مضامین

رمضان کی رونقیں: ممبئی کے مضافات میں ایمان، اخوت اور تہذیب کا دلکش منظرنامہ

ممبئی 23 فروری / اپنی تیز رفتار زندگی، کثیرالثقافتی شناخت اور مذہبی ہم آہنگی کے لیے دنیا بھر میں معروف ہے، لیکن ماہِ رمضان آتے ہی اس شہر کی فضا یکسر بدل جاتی ہے۔ عبادت، تلاوت، تراویح، افطار اور خیرات کا ایسا روح پرور منظر سامنے آتا ہے جو ممبئی کی اصل روح کو آشکار کر دیتا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں رمضان کی نمایاں رونقیں جزیرہ نما ممبئی کے بجائے مضافاتی مسلم اکثریتی علاقوں میں زیادہ دکھائی دیتی ہیںجہاں مساجد آباد اور بازار روشن نظر آتے ہیں۔

 

جزی جزیرہ نما ممبئی جسے شہر کا اصل حصہ کہا جاتا ہے جنوب میں قلابہ سے ماہم اور قلابہ سے سائن تک تقریباً پندرہ کلومیٹر کے دائرے میں پھیلا ہوا ہے۔ تاہم باندرہ اور سائن کے بعد مغربی و مشرقی مضافات کا آغاز ہوتا ہے، جہاں مسلم آبادی کی بڑی تعداد آباد ہے اور رمضان کی رونقیں اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہیں۔باندرہ مغرب ایک متمول علاقہ مانا جاتا ہے، مگر اس کے کئی حصوں میں مسلمانوں کی بڑی آبادی بستی ہے۔ باندرہ اسٹیشن سے ایس وی روڈ تک اور باندرہ بیسٹ ڈپو کے اطراف جماعت جمہوریہ کی گنجان مسلم آبادی آباد ہے جو شمال میں باندرہ تالاب تک پھیل چکی ہے۔ باندرہ ایسٹ کی بہرام نگر، غریب نگر، خواجہ غریب نواز نگر، کھیر نگر اور باندرہ کورٹ جیسے علاقوں میں رمضان کے دوران مساجد اور گلیاں عبادت گزاروں سے بھر جاتی ہیں۔

 

یہاں کی جھوپڑ بستیوں اور ایس آر اے عمارتوں میں ریڈی میڈ کپڑوں، زردوزی اور روزمرہ اشیاء کے گھریلو کارخانے چلتے ہیں۔ یوپی، بہار اور بنگال سے آئے مزدور رمضان میں دن بھر محنت کے بعد افطار کے اجتماعی دسترخوانوں میں شریک ہوتے ہیں، جو اخوت کا خوبصورت منظر پیش کرتے ہیں۔کارٹر روڈ، ہل روڈ، بینڈ اسٹینڈ اور پالی ہل جیسے علاقے باندرہ مغرب کی شناخت ہیں۔ ایس وی روڈ پر واقع انجمن اسلام محمد اسحق جمخانہ والا گرلز ہائی اسکول و جونیئر کالج میں ہزاروں طالبات زیر تعلیم ہیں۔ باندرہ بازار میں قصاب برادری کی اکثریت آباد ہے اور اسی کے مقابل تاریخی جامع مسجد واقع ہے، جو بکرقصاب جماعت ٹرسٹ کے زیر انتظام ہے۔ نماز جمعہ میں دو سے ڈھائی ہزار نمازیوں کی موجودگی اس کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔

 

ایک زمانے میں لکی ہوٹل میں خصوصی افطار اور ادبی جلسہ و مشاعروں کی روایت تھی، جو پروفیسر زیدی کے انتقال کے بعد موقوف ہو گئی۔ کارٹر روڈ پر رضوی کالج اور رضوی ایجوکیشن کمپلیکس تعلیمی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اختر رضوی کی زمہ داری ان کی اہلیہ روبینہ رضوی نے سنبھال لی ہے۔پالی ہل کے علاقے میں فلمی دنیا کی نامور شخصیات کی رہائش گاہیں واقع ہیں۔ یہاں شہنشاہِ جذبات دلیپ کمار کے بنگلے میں افطار کا خصوصی اہتمام کیا جاتا تھا، جہاں ان کی اہلیہ سائرہ بانو مہمانوں کی تواضع کرتیں۔ آج وہ روایت تو باقی نہیں رہی، مگر زکوٰۃ اور خیرات کا سلسلہ جاری ہے۔

 

