مضامین

خبر پہ شوشہ “بیگموں کی سیاست” 

کے این واصف 

گزشتہ روز اخبار میں لفظ “بیگموں کی سیاست” مطالعہ میں آیا۔ اس کا سلسلہ بنگلہ دیش میں 35 سال بعد طارق رحمٰن کی قائم “مردانہ حکومت” سے تھا۔ پچھلے تین دہائیوں سے زائد عرصہ سے بنگلہ دیش کی سیاسی باگ ڈور بیگمات کے ہاتھوں میں تھی۔

 

دنیا کو Gender equality (جنسی مساوات ) کا سبق سکھانے والے امریکہ کے سوا دنیا کے کئی ممالک میں اقتدار کی کرسی خواتین کے قبضہ میں رہی ہے۔ اس میں جنوب مشرقی ایشیا پہلے نمبر پر نظر آتاہے۔ بہر حال خواتین کا گھر سے ایوان حکومت تک اپنا اقتدار قائم رکھنا دنیا کے لیے کوئی نئی بات نہین۔ اور دنیا کے مردون نے خندہ پیشانی (وہ بھی جن کی پیشانی اپنے حدود کو پھیلاکر تالو سے جاملی ہے) سے قبول کیاہے۔

 

ہم دنیا کے شریف اور سمجھدار مردوں کی نمائندگی کرتے ہوئے بلا جھجک یہ اعتراف کرتے ہیں کہ “درون خانہ” کی سیاست میں ہمیشہ سے خاتون خانہ ہی کی بالادستی رہی ہے۔ اور مرد ہمیشہ کمزور اپوزیشن کی بحیثیت میں رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button