مضامین

سحری میں تاخیر کا صحیح مفہوم

از قلم: مفتی محمد عبدالحمید شاکر قاسمی

     توپران، ضلع میدک، تلنگانہ

 

اسلامی شریعتِ مطہرہ نے عبادات کو محض روحانی واردات یا جذباتی کیفیات تک محدود نہیں رکھا بلکہ انہیں اوقاتِ معینہ، حدودِ منضبطہ اور اصولِ محکمہ کے ساتھ مربوط کر کے ایک جامع عملی نظام کی صورت عطا فرمائی ہے۔ روزہ اسی نظامِ عبودیت کا نہایت عظیم رکن ہے، جس کی ابتدا اور انتہا دونوں کو نصوصِ قطعیہ کے ذریعے متعین کر دیا گیا ہے۔ جس طرح افطار کا شرعی مدار غروبِ شمس پر ہے، اسی طرح سحری کا تعلق طلوعِ فجر سے وابستہ ہے۔ اس نسبت سے “سحری میں تاخیر” ایک ایسا فقہی عنوان ہے جس کی صحیح تفہیم نہایت ضروری ہے، کیونکہ معمولی سی غلط فہمی بھی عبادت کی صحت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ عبادات میں اصل کمال یہ ہے کہ وہ اپنے مقررہ وقت کے اندر اور اسی کی رعایت کے ساتھ ادا کی جائیں؛ تقدیم و تاخیر دونوں شریعت کے مزاج کے خلاف ہیں۔

 

(بدائع الصنائع، ج 2، ص 102؛ رد المحتار، ج 2، ص 420)

ابتدائی اور بنیادی سوال یہ ہے کہ سحری میں “تاخیر” سے مراد کیا ہے؟ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ فجر کا وقت داخل ہونے کے بعد بھی کھانے کی اجازت باقی رہتی ہے؟ یا یہ کہ اذان ختم ہونے تک کھانا جائز ہے؟ یا اس سے مراد صرف یہ ہے کہ سحری کو رات کے ابتدائی حصے کے بجائے فجر سے کچھ پہلے تک مؤخر کیا جائے؟ فقہی نصوص اور شروح سے واضح ہوتا ہے کہ تاخیر سے مراد “وقت کے اندر تاخیر” ہے، یعنی فجر صادق کے طلوع سے پہلے تک سحری کرنا، نہ کہ وقت کے بعد اذان تک کھانے کی گنجائش۔ شریعت میں تاخیر کا مفہوم تحدیدِ وقت کے اندر رہ کر سہولت اختیار کرنا ہے، نہ کہ حدِ شرعی سے تجاوز کرنا۔

 

(بدائع الصنائع، ج 2، ص 105؛ المجموع للنووی، ج 6، ص 406)

قرآنِ کریم نے اس مسئلہ کی اصل بنیاد نہایت واضح، قطعی اور غیر مبہم انداز میں بیان فرمائی ہے:

وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الخَيْطِ الأَسْوَدِ مِنَ الفَجْرِ (البقرہ: 187)۔

اس آیتِ کریمہ میں کھانے پینے کی اجازت کو صراحتاً “فجر” کے ظہور تک محدود کر دیا گیا ہے۔ جمہور مفسرین نے تصریح کی ہے کہ یہاں “فجر” سے مراد فجرِ صادق ہے، جو رات کے اختتام اور دن کے آغاز کی علامت ہے۔ جیسے ہی فجرِ صادق طلوع ہو جائے، کھانے پینے کی رخصت ختم اور امساک لازم ہو جاتا ہے۔ آیت میں اذان یا انسانی اعلان کا ذکر نہیں، بلکہ طبعی علامت یعنی فجر کا ذکر ہے، جو اس امر کی دلیل ہے کہ معیارِ شرعی طلوعِ فجر ہے، نہ کہ صوتی اعلان۔

 

(الجامع لأحکام القرآن للقرطبی، ج 2، ص 308؛ التفسیر الکبیر للرازی، ج 5، ص 237)

سنتِ نبوی ﷺ نے بھی سحری کی فضیلت، مشروعیت اور اس میں تاخیر کی حکمت کو نہایت جامع انداز میں واضح فرمایا ہے۔ نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے:

