جنرل نیوز

پروفیسر مسعود احمد کی شاعری عام روایت سے ہٹ کر زندگی کے تمام شعبوں کا احاطہ کرتی ہے 

کتاب" رشحات مسعود" کی رسم اجرا - پروفیسر ایس اے شکور ،جناب انوار الہدی ،جناب طارق انصاری اور پروفیسر مسعود احمدکا خطاب

حیدرآباد 20 فروری (اردو لیکس) پروفیسر محمد مسعود احمد کی شاعری روایتی شاعری سے ہٹ کر ہے جو زندگی کے تمام شعبوں کا احاطہ کرتی ہے پروفیسر مسعود احمد مینجمنٹ، تدریس اور طب سے تعلق رکھتے ہیں ان تینوں خصوصیات کے ساتھ ساتھ ان کا اردو ادب سے لگاؤ قابل ستائش اور قابل تحسین ہے

 

ان خیالات کا اظہار پروفیسر ایس اے شکور ڈائریکٹر دائرۃ المعارف عثمانیہ یونیورسٹی نے سالار جنگ میوزیم کے آڈیٹوریم میں پروفیسر محمد مسعود احمد کی کتاب” رشحات مسعود” کی رسم اجرا انجام دینے کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ پروفیسر مسعود احمد نے اب تک 9 کتابیں شائع کی ہیں اور سب سے بڑی خاص بات یہ ہے کہ جو لوگ اپنی تخلیقات منظر عام پر لاتے ہیں اس میں اردو اکیڈمی کا جزوی مالی تعاون شامل ہوتا ہے لیکن پروفیسر مسعود احمد نے جزوی اعانت قبول کیے بغیر ہی یہ کام انجام دیا ہے یہ ان کی اردو سے سچی محبت و عقیدت کا نتیجہ ہے

 

انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ پروفیسر مسعود احمد اردو کے ساتھ ساتھ فارسی سے بھی بڑی دلچسپی رکھتے ہیں اور ان کی فارسی میں بھی تصنیف آنے والی ہے انہوں نے اس محفل میں شعراء کی بڑی تعداد کی شرکت پر اظہار مسرت کرتے ہوئے کہا کہ مختلف الخیال شعرا کا ایک جگہ جمع ہونا بہت بڑی بات ہے اور یہ کام پروفیسر محمد مسعود احمد نےبحسن بخوبی انجام دیا ہے انہوں نے کہا کہ شمالی ہند کسی زمانے میں اردو کا مرکز تھا اب حیدرآباد کو یہ فخر حاصل ہے کہ اب یہ اردو کا مرکز بن گیا ہے اردو زبان کا تحفظ اہل حیدرآباد کر رہے ہیں اور یہ بڑی خوشی کی بات بھی ہے کہ تلنگانہ کے سرکاری اردو میڈیم مدارس میں ایک لاکھ سے زائد طلبہ و طالبات اردو میڈیم میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں پروفیسر ایس اے شکور نے پروفیسر مسعود احمد کو ان کی کتاب "رشحات مسعود” کی اشاعت پر دلی مبارکباد دی

 

سابق ڈائریکٹر جنرل پولیس آندھرا پردیش و تلنگانہ جناب انوار الہدی نے پروفیسر مسعود کو ان کی کتاب پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد میں دکنی اردو کا بول بالا ہے دکنی اردو میں مراٹھی، تلگو اور کنڑا کی آمیزش ہے جناب انوار الھدی نے کہا کہ اردو کے لیے ماحول بہت سازگار ہے انہوں نے کہا کہ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ اردو پڑھنے والوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے سوشیل میڈیا کے استعمال کے سبب لوگ اردو اخبارات اور اردو رسائل سے دور ہوتے جا رہے ہیں ایسے کٹھن اور پرآشوب حالات کے باوجود پروفیسر مسعود احمد نے اپنی نویں کتاب شائع کی ہے

