مضامین

کیرلا اسٹوری 2 گوز بیانڈ سنیما یا سماجی تقسیم کا نیا باب؟

از: عبدالحلیم منصور
ہندوستانی سنیما اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں فن اور سیاست کی سرحدیں دھندلا رہی ہیں۔ کہانی اور بیانیہ اب محض تفریح نہیں رہے بلکہ رائے سازی اور ذہن سازی کے مؤثر اوزار بن چکے ہیں۔ اسی پس منظر میں مجوزہ فلم کیرلا اسٹوری 2 گوز بیانڈ منظرِ بحث بنی ہوئی ہے۔ اس کا ٹریلر جاری ہوتے ہی نہ صرف سماجی حلقوں بلکہ قانونی اور سیاسی میدانوں میں بھی ایک سنجیدہ مکالمہ شروع ہو گیا ہے۔
فلم کی متوقع نمائش 27 فروری کو بتائی جا رہی ہے، مگر اس سے قبل ہی اس کے مندرجات نے ایک بڑی فکری بحث کو جنم دے دیا ہے۔
یہ فلم اپنی پہلی قسط دی کیرلا اسٹوری کے تسلسل کا دعویٰ کرتی ہے۔ پہلی فلم میں پیش کیے گئے اعداد و شمار اور دعووں پر بعد ازاں سوالات اٹھائے گئے اور عدالتی کارروائی کے دوران یہ بات واضح کی گئی کہ بعض اعداد تخلیقی انداز میں پیش کیے گئے تھے، انہیں حتمی سرکاری اعداد قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہی نکتہ اس نئی قسط کے حوالے سے بنیادی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ جب کسی تخلیق کو حقیقی واقعات سے منسوب کیا جائے تو اس کی ذمہ داری محض فنی نہیں بلکہ اخلاقی اور سماجی بھی ہو جاتی ہے۔
ٹریلر کے مناظر میں ایک مخصوص مذہبی شناخت کو اس انداز میں پیش کیا گیا ہے گویا وہ ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت سماجی ڈھانچے کو متاثر کر رہی ہو۔ مکالموں کی ساخت، پس منظر کی موسیقی اور مناظر کی ترتیب مجموعی طور پر ایک خوف اور خطرے کا تاثر پیدا کرتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کسی مسئلے کو موضوع کیوں بنایا گیا؛ اصل سوال یہ ہے کہ اسے کس زاویے سے اور کس توازن کے ساتھ پیش کیا گیا۔ اگر چند واقعات کو پورے معاشرے کی علامت بنا دیا جائے تو تصویر یک رخی ہو جاتی ہے، اور یک رخی تصویر اکثر حقیقت کی مکمل ترجمان نہیں ہوتی۔
کیرالہ کی سرزمین صدیوں سے مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے باہمی اشتراک کی علامت رہی ہے۔ تعلیم، سماجی ترقی اور مذہبی ہم آہنگی کے اشاریوں میں اس ریاست کا نام نمایاں ہے۔ ایسے میں اگر اسے سازشوں اور انتہا پسندی کے مرکز کے طور پر پیش کیا جائے تو فطری طور پر سوالات اٹھتے ہیں۔ ریاستی قیادت کی جانب سے بھی اس نوعیت کی پیشکش پر تحفظات ظاہر کیے گئے ہیں، اور معاملہ عدالتی دائرے تک پہنچ چکا ہے جہاں فلم کے اثرات اور اس کے مواد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ یہ صورتِ حال اس امر کی دلیل ہے کہ بحث محض جذباتی ردِعمل نہیں بلکہ آئینی و قانونی پہلو بھی رکھتی ہے۔
سنیما کی قوت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک منظر، ایک جملہ یا ایک کردار برسوں تک ذہنوں میں نقش رہتا ہے۔ اگر کسی کمیونٹی کو بار بار منفی علامت کے طور پر دکھایا جائے تو یہ تاثر رفتہ رفتہ اجتماعی شعور کا حصہ بن سکتا ہے۔ سماجی نفسیات یہی بتاتی ہے کہ دہرایا گیا تصور حقیقت کا درجہ اختیار کرنے لگتا ہے، خواہ وہ جزوی ہو یا مبالغہ آمیز۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ روزمرہ تعلقات میں غیر محسوس فاصلے پیدا ہونے لگتے ہیں۔ ایک ہم جماعت، ایک ہمسایہ یا ایک ساتھی ملازم محض فرد نہیں رہتا بلکہ ایک عمومی شبیہ کا نمائندہ سمجھا جانے لگتا ہے۔
یہاں ایک اور پہلو بھی قابلِ توجہ ہے۔ جب کسی بیانیے کو غیر اعلانیہ سیاسی سرپرستی حاصل ہو جائے تو اس کی رسائی اور اثر بڑھ جاتا ہے۔ سرکاری تقاریب، بیانات یا اعزازات اس تاثر کو تقویت دیتے ہیں کہ پیش کردہ مؤقف ہی واحد سچائی ہے۔ اس ماحول میں اختلافی آواز کو اکثر شکوک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ حالانکہ جمہوریت کی اصل روح سوال اٹھانے اور دلیل پیش کرنے میں مضمر ہے۔