تسحروا فإن في السحور بركة

“سحری کیا کرو، کیونکہ سحری میں برکت ہے۔”

یہ ارشادِ نبوی محض ترغیب نہیں بلکہ امت کے لیے ایک مستقل سنت اور شعار کی حیثیت رکھتا ہے، جس میں روحانی برکت کے ساتھ جسمانی تقویت بھی مضمر ہے۔

(صحیح بخاری، کتاب الصوم، باب برکة السحور، حدیث 1923؛ صحیح مسلم، کتاب الصيام، حدیث 1095)

حضرت زید بن ثابتؓ کی روایت اس مسئلہ کو مزید منقح اور مدلل کرتی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سحری کی، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔ دریافت کیا گیا کہ سحری اور نماز کے درمیان کتنا وقفہ تھا؟ فرمایا: پچاس آیات پڑھنے کے بقدر۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ سحری فجر سے پہلے ختم ہو چکی تھی اور نماز کے لیے تیاری کا معتد بہ وقفہ بھی موجود تھا۔ اگر اذان کے دوران یا فجر کے بعد بھی کھانے کی گنجائش ہوتی تو صحابۂ کرامؓ اس کی صراحت کرتے، حالانکہ احادیثِ صحیحہ اس پر ساکت ہیں۔

 

(صحیح بخاری، کتاب الصوم، حدیث 1921؛ صحیح مسلم، حدیث 1097)

اصولی اعتبار سے یہ امر بھی نہایت اہم ہے کہ عبادت کا مدار وقت کے تحقق پر ہوتا ہے، نہ کہ اعلانِ وقت پر۔ اذان وقت کی خبر دیتی ہے، وقت کو پیدا نہیں کرتی۔ اگر کسی مقام پر اذان میں تاخیر ہو جائے تو فجر کا طلوع مؤخر نہیں ہو جاتا، اور اگر اذان جلدی ہو جائے تو وقت پہلے داخل نہیں ہو جاتا۔ لہٰذا معیارِ شرعی خود وقت ہے، نہ کہ اذان کی آواز۔ اس اصول کو ملحوظ نہ رکھنا عبادات کو انسانی نظم کے تابع کر دینے کے مترادف ہے۔

(فتح الباری لابن حجر، ج 4، ص 199)

صحیح احادیث میں وارد ہے کہ حضرت بلالؓ رات کے آخری حصے میں اذان دیتے تھے، جبکہ حضرت ابنِ ام مکتومؓ فجر صادق کے بعد اذان دیتے تھے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

إن بلالاً يؤذن بليل فكلوا واشربوا حتى يؤذن ابن أم مكتوم

اس حدیث سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ اصل اعتبار طلوعِ فجر کا ہے، کیونکہ ابنِ ام مکتومؓ اسی وقت اذان دیتے تھے جب انہیں بتایا جاتا کہ فجر طلوع ہو چکی ہے۔

(صحیح بخاری، کتاب الأذان، حدیث 617؛ صحیح مسلم، حدیث 1092)

 

فقہائے اربعہ نے نصوصِ شرعیہ کی روشنی میں نہایت صراحت کے ساتھ لکھا ہے کہ فجر صادق کے طلوع کے بعد کھانا پینا روزہ کو فاسد کر دیتا ہے۔ فقہ حنفی میں ہے کہ اگر کسی نے فجر کے بعد عمداً یا خطأً کھایا تو اس پر قضا لازم ہوگی، کیونکہ اس نے حدِ شرعی سے تجاوز کیا۔

(بدائع الصنائع، ج 2، ص 106؛ رد المحتار، ج 2، ص 430)

فقہ شافعی میں بھی یہی حکم مذکور ہے کہ طلوعِ فجر کے بعد کھانا حرام اور موجبِ فسادِ صوم ہے، اور اس پر قضا واجب ہے۔

(المجموع للنووی، ج 6، ص 315)

فقہ مالکی اور فقہ حنبلی میں بھی یہی تصریح موجود ہے کہ فجر کے بعد ایک لقمہ بھی روزہ کو باطل کر دیتا ہے، اور اس میں کسی معتبر اختلاف کا وجود نہیں۔