 

جو قابل مبارک باد ہیں پروفیسر مسعود احمد اردو کا پرچم لہرا رہے ہیں اردو کا چراغ جلا رہے ہیں انہوں نے اردو زبان سے تعلیم حاصل کرنے اور مسابقتی امتحانات میں اردو زبان اختیار کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کارپوریٹ سیکٹر میں آج بھی اردو والوں کی سخت ضرورت ہے لیکن کارپوریٹ سیکٹر میں مخلوعہ جائیدادوں کا علم نہ ہونے کے سبب لوگ کارپوریٹ سیکٹر کا رخ نہیں کر رہے ہیں انہوں نے جاننے والوں کو مشورہ دیا کہ وہ کارپوریٹ سیکٹر کے کن شعبوں میں اردو والوں کی ضرورت ہے اس کی ضرور رہنمائی کریں انہوں نے یہ بھی کہا کہ اردو کے فروغ کے لیے زبان کو معاشرے سے جوڑنا بے حد ضروری ہے صدر نشین مائناریٹی کمیشن تلنگانہ جناب طارق انصاری نے پروفیسر مسعود کو دلی مبارکباد دی اور کہا کہ

 

یہ محفل ایک رسمی محفل نہیں بلکہ سخن نوازی کی داستان ہے انہوں نے پروفیسر مسعود کی ادبی محنتوں ،فکر و احساس کو بصد خلوص سلام پیش کیا اور کہا کہ پروفیسر ہونا ،طب کی خدمات انجام دینا اور اس کے ساتھ شاعر و ادیب بھی ہونا یہ بہت بڑے کمال کی بات ہے جناب طارق انصاری نے کہا کہ پروفیسر مسعود کی شاعری میں گہرے معنی پوشیدہ ہیں ان کے خیالات دل کو چھو لیتے ہیں پروفیسر مسعود نے تمام مقررین سے کتاب کی ستائش پر دلی اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ 8 سال میں 9 کتابیں شائع کی ہیں انہوں نے انکشاف کیا کہ مجھے فارسی سے بھی گہری دلچسپی ہے پروفیسر مسعود نے اس ادبی اجلاس اور مشاعرے میں شرکت کرنے والے تمام معززین سے اظہار تشکر بھی کیا

 

اور کہا کہ وہ سیکھنے کے عمل پر ہمیشہ یقین رکھتے ہیں اور سیکھنا اسی وقت ہوتا ہے جب اس کی سچی تڑپ ہو انہوں نے بتایا کہ وہ 36 سال سے تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں جس میں 15 سال انجینئرنگ کے طلباء کو اور 17 سال میڈیکل سائنس کے طلبہ کی تعلیم بھی شامل ہے انہوں نے کہا کہ یہ کتاب تقریبا 20 سے زائد بحروں میں لکھی گئی ہے پروفیسر مسعود نے اس موقع پر اپنے پسندیدہ اشعار

ہے میری دعا یہ خالق سے صحت بھی عطا کر حکمت بھی

کرپاؤں میں خدمت دنیا کی اور کام کروں میں ملت کا

کے علاوہ

اپنا کردار کھو نہیں سکتا

یہ کبھی مجھ سے ہو نہیں سکتا

سنائے جسے سامعین نے بے حد پسند کیاجناب سراج انصاری بانی اور ڈائریکٹر قطر پریمیئر لیگ نے پروفیسر مسعود احمد کی اردو خدمات کی زبردست ستائش کرتے ہوئے ان کی کتاب کی اشاعت پر مبارکباد دی اور کہا کہ پروفیسر مسعود احمد نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے خلیجی ممالک میں بھی پروفیسر مسعود احمد عالمی مشاعروں کی صدارت کرتے ہیں

 

