دو نوجوانوں کا بے دردانہ قتل ذمہ دار کون؟

ڈاکٹر علیم خان فلکی
صدرسوشیوریفارمس سوسائٹی آف انڈیا

ایک پہاڑ سے ٹوٹا ہوا پتھر جس تیزی سے نیچے آتا ہے، جسے روکنا ممکن نہیں ہوتا، امت اخلاقی طور پر اسی تیزی سے نیچے آرہی ہے۔ دو نوجوانوں کا بے دردی سے قتل کردیا گیا۔ ایک 22 سال کا، دوسرا 27 سال کا۔ دو نوجوانوں نہیں بلکہ دو خاندانوں اور نسلوں کو قتل کردیاگیا۔ ماں باپ کے نورِ نظر چلے گئے، دو گھروں کے چراغ گُل ہوگئے۔ اس اندھیرے سے ان گھروں کو نکلنےمیں سالہاسال لگ جائیں گے۔
یہ قتل نارتھ انڈیا میں فاشسٹوں نے دھارمک نعرے لگا کر نہیں کئے بلکہ آپ کے محبتوں کے شہر حیدرآباد میں خود بہادر مسلمانوں نے کئے ہیں۔ اُن بہادروں نے جو کسی بھگوا غنڈے سے ڈر کرتو چوہوں کی طرح بِلوں میں گھس جاتے ہیں، لیکن اپنوں سے ذرا سی رنجش ہوجائے تو کتّوں کی طرح ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑتے ہیں، ہوسکتا ہے کتّوں کو بے عزّتی محسوس ہو، لیکن صورتِ حال یہی ہے۔سب سے زیادہ شرم کی بات تو یہ ہے کہ دونوں قتل ماہِ رمضان میں ہوئے ہیں۔ قاتل بھی نمازی، روزے دار، ٹوپیاں پہن کر تراویح کو جانے والے، اور مقتول بھی۔
سوشیل میڈیا پر دانشورانہ تبصروں کی بھرمار ۔ کوئی پولیس کو کوس رہا ہے کوئی ماں باپ کی تربیت پر انگلی اٹھا رہا ہے، کوئی مقامی سیاسی پارٹی پر الزام دھر رہا ہے تو کوئی ایجوکیشن ایجوکیشن کی رٹ لگارہا ہے۔ آیئے حل کی بات کرتے ہیں۔ اصل سبب یہ ہے کہ نوجوانوں کی اجتماعی تربیت کا عہد ختم ہوچکا ہے۔ اس عہد کو ختم کرنے والوں کا پہلے خاتمہ کرنا ہوگا۔آج سے بیس پچیس سال پہلے تک بھی ایک دیندار معاشرہ تھا۔ ضمیرِ اجتماعی زندہ تھا۔ ہر کام کرنے سے پہلے آخرت کا تصوّر باقی تھا۔ جب سے آخرت کا تصوّرذہنوں سے ختم ہوا ، نوجوان نسل یا تو Atheismکی طرف بڑھ رہی ہے یا پھر عیش کی زندگی اور پاؤر حاصل کرنے کو ہی زندگی کا مقصد سمجھ کر جانوروں جیسی زندگی گزارنےمیں مست ہے۔
بیس پچیس سال پہلے کا ماحول ذرا یاد کیجئے۔ جب تبلیغی جماعت پوری آزادی سے گھرگھرگلی گلی جاکر دین کی محنت کرتی تھی۔ پی ایف آئی، جماعت اسلامی ، ڈاکٹراسرار احمد وغیرہ کے دروسِ قرآن سے لوگ قرآن کے قریب ہوتے تھے۔ اہلِ حدیث کا مشن توحید پورے اخلاص سے سرگرم تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ کچھ ایماندار صوفی اور پیر تزکیہ نفس اور اذکار کی محفلوں کے ذریعے اجتماعی تربیت کا بہترین ذریعہ تھے۔ اِن جماعتوں اور سلسلوں سے جڑے ہوئے ہزاروں لوگ اگر نہ جُڑے ہوتے تو شائد ان میں سے کئی آج قاتل اور لٹیرے ہوتے۔ کس نے اِس اجتماعی تربیت یا اجتماعیت کا خاتمہ کیا؟ اِس کا ذمہ دار ہر وہ شخص ہے جس نے مسلکیت اور فرقہ واریت پھیلائی