جنرل نیوز

اردو صحافت اور سیاست — اہمیت، ناقدری اور درکار تعاون (ایک تجزیہ) صحافی خضر احمد یافعی

اردو صحافت اور سیاست — اہمیت، ناقدری اور درکار تعاون (ایک تجزیہ) صحافی خضر احمد یافعی

 

عادل آباد۔ 22/فروری (اردو لیکس)

صحافت اور سیاست لازم و ملزوم سمجھے جاتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں، منتخب عوامی نمائندے اور سماجی قائدین اپنی پالیسیوں، بیانات اور کارکردگی کو عوام تک پہنچانے کے لیے میڈیا ہی کا سہارا لیتے ہیں۔ پریس کانفرنس، اخباری بیانات، انٹرویوز اور مباحث — سب سیاست کے اظہار کے بنیادی ذرائع ہیں۔ اس تناظر میں صحافت کے بغیر سیاست کی معنویت ادھوری محسوس ہوتی ہے۔

تاہم عملی صورتِ حال میں ایک واضح تفاوت دکھائی دیتا ہے۔ اکثر اضلاع میں یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ تلگو اخبارات، تلگو نیوز چینلز اور وہاں کے صحافیوں کو انتخابی ادوار میں نمایاں مالی سرپرستی ملتی ہے۔ پارلیمانی، اسمبلی یا بلدیاتی انتخابات کے موقع پر اشتہارات کی مد میں خطیر رقوم خرچ کی جاتی ہیں۔ اس کے برعکس اردو اخبارات، اردو نیوز چینلز اور اردو صحافی اکثر نظرانداز رہ جاتے ہیں، اور بعض اوقات محض محدود پیڈ نیوز یا معمولی اعزازیہ تک بات محدود رہتی ہے۔

ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا کے دور میں یہ تاثر عام ہوا کہ روایتی اخبارات کی اہمیت کم ہو گئی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ مستند خبر کی تلاش میں آج بھی عوام کی بڑی تعداد پیشہ ور صحافیوں اور معتبر اداروں پر اعتماد کرتی ہے۔ کئی اضلاع میں اردو صحافی سوشل میڈیا پر بھی متحرک ہیں اور ان کے فالورز کی تعداد قابلِ ذکر ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اردو صحافت کی رسائی اور اثر پذیری برقرار ہے۔

سیاسی منظرنامے میں دیکھا جائے تو حکمران اور اپوزیشن، دونوں طبقات اپنی آواز عوام تک پہنچانے کے لیے صحافیوں کا سہارا لیتے ہیں۔ الزامات، جوابی الزامات اور وضاحتیں میڈیا کے ذریعے ہی عام کی جاتی ہیں۔ لیکن انتخابی مہم کے دوران جہاں دیگر سرگرمیوں پر کثیر رقم خرچ کی جاتی ہے، وہیں صحافتی خدمات کا اعتراف اور ان کی مناسب اعانت اکثر پسِ پشت چلی جاتی ہے۔

یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ بیشتر اردو صحافی محدود وسائل کے باوجود میدانِ عمل میں سرگرم رہتے ہیں۔ ذاتی و خاندانی ضروریات کو پسِ پشت ڈال کر خبریں جمع کرنا، پروگراموں کی کوریج کرنا اور عوام تک بروقت معلومات پہنچانا ایک ذمہ دارانہ خدمت ہے۔ صحافت محض ذریعہ معاش نہیں بلکہ ایک عوامی امانت بھی ہے، جس میں دیانت، غیر جانب داری اور پیشہ ورانہ اصول بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

ایسے حالات میں سیاسی، سماجی اور مذہبی جماعتوں کے ذمہ داران کے ساتھ ساتھ معاشی طور پر مستحکم طبقے کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ دیانت دار اور زمینی سطح پر کام کرنے والے صحافیوں کی عملی معاونت پر غور کریں۔ یہ تعاون کسی سیاسی مفاد کے تحت نہیں بلکہ پیشہ ورانہ استحکام اور آزاد صحافت کے فروغ کے لیے ہونا چاہیے۔

آزاد اور باوقار صحافت ہی صحت مند جمہوریت کی ضامن ہوتی ہے۔ اگر صحافی معاشی دباؤ سے آزاد ہوں گے تو وہ زیادہ دیانت داری اور جرأت کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے سکیں گے۔ اردو صحافت کی بقا اور ترقی کے لیے اجتماعی شعور، منصفانہ رویہ اور عملی تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button