتذہ نے طلبہ کی کاوشوں کو بھرپور سراہا۔

صدر مدرس کا فکر انگیز خطاب

 

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر مدرس

شاہد علی حسرت

نے کہا:

 

> “آج کے دور میں سائنسی اندازِ فکر کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کتابوں میں موجود مواد اسی وقت مؤثر ہوتا ہے جب اسے عملی زندگی سے جوڑ دیا جائے۔ حقیقی تعلیم وہی ہے جو علم کو تجربے، مشاہدے اور عمل سے مربوط کر دے۔ ہمارا مقصد طلبہ میں سوال کرنے، تحقیق کرنے اور نئے حل تلاش کرنے کا جذبہ پیدا کرنا ہے۔”

 

 

 

انہوں نے مزید کہا کہ اسکول آئندہ بھی اس نوعیت کی سرگرمیوں کو جاری رکھے گا تاکہ طلبہ کا اکتساب محض نظری نہ رہے بلکہ عملی میدان میں بھی نمایاں ہو۔

 

اساتذہ کی محنت اور نظم و نسق

 

تقریب میں محمد رفیع، سید خالد، عبداللہ مظہر، محمد تمیم الدین، محمد اقبال، محمد وحید خان، عبدالحفیظ، سوری ولیم، سید سلیم الدین، عبدالفرید، قدسیہ سلطانہ، شگفتہ یاسمین، نسیم النساءشیخ عرفانہ انجم میمونہ بیگم، سمرین فاطمہ، فرحین خاتون، حمیرا فاطمہ، عارفہ بیگم، رقیہ سلطانہ، نجمہ بیگم، عطیہ طلعت، صبا آفرین، وسیمہ بیگم اور ڈایٹ حیدرآباد کے زیر تربیت معلمین محمد زاہد، محمد جواد اور محمد اسرار موجود تھے۔

 

جلسے کی نظامت عارفہ بیگم نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دی جبکہ اظہارِ تشکر سمرین فاطمہ نے پیش کیا۔

 

نتیجہ: سرکاری اسکولوں کی نئی پہچان

 

یہ سائنس فیئر اس بات کا عملی ثبوت بن گیا کہ اگر رہنمائی، وسائل اور خلوصِ نیت میسر ہو تو سرکاری اسکولوں کے طلبہ بھی کسی سے کم نہیں۔

گورنمنٹ ہائی اسکول غوث نگر کا یہ اقدام نہ صرف تعلیمی میدان میں ایک مثبت مثال ہے بلکہ اس نے یہ پیغام بھی دیا ہے کہ سائنسی شعور اور تحقیقی مزاج کی آبیاری ہی قوموں کی ترقی کی ضامن ہے۔

 

یہ علمی میلہ یقیناً شہر کے تعلیمی حلقوں میں دیر تک زیرِ بحث رہے گا اور طلبہ کے لیے مستقبل کی نئی راہیں ہموار کرے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button