پالی گاؤں میں مرحوم سماجی رہنما بابو قریشی کے فرزند ایڈوکیٹ خالد بابو قریشی (سابق رکن مہاراشٹر وقف بورڈ) اور عمران بابو قریشی سماجی و تعلیمی میدان میں سرگرم ہیں۔ اسی علاقے میں آئی ٹی صنعت سے وابستہ اور کانگریس کے سینئر رہنما آصف فاروقی بھی مقیم ہیں، جو اے ایم یو اور جامعہ ملیہ کے سینیٹ ممبر رہ چکے ہیں۔ ان کے دفتر کے احاطے میں قائم مسجد میں پانچوں وقت نماز ادا کی جاتی ہے اور رمضان میں خصوصی افطار کا اہتمام کیا جاتا ہے۔باندرہ سے سانتاکروز تک جانے والی شاہراہ پر جوہو گارڈن کی خوبصورت مسجد واقع ہے، جس کے عقب میں قبرستان ہے۔ یہاں دلیپ کمار، معروف شاعر مرجوح سلطانپوری، علی سردار جعفری ، گلوکار محمد رفیع اور اداکار اور دیگر معروف فن کار مدفون ہیں۔

 

ارلا مسجد اور اس سے منسلک مدرسہ ہر سال طلبہ کو دینی تعلیم سے آراستہ کرتا ہے۔میڈکے میڈیکل کمپنی کے مالک اور سابق صدر انجمن اسلام مرحوم سمیع خطیب کی جانب سے منعقد ہونے والی افطار اور عید ملن تقریبات فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی روشن مثال تھیں۔ ان کے شاندار بنگلہ میں جشن کا سماں رہتاتھا۔یہاں مصطفی پنجابی کی قیادت میں مجروح اکیڈمی کی سماجی و تعلیمی سرگرمیاں بھی قابل ذکر ہیں۔اندھیری اسٹیشن روڈ کی مسجد کو مقامی دکانداروں اور پھیری والوں نے آباد رکھا ہے۔ نور مسجد ڈونگر گاؤں ایک قدیم مسجد ہے اور اس کے اطراف رمضان میں گہماگہمی بڑھ جاتی ہے۔ سابق کارپوریٹر محسن حیدر اور ان کی اہلیہ، جو خواتین کے مخصوص حلقہ سے منتخب ہوئیں، مستحقین کے لیے افطار و سحری کا اہتمام کرتے ہیں۔

 

جوگیشوری میں میمن اور چلیا مسلم برادری کی بڑی تعداد آباد ہے۔ اللہ والی مسجد اور مدنی مسجد (تبلیغ جماعت مرکز) رمضان میں نمازیوں سے بھر جاتی ہیں۔ سہکار روڈ، مومن نگر اور بہرام باغ میں تیزی سے ترقی ہوئی ہے اور آبادی میں اضافہ ہوا ہے۔چلیا مسلم برادری کی ہوٹلوں میں افطار اور سحری کے خصوصی پکوان تیار کیے جاتے ہیں، جو علاقے کی ثقافتی شناخت بن چکے ہیں۔ جوگیشوری سے گورے گاؤں اوشیوارہ پل تک مسلم آبادی پھیلی ہوئی ہے، جہاں متمول اور پسماندہ طبقات ایک ساتھ رمضان کی برکتوں سے مستفید ہوتے ہیں۔ ایئر کنڈیشنڈ مساجد کی بڑی تعداد بھی اس علاقے کی نمایاں خصوصیت ہے۔

 

اخوت اور ہم آہنگی کا پیغام

ممبئی کے مضافاتی علاقوں میں رمضان محض عبادت کا مہینہ نہیں بلکہ خدمت، سخاوت اور بھائی چارے کا عملی اظہار ہے۔ باندرہ لنکنگ روڈ پر مسلم تاجروں کے شوروم ہوں یا فٹ پاتھ پر محنت کش ہاکرز، سب مل جل کر افطار کا اہتمام کرتے ہیں۔ نماز عصر کے بعد دسترخوان بچھتے ہیں، جہاں روزہ دار اور راہ گیر بلا امتیاز شریک ہوتے ہیں۔

 

یہ مناظر اس بات کا ثبوت ہیں کہ ممبئی کی مصروف ترین زندگی بھی رمضان میں روحانیت کے سامنے سر جھکا دیتی ہے۔ مضافات کی مساجد، مدارس، بازار اور گلیاں اس مقدس مہینے میں ایمان، اتحاد اور انسانیت کا پیغام عام کرتی ہیں۔ یہی وہ روح ہے جو ممبئی کو محض ایک میٹروپولیٹن شہر نہیں بلکہ تہذیبی ہم آہنگی کی زندہ مثال بناتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button