ایجوکیشن

25 فروری سے انٹرمیڈیٹ کے سالانہ امتحانات کا آغاز پانچ اصول… بہترین نتائج امتحانات کے دوران طلبہ کے لیے ماہرین کا مفید مشورہ

از قلم: حافظ چاند پاشاہ 

لیکچرر معاشیات

گورنمنٹ جونیر کالج نارائن پیٹ 

 

نارائن پیٹ ( اردو لیکس)

ریاست تلنگانہ میں 25 فروری سے انٹرمیڈیٹ کے سالانہ امتحانات کا آغاز ہو رہا ہے۔ یہ دن ہر طالب علم کی تعلیمی زندگی میں نہایت اہمیت رکھتے ہیں۔ انہی امتحانات کی بنیاد پر مستقبل کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ سمت کا تعین ہوتا ہے۔ ماہرینِ تعلیم کا کہنا ہے کہ بہترین نتائج حاصل کرنے کے لیے صرف زیادہ وقت تک پڑھنا کافی نہیں، بلکہ منظم منصوبہ بندی، ذہنی سکون اور خود اعتمادی کے ساتھ تیاری کرنا ہی کامیابی کی اصل کنجی ہے۔

امتحانات کی تیاری کے دوران طلبہ جسمانی اور ذہنی طور پر تھکاوٹ محسوس کرتے ہیں۔ بعض اوقات منفی خیالات، خوف اور بے چینی بھی ان پر حاوی ہو جاتی ہے، جو ایک فطری عمل ہے۔ تاہم اگر طالب علم ان حالات میں صبر، حوصلہ اور مثبت سوچ کے ساتھ خود کو سنبھالیں اور پرسکون ماحول میں امتحانات دیں تو کامیابی ان کا مقدر بن سکتی ہے۔ منصوبہ بندی اور خود اعتمادی کے ساتھ آگے بڑھنے والے طلبہ ہی اپنے مطلوبہ اہداف حاصل کرتے ہیں۔

اساتذہ اور والدین کا کردار

اساتذہ کو چاہیے کہ وہ طلبہ کو رینک یا نمبروں کے نام پر غیر ضروری دباؤ میں نہ ڈالیں۔ ہر طالب علم کی صلاحیت مختلف ہوتی ہے، اس لیے اس کی انفرادی استعداد کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے مطالعہ کے انداز، روزمرہ معمولات اور خوراک پر توجہ دیں۔

گھر کا ماحول دوستانہ اور حوصلہ افزا ہونا چاہیے۔ بچوں سے بار بار سختی کے ساتھ سوالات کرنے یا ڈانٹ ڈپٹ کرنے کے بجائے نرمی اور محبت سے گفتگو کی جائے۔ ان کی حوصلہ افزائی کی جائے کہ وہ خود اعتمادی کے ساتھ امتحانات کی تیاری کریں اور اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھیں۔

وہ باتیں جن سے گریز ضروری ہے

# طلبہ کا دوسروں سے موازنہ نہ کیا جائے۔

# ان پر غیر حقیقی توقعات مسلط نہ کی جائیں۔

# امتحانات کے دوران متوازن اور بھرپور غذا کا اہتمام کیا جائے۔

# ان کی ضروریات کا خیال رکھا جائے اور انہیں ذہنی دباؤ سے بچایا جائے۔

یاد رکھیں کہ دباؤ اور خوف کارکردگی کو متاثر کرتے ہیں، جبکہ اعتماد اور سکون کامیابی کی راہ ہموار کرتے ہیں۔

*خوبصورت لکھاوٹ کی اہمیت*

امتحانات میں خوبصورت اور واضح لکھاوٹ بھی اچھے نمبر حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ حروف صاف، گول اور مناسب سائز میں لکھے جائیں۔ الفاظ کے درمیان مناسب فاصلہ رکھا جائے اور غیر ضروری کاٹ پیٹ سے گریز کیا جائے۔ صاف ستھرا اور منظم پرچہ ممتحن پر مثبت اثر ڈالتا ہے۔

*کامیابی کے پانچ اصول*

1۔ ذہنی سکون

طلبہ کی ذہنی حالت متوازن اور مثبت ہونی چاہیے۔ تیاری کے دوران غیر ضروری پریشانی سے بچیں اور اعتماد کے ساتھ آگے بڑھیں۔ شکوک و شبہات دور کریں اور گروپ ڈسکشن کے ذریعے اپنے مسائل کا حل تلاش کریں۔

2۔ پختہ یقین

کسی بھی مضمون میں مہارت حاصل کرنے کے لیے مسلسل محنت ضروری ہے۔ سب سے پہلے اپنے آپ پر یقین رکھیں کہ آپ کامیاب ہو سکتے ہیں۔ مقصد کے حصول کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو عزم اور حوصلے سے دور کریں۔

3۔ ارتکاز (توجہ)

مطالعہ کے دوران مکمل توجہ مرکوز رکھیں۔ ذہن کو ادھر ادھر بھٹکنے سے روکیں۔ روزانہ کچھ دیر مراقبہ یا گہری سانسوں کی مشق کرنے سے ارتکاز میں اضافہ ہوتا ہے۔

4۔ نظم و ضبط

امتحانات کے دوران سوشل میڈیا، موبائل فون اور ٹی وی کے استعمال کو محدود کریں۔ وقت کی قدر کریں اور ایک باقاعدہ ٹائم ٹیبل کے مطابق تیاری کریں۔ نظم و ضبط ہی کامیاب طلبہ کی پہچان ہے۔

5۔ مثبت نقطۂ نظر

نشہ آور اشیاء اور غیر صحت مند سرگرمیوں سے دور رہیں۔ کتابوں سے دوستی کریں اور مشکل مضامین پر خصوصی توجہ دیں۔ اساتذہ اور والدین کو چاہیے کہ وہ ایسا سازگار ماحول فراہم کریں جس میں طلبہ پوری یکسوئی سے مطالعہ کر سکیں۔

نتیجہ

امتحانات زندگی کا ایک مرحلہ ہیں، پوری زندگی نہیں۔ اگر طلبہ ذہنی سکون، پختہ یقین، ارتکاز، نظم و ضبط اور مثبت نقطۂ نظر کے پانچ اصولوں پر عمل کریں تو کامیابی یقینی ہے۔ اساتذہ اور والدین کا تعاون اور حوصلہ افزائی اس سفر کو مزید آسان بنا سکتی ہے۔

یاد رکھیں، محنت کبھی ضائع نہیں جاتی۔ اعتماد، مستقل مزاجی اور مثبت سوچ کے ساتھ امتحانات کا سامنا کریں، کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button