(الاستذکار لابن عبدالبر، ج 10، ص 230؛ المغنی لابن قدامہ، ج 3، ص 34)

بعض حضرات سنن ابی داود کی ایک روایت سے استدلال کرتے ہیں کہ اگر اذان سنے اور برتن ہاتھ میں ہو تو اسے رکھ نہ دے۔ یہ روایت حدیث نمبر 2350 میں وارد ہے، مگر محدثین نے اس کی سند اور دلالت پر مفصل کلام کیا ہے اور جمہور نے اسے یا تو ضعیف قرار دیا ہے یا اسے اس اذان پر محمول کیا ہے جو فجر سے پہلے دی جاتی تھی۔ اس روایت کو عموم پر محمول کرنا اور قطعی نصوص کے مقابل پیش کرنا علمی احتیاط کے خلاف ہے۔

 

(سنن ابی داود، حدیث 2350؛ فتح الباری، ج 4، ص 200)

اگر اذان تک کھانے کو عمومی اجازت قرار دے دیا جائے تو اس کے نتائج نہایت مضطرب ہوں گے: مختلف علاقوں کی اذانیں شرعی حد کو بدل دیں گی، مؤذن کی تاخیر یا تقدیم عبادت کے حکم کو تبدیل کر دے گی، اور حتیٰ کہ ریکارڈ شدہ اذان بھی معیار بن جائے گی۔ یہ سب اصولِ شریعت کے خلاف ہے، کیونکہ عبادات میں معیار نصِ قطعی ہوتی ہے، نہ کہ انسانی نظم و اعلان۔

(اصول الشاشی، ص 98؛ شرح التلویح، ج 1، ص 45)

اگر کوئی شخص جان بوجھ کر فجر کے بعد کھاتا ہے تو اس کا روزہ فاسد ہو جاتا ہے اور اس پر قضا لازم ہوتی ہے۔ یہ مسئلہ اجتہادی یا ظنی نہیں بلکہ نصِ قرآنی اور تعاملِ امت سے ثابت قطعی مسئلہ ہے، جس میں اختلاف کی گنجائش نہیں۔

(بدائع الصنائع، ج 2، ص 106؛ المجموع، ج 6، ص 315)

 

موجودہ زمانے میں بعض غیر مقلد حضرات “اذان تک کھانے” کے قول کو عام کر کے اسے سنت کا درجہ دیتے ہیں، حالانکہ قرآن نے حدِ فجر مقرر کی ہے، احادیث نے سحری کو فجر سے پہلے ختم کرنے کا تعامل دکھایا ہے، اور ائمۂ اربعہ کا متفقہ موقف اسی پر قائم ہے۔ کسی ایک روایت کے ظاہری مفہوم کو لے کر قطعی نصوص اور اجماعی تعامل کے خلاف عموم قائم کرنا اصولِ استدلال کی رو سے محلِ نظر ہے۔ شریعت کا جامع فہم نصوص کے مجموعی تناظر سے حاصل ہوتا ہے، نہ کہ جزوی تمسک سے۔

(اعلام الموقعین لابن القیم، ج 3، ص 14؛ شرح مسلم للنووی، ج 7، ص 206)

 

خلاصہ یہ ہے کہ سحری میں تاخیر سنت ہے، مگر فجر صادق کے طلوع سے پہلے تک۔ فجر کے بعد ایک لمحہ بھی کھانا جائز نہیں، خواہ اذان جاری ہو۔ اذان وقت کی علامت ہے، حد نہیں۔ جو لوگ اذان تک کھانے کو سنت سمجھتے ہیں، وہ درحقیقت سنت کے مفہوم کو موسع نہیں بلکہ نصوصِ قطعیہ کی تحدید کر رہے ہیں۔ دین کا محفوظ، معتدل اور متوازن راستہ وہی ہے جو قرآن، سنت، ائمۂ اربعہ اور امت کے متواتر تعامل سے ثابت ہو۔

(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند، ج 6، ص 258)

اللهم أرنا الحق حقا وارزقنا اتباعه، وأرنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه۔

متعلقہ خبریں

Back to top button