انہوں نے کہا کہ ہم کیو پی ایل ہی نہیں بلکہ ادبی محفلیں بھی سجاتے ہیں گزشتہ سال ہم نے پہلا عالمی مشاعرہ منعقد کیا تھا جس کی صدارت پروفیسر مسعود احمد نے کی تھی جناب سراج انصاری نے کہا کہ پہلا مشاعرہ کافی کامیاب رہا انہوں نے اعلان کیا کہ عنقریب قطر میں دوسرا عالمی مشاعرہ منعقد ہوگا جس کی صدات پروفیسر محمد مسعود احمد ہی کریں گے مخدوم یافتہ مشہور شاعر ڈاکٹر فاروق شکیل ،مولانا ابوالکلام آزاد ایوارڈ یافتہ ممتاز و سینیئر شاعر ڈاکٹر محسن جلگانوی اور جناب ارشاد سہیل عمری نے کتاب پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب انتہائی معلوماتی ہے اس کا ہر گھر میں ہونا نہایت ضروری ہے

 

انہوں نے پروفیسر مسعود کو اردو شاعری کا ایک معتبر ہے اور با وقار شاعر قرار دیا اور ان کی ادبی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسر محمد مسعود احمد کی شعری وتصنیفی خدمات شاعروں اور ادیبوں کے لیے مشعل راہ ہےادبی محفل کی کاروائی ڈاکٹر آصف علی نے چلائی بعد ازاں مخدوم ایوارڈ یافتہ مشہور شاعر ڈاکٹر فاروق شکیل کی صدارت میں مشاعرہ منعقد ہوا جناب لطیف الدین لطیف نے ابتدائی کلمات ادا کرتے ہوئے جناب شکیل حیدر کانپوری کو نظامت حوالے کی جناب شکیل حیدر کانپوری نے بڑی ہی عمدگی کے ساتھ منفرد انداز میں مشاعرے کی نظامت انجام دی

 

صدر مشاعرہ ڈاکٹر فاروق شکیل کے علاوہ ، افسر دکنی ممبئی، ڈاکٹر ستار ساحر اننت پور، سینیئر شاعر جناب صلاح الدین نیر، ڈاکٹر محسن جلگانوی، صوفی سلطان شطاری، سردار سلیم،سمیع اللہ حسینی سمیع، پروفیسر محمد مسعود احمد، ظفر فاروقی ،نوید جعفری ،انجنی کمار گوئل، ارشد شرفی، شکیل حیدر، جہانگیر قیاس، سعد اللہ خان سبیل، ثنا اللہ وصفی، سہیل عظیم، سید اسماعیل ذبیح اللہ، عبدالشکور شاداب، ،حناء شہیدی، تقییہ غزل، ارجمند بانو، صبیحہ تبسم، آرزو مہک اور رفیعہ نوشین نے کلام سنایا طنزو مزاح کے ممتاز شعرا ڈاکٹر شاہد عدیلی، چچا پالموری،وحید پاشاہ قادری،لطیف الدین لطیف، شبیر خان اسمارٹ نے اپنے مزاحیہ کلام سے محفل کو زعفران زار کردیا جناب شاہد عدیلی نے پروفیسر محمدمسعود احمد کو شال پیش کی

 

ممتاز گلوکار جناب عدنان سالم نے پروفیسر مسعود احمد کی غزل سنائی جو بے حد پسند کی گئی اس موقع پر کیو پی ایل کے ممبران جناب سیف اللہ جناب محمد سمیر جناب محمد عبدالمقتدر جناب شیخ طلحہ کے علاوہ جناب سید ظہور الدین صدر نشین سکندر آباد کوآپریٹو بینک، ممتاز سینیئر صحافی جناب کےاین واصف، محمد حسام الدین ریاض، جناب سید اصغر حسینی ،جناب محمد صبغت اللہ شاہد ،مختار احمد فردین اور دیگر معززین بھی موجود تھے پروفیسر محمد مسعود احمد کے شکریہ پر تقریب کا اختتام عمل میں آیا

متعلقہ خبریں

Back to top button