آج مادری زبان کا عالمی دن ۔ اردو کا مقام اور بھارتی حکومت کے اقدامات

اعجاز آفتاب
ہر سال 21 فروری کو دنیا بھر میں مادری زبان کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد یہ یاد دلانا ہے کہ زبان صرف بات چیت کا ذریعہ نہیں بلکہ شناخت، تاریخ، ثقافت اور جذبات کا آئینہ بھی ہے۔ مادری زبان انسان کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے۔ اسی زبان میں وہ خواب دیکھتا ہے، سوچتا ہے اور اپنے احساسات کا اظہار کرتا ہے۔
آج کے اس اہم دن پر یہ ضروری ہے کہ ہم نہ صرف اپنی مادری زبانوں کی قدر کریں بلکہ اردو جیسی عظیم زبان کے فروغ کے لیے ہونے والی کوششوں کا بھی جائزہ لیں، خصوصاً بھارت میں اردو کے حوالے سے کیے گئے اقدامات کو سمجھیں۔
مادری زبان کی اہمیت
مادری زبان انسان کی شخصیت کی بنیاد ہوتی ہے۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ بچہ اپنی ابتدائی تعلیم اگر اپنی مادری زبان میں حاصل کرے تو وہ بہتر طور پر سیکھتا ہے اور اس کی تخلیقی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ مادری زبان انسان کو اپنی تہذیب اور روایات سے جوڑے رکھتی ہے۔اگر زبان محفوظ رہے تو ثقافت محفوظ رہتی ہے، اور اگر زبان کمزور پڑ جائے تو تہذیبی رشتے بھی ٹوٹنے لگتے ہیں۔ اسی لیے اقوام متحدہ نے مادری زبانوں کے تحفظ کو عالمی ترجیح قرار دیا ہے۔
بھارت میں اردو کا تاریخی پس منظر
اردو زبان کی جڑیں برصغیر کی سرزمین میں پیوست ہیں۔ یہ زبان مختلف تہذیبوں کے میل جول سے وجود میں آئی اور صدیوں تک ہندوستان کے ادبی اور ثقافتی منظرنامے پر چھائی رہی۔ دہلی اور لکھنؤ جیسے مراکز اردو ادب کے اہم گہوارے رہے ہیں۔
اردو کے فروغ میں بے شمار شعراء اور ادباء نے کردار ادا کیا، جن میں مرزا غالب، علامہ محمد اقبال اور پریم چند جیسے نام نمایاں ہیں۔ ان ہستیوں نے اردو ادب کو عالمی سطح پر متعارف کرایا۔
بھارتی آئین میں اردو کا مقام
بھارت ایک کثیر لسانی ملک ہے جہاں سیکڑوں زبانیں بولی جاتی ہیں۔ بھارتی آئین کی آٹھویں شیڈول میں اردو کو شامل کیا گیا ہے، جس سے اسے سرکاری سطح پر تسلیم شدہ زبان کا درجہ حاصل ہے۔کئی ریاستوں جیسے اتر پردیش، بہار، تلنگانہ اور جموں و کشمیر میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اردو کو ایک اہم علاقائی اور ثقافتی زبان کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔
اردو کے فروغ کے لیے بھارتی حکومت کے اقدامات بھارتی حکومت نے مختلف سطحوں پر اردو کی ترویج کے لیے اقدامات کیے ہیں:
1. قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان
حکومت ہند کے تحت National Council for Promotion of Urdu Language (NCPUL) قائم کی گئی ہے، جو اردو زبان کی تعلیم، اشاعت اور تربیت کے لیے کام کرتی ہے۔ یہ ادارہ اردو اساتذہ کی تربیت، کتابوں کی اشاعت اور کمپیوٹر تعلیم کے پروگرام بھی چلاتا ہے۔
2. قومی اردو یونیورسٹی
حیدرآباد میں قائمMaulana Azad National Urdu University اردو میڈیم کے ذریعے اعلیٰ تعلیم فراہم کرتی ہے۔ یہ یونیورسٹی فاصلاتی تعلیم اور پیشہ ورانہ کورسز بھی پیش کرتی ہے، جس سے اردو طلبہ کو جدید تعلیم کے مواقع میسر آتے ہیں۔
3. تعلیمی وظائف اور اسکیمیں
اردو طلبہ کے لیے مختلف اسکالرشپ پروگرام متعارف کرائے گئے ہیں تاکہ وہ تعلیم کے میدان میں آگے بڑھ سکیں۔ مدارس کی جدید کاری اور اردو اساتذہ کی تقرری بھی اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔
4. ادبی و ثقافتی سرگرمیاں
حکومتی اور غیر حکومتی سطح پر مشاعرے، سیمینار اور ادبی کانفرنسیں منعقد کی جاتی ہیں تاکہ اردو ادب کو زندہ رکھا جا سکے۔
موجودہ چیلنجز
اگرچہ اردو کو آئینی درجہ حاصل ہے، لیکن عملی سطح پر کئی چیلنجز موجود ہیں۔ بعض علاقوں میں اردو میڈیم اسکولوں کی کمی ہے، جبکہ نئی نسل میں اردو رسم الخط کی بجائے رومن رسم الخط کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اردو کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے، اسے ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر زیادہ فروغ دیا جائے، اور نئی نسل کو اس کی ادبی وراثت سے روشناس کرایا جائے۔
مادری زبان کا عالمی دن ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ہر زبان قابلِ احترام ہے۔ اردو نہ صرف ایک زبان ہے بلکہ ایک تہذیب، ایک تاریخ اور ایک مشترکہ ثقافتی ورثہ ہے۔
بھارتی حکومت نے اردو کے فروغ کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں، مگر زبان کی اصل حفاظت عوام کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ اگر ہم اردو پڑھیں، لکھیں اور بولیں گے تو یہ زبان ہمیشہ زندہ رہے گی۔
آج کے دن عہد کریں کہ ہم اپنی مادری زبان سے محبت کریں گے اور اردو کے فروغ میں اپنا کردار ادا کریں گے، کیونکہ زبان ہی ہماری پہچان ہے اور یہی ہماری اصل طاقت بھی۔