مزید یہ کہ ذرائع ابلاغ اور سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم اس نوع کے بیانیوں کو چند لمحوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچا دیتے ہیں۔ ایک ٹریلر کا مختصر سا منظر بھی بار بار شیئر ہو کر ایک مستقل تاثر کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ جب جذباتی مناظر اور اشتعال انگیز جملے سیاق و سباق سے ہٹ کر گردش کریں تو وہ حقیقت سے زیادہ اثر انگیز معلوم ہونے لگتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں ناظرین کے لیے یہ اور بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ مکمل تناظر کو سامنے رکھ کر رائے قائم کریں، نہ کہ محض چند مناظر کی بنیاد پر فیصلہ صادر کر دیں۔
اسی تناظر میں یہ سوال ناگزیر ہو جاتا ہے کہ آیا سنیما معاشرتی حقیقتوں کو ان کی پوری پیچیدگی کے ساتھ پیش کر رہا ہے یا انہیں سہل اور دو رُخی تقسیم میں سمیٹ رہا ہے۔ معاشرے سیاہ و سفید خانوں میں بند نہیں ہوتے؛ ان کے اندر تاریخی عوامل، سماجی حالات، معاشی محرکات اور انسانی کمزوریاں ایک دوسرے سے جڑی ہوتی ہیں۔ اگر کسی مسئلے کو محض ایک رخ سے دکھایا جائے تو تصویر ادھوری رہ جاتی ہے اور ادھوری تصویر اکثر غلط فہمی کو جنم دیتی ہے۔
متوازن اور ذمہ دار فن کا تقاضا یہ ہے کہ وہ نہ تو حقائق کو چھپائے اور نہ ہی انہیں مبالغے کے پردے میں لپیٹے۔ وہ مشکل سوالات ضرور اٹھائے، مگر ان کی پیشکش میں سنجیدگی، تحقیق اور فکری دیانت کو ملحوظ رکھے۔ جذباتی ہیجان وقتی اثر تو پیدا کر سکتا ہے، لیکن دیرپا اعتماد صرف اسی بیانیے کو حاصل ہوتا ہے جو مختلف زاویوں کو جگہ دے اور ناظر کو سوچنے کا موقع فراہم کرے، نہ کہ اسے کسی طے شدہ نتیجے تک دھکیل دے۔
تخلیقی آزادی ایک مسلمہ حق ہے، مگر ہر حق کے ساتھ ذمہ داری جڑی ہوتی ہے۔ اگر کسی فلم کو حقیقی واقعات سے جوڑا جائے تو اس کی بنیاد مستند اعداد، تحقیقاتی رپورٹوں اور غیر جانب دار شواہد پر ہونی چاہیے۔ سنسنی خیزی وقتی توجہ ضرور حاصل کرتی ہے، لیکن سماجی سطح پر اس کے اثرات دیرپا اور بعض اوقات نقصان دہ ہوتے ہیں۔ نفرت کا بیج بونا آسان ہے، مگر اسے ختم کرنا نسلوں کا کام بن جاتا ہے۔
اس بحث کا ایک مثبت پہلو بھی ہے کہ معاشرہ اب فلم کو محض تفریح نہیں سمجھتا بلکہ اس کے پیغام پر سوال بھی اٹھاتا ہے۔ یہ بیداری جمہوری معاشرے کی علامت ہے۔ اگر سنیما اختلافی موضوعات کو دیانت اور توازن کے ساتھ پیش کرے تو وہ مکالمے کا دروازہ کھول سکتا ہے، مگر اگر وہ تقسیم کو گہرا کرے تو یہ سماجی ہم آہنگی کے لیے چیلنج بن جاتا ہے۔
کیرلا اسٹوری 2 گوز بیانڈ کے گرد جاری گفتگو دراصل اس بڑے سوال کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ہم اپنی ثقافت کو کس سمت لے جانا چاہتے ہیں۔ کیا ہم اسے مشترکہ ورثے، باہمی احترام اور فکری مکالمے کا ذریعہ بنائیں گے یا اسے سیاسی مفاد کے تحت تقسیم کا آلہ کار بننے دیں گے؟ تاریخ گواہ ہے کہ معاشرے اسی وقت مضبوط ہوتے ہیں جب اختلاف کے باوجود احترام برقرار رہے۔
سچائی کا حسن یہ ہے کہ اسے زیادہ آرائش کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر کسی کہانی میں صداقت اور توازن ہو تو وہ خود اپنا دفاع کر لیتی ہے، اگر اسے مبالغے اور خوف کے سہارے پیش کیا جائے تو سوالات اس کا تعاقب کرتے رہتے ہیں۔ آج کے باشعور ناظر کے لیے ضروری ہے کہ وہ جذبات کے بجائے تحقیق اور دلیل کی روشنی میں رائے قائم کرے۔
؀ حقیقت چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے
کہ خوشبو آ نہیں سکتی کبھی کاغذ کے پھولوں سے

متعلقہ خبریں

Back to top button