اردو ۔ محبت، تہذیب اور احساس کی لازوال زبان۔عالمی یومِ مادری زبان پر اپنی مادری زبان کی حفاظت اور فروغ کا عہد

از : ڈاکٹر تبریز حسین تاج
جب لفظ دل سے نکلتے ہیں اور روح تک پہنچ جاتے ہیں، تو وہ اردو بن جاتے ہیں۔اردو… ایک ایسی زبان ہے جو صرف بولی نہیں جاتی، بلکہ محسوس کی جاتی ہے۔ آئیے عالمی یوم مادری زبان کے موقع پر ہم اپنی مادری زبان کی حفاظت اور فروغ کا عہد کریں ۔ کیونکہ اردوایک ایسی زبان ہے جس کے لفظوں میں مٹھاس ہے، جملوں میں نزاکت ہے اور اندازِ بیان میں ایک دلکش ٹھہراؤ ہے۔
اردو کی کہانی صدیوں پرانی ہے۔ اس کا آغاز برصغیر کی سرزمین پر ہوا، جہاں مختلف قومیں، تہذیبیں اور زبانیں آپس میں ملیں۔ ترک، افغان، ایرانی اور مقامی ہندوستانی ثقافتوں کے ملاپ نے ایک نئی زبان کو جنم دیا۔ لفظ "اردو” ترک زبان کے لفظ "اورْدو” سے نکلا ہے، جس کا مطلب لشکر یا فوج ہے، کیونکہ یہ زبان مختلف قوموں کے میل جول سے وجود میں آئی۔تاریخی طور پر اردو کی بنیاد دکن اور شمالی ہند میں مضبوط ہوئی۔ خصوصاً دہلی اور لکھنؤ نے اس زبان کی پرورش میں اہم کردار ادا کیا۔ بعد ازاں حیدرآباد بھی اردو کا ایک اہم مرکز بنا۔ مغلیہ دور میں اردو کو شاہی سرپرستی حاصل ہوئی اور یہ درباروں، بازاروں اور ادبی محفلوں کی زبان بنتی چلی گئی۔ادب کی دنیا میں اردو نے وہ عظیم نام پیدا کیے جنہوں نے اس زبان کو آفاقی مقام عطا کیا۔مرزا غالب نے اردو شاعری کو فلسفیانہ گہرائی دی۔
علامہ اقبال نے اس میں فکری بلندی اور قومی شعور پیدا کیا۔میر تقی میر نے جذبات کو ایسی سادگی سے بیان کیا کہ دل خود بخود پگھل جائے۔فیض احمد فیض نے محبت اور انقلاب کو ایک ساتھ لفظوں میں ڈھالا۔اردو کی خوبصورتی اس کے اندازِ بیان میں ہے۔ اس میں احترام بھی ہے، محبت بھی، دعا بھی اور شائستگی بھی۔یہ وہ زبان ہے جس میں ہم کہتے ہیں:”آپ کیسے ہیں؟” "مہربانی فرمائیے” "تشریف رکھیے” یہ الفاظ صرف جملے نہیں، تہذیب کا آئینہ ہیں۔ اردو کی ثقافت صرف شاعری تک محدود نہیں۔ یہ داستان گوئی، ناول نگاری، ڈرامہ اور فلم کا بھی لازمی حصہ رہی ہے۔ پریم چند نے افسانے کو حقیقت سے جوڑا، جبکہ سعادت حسن منٹو نے سماج کے کڑوے سچ کو بے باکی سے بیان کیا۔
جدید دور میں بھی اردو ادب اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔ اگر ہم اردو کی موسیقیت کی بات کریں تو اس کی غزل، نعت، قوالی اور گیت دل کو چھو لینے والی تاثیر رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ برصغیر کی فلمی صنعت — خصوصاً بالی ووڈ اور لالی ووڈ — کے گیتوں میں اردو کا جادو نمایاں نظر آتا ہے۔ پڑوسی ملک پاکستان میں اردو کو قومی زبان کا درجہ حاصل ہے، جبکہ ہمارے ملک ہندوستان میں بھی یہ ایک تسلیم شدہ یعنی مسلمہ زبان ہے۔ تلنگانہ کے بشمول کئی صوبوں میں دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے۔ یہ نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ مشرق وسطیٰ، یورپ اور امریکہ تک بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ لاکھوں لوگ اسے اپنی شناخت، اپنے جذبات اور اپنی تہذیب کی نمائندہ زبان سمجھتے ہیں۔
اردو کی افادیت صرف ادبی حسن تک محدود نہیں۔ یہ تعلیم، صحافت، نشریات اور سفارت کاری میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ جدید دور میں ڈیجیٹل میڈیا، سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز پر بھی اردو اپنی جگہ بنا رہی ہے۔یہ زبان ماضی کی یادگار نہیں — حال کی حقیقت اور مستقبل کی امید ہے۔
اردو کی مٹھاس اس کے الفاظ میں چھپی ہے۔
"محبت” "احساس” "وفا” "روشنی” "خواب” یہ الفاظ جب اردو میں ادا ہوتے ہیں تو دل کی دھڑکنوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو جاتے ہیں۔
اردو دراصل ایک پل ہے — دل سے دل تک، تہذیب سے تہذیب تک، نسل سے نسل تک۔
یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ گفتگو میں نرمی ہو، اختلاف میں احترام ہو، اور اظہار میں خوبصورتی ہو۔
آج جب دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، زبانیں معدوم ہو رہی ہیں، ایسے میں اردو اپنی شائستگی اور وسعت کے ساتھ قائم ہے۔ اس کی بقا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ گھروں میں، اسکولوں میں، اور محفلوں میں اس کا استعمال اسے زندہ رکھتا ہے۔
آخر میں بس اتنا کہنا کافی ہے کہ اردو صرف ایک زبان نہیں — ایک احساس ہے۔
ایک تہذیب ہے۔ایک شناخت ہے۔
یہ دل کی آواز ہے، روح کی سرگوشی ہے، اور محبت کا پیغام ہے۔
اردو زندہ تھی، زندہ ہے، اور ہمیشہ زندہ رہے گی —
کیونکہ جب تک محبت باقی ہے، اردو باقی ہے۔


