جنرل نیوز

رمضان کی رونقوں میں سرینواس پور میں سموسوں کی دھوم 

سرینواس پور( شبیر احمد) : اسلام کے مقدس ترین مہینے رمضان المبارک میں سرینواس پور میں کاروباری سرگرمیوں میں غیر معمولی چہل پہل دیکھنے میں آرہی ہے۔ بالخصوص افطار کے موقع پر استعمال ہونے والی اشیائے خوردونوش میں سموسوں کو مرکزی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ اندازوں کے مطابق شہر میں روزانہ 25 سے 30 ہزار سموسے فروخت ہو رہے ہیں، جو ایک چھوٹے شہر کے لحاظ سے قابلِ ذکر بات ہے۔

 

رمضان المبارک میں مسلمان صبح صادق سے غروب آفتاب تک روزہ رکھتے ہیں اور مغرب کے وقت افطار کے ذریعے روزہ کھولتے ہیں۔ افطار میں کھجور، پھل، روح افزا مشروب، گنجی (آش) کے ساتھ گرم گرم سموسے لازمی جزو بن چکے ہیں۔ روزہ کے بعد گرم اور لذیذ غذاؤں کی رغبت کے باعث سموسوں کی مانگ میں ہر سال اضافہ ہو رہا ہے۔

 

اگرچہ بعض گھرانوں میں سموسے تیار کیے جاتے ہیں، لیکن مصروف طرزِ زندگی اور بازار میں تازہ اور معیاری اشیاء کی فوری دستیابی کے سبب زیادہ تر لوگ بازار سے خریداری کو ترجیح دے رہے ہیں۔ چنانچہ شام چار بجے کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں سموسوں کی دکانوں پر خریداروں کا ہجوم نظر آتا ہے۔

 

آزاد روڈ، جامعہ مسجد کے اطراف، صوفیہ مسجد، ذاکر حسین محلہ، چنتامنی روڈ اور نورانی مسجد کے قریب واقع تجارتی علاقوں میں افطار سے قبل غیر معمولی بھیڑ دیکھی جا رہی ہے۔ افطار کے وقت کے قریب خریداروں کی قطاریں طویل ہو جاتی ہیں اور بعض دکانوں پر ایک گھنٹے میں ہزاروں سموسے فروخت ہو جاتے ہیں۔قریب و جوار کے دیہات سے بھی لوگ افطار کے لیے سموسے اور دیگر اشیاء خریدنے شہر کا رخ کر رہے ہیں، جس سے بازاروں میں عید جیسا سماں پیدا ہو جاتا ہے۔ گاڑیوں کی آمدورفت میں اضافہ اور سڑکوں پر گہما گہمی نمایاں طور پر محسوس کی جا رہی ہے۔

 

فی الحال پیاز کے سموسے دس روپے فی عدد کے حساب سے فروخت کیے جا رہے ہیں۔ بعض مقامات پر سائز اور مصالحہ کے اعتبار سے قیمت میں معمولی فرق بھی ہے۔ تاہم صارفین ذائقہ، معیار اور تازگی کو مدنظر رکھتے ہوئے اطمینان سے خریداری کر رہے ہیں۔ مقامی دکانداروں نثار احمد گبّڈ کا کہنا ہے کہ گرم اور خستہ سموسے ہماری پہچان ہیں، صارفین کا اعتماد ہی ہماری اصل کامیابی ہے۔

 

سموسوں کی تیاری کا عمل صبح ہی سے شروع ہو جاتا ہے۔ پیاز کاٹنے، مصالحہ تیار کرنے، آٹا گوندھنے اور پُر تیار کرنے جیسے مراحل منظم طریقے سے انجام دیے جاتے ہیں۔ دوپہر تک ابتدائی تیاری مکمل ہو جاتی ہے اور شام چار بجے کے بعد بڑے بڑے کڑاہوں میں مسلسل تلنے کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ بعض مقامات پر ایک وقت میں چار تا پانچ بڑے کڑاہوں میں سموسے تلتے دیکھے جا سکتے ہیں۔

 

تاجروں کے مطابق رمضان میں ان کا کام عام دنوں کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ جہاں عام دنوں میں ایک ہزار کے قریب فروخت ہوتی ہے، وہیں رمضان میں یہ تعداد کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ افطار کے وقت صارفین کو تاخیر نہ ہو، اس کے لیے وقت کی پابندی کا خاص خیال رکھا جا رہا ہے۔سموسوں کے اس کاروبار سے نہ صرف دکانداروں کو بلکہ بالواسطہ طور پر دیگر شعبوں کو بھی فائدہ پہنچ رہا ہے۔ تیل، پیاز، مٹر ، ہرا دھنیا ، آٹا، مصالحہ جات اور پیکنگ سامان فروخت کرنے والوں کی آمدنی میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ یومیہ مزدوروں، معاونین اور پیکنگ کرنے والوں کو اضافی روزگار میسر آ رہا ہے۔

 

بعض افراد عارضی طور پر سموسوں کی تیاری اور فروخت میں شامل ہو کر اپنے گھریلو اخراجات میں مدد کر رہے ہیں۔ خاص طور پر نوجوان طبقہ اس دوران دکانوں میں بطور معاون کام کر رہا ہے، جبکہ بعض طلبہ بھی شام کے اوقات میں جز وقتی ملازمت اختیار کر کے اپنے تعلیمی اخراجات پورے کر رہے ہیں۔

 

رمضان المبارک عموماً 29 یا 30 دنوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اگر روزانہ اوسطاً 25 تا 30 ہزار سموسے فروخت ہوں تو ماہ کے اختتام تک مجموعی فروخت آٹھ سے نو لاکھ تک پہنچنے کا امکان ہے۔ اس طرح رمضان کا مہینہ سرینواس پور کی مقامی معیشت میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔

 

رمضان المبارک کی مذہبی اہمیت بھی مسلمہ ہے۔ اسی مقدس مہینے میں قرآن مجید نازل ہوا۔ روزہ اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک ہے، جو ضبطِ نفس، نظم و ضبط اور ہمدردی کا درس دیتا ہے۔ دن بھر کی بھوک و پیاس انسان کو غریبوں کی مشکلات کا احساس دلاتی ہے اور معاشرے میں خیرات، بھائی چارہ اور باہمی تعاون کو فروغ ملتا ہے۔

 

 

مجموعی طور پر رمضان المبارک نہ صرف روحانی فضا کو معطر کر رہا ہے بلکہ سماجی اور اقتصادی سرگرمیوں کو بھی تقویت دے رہا ہے۔

 

 

متعلقہ خبریں

Back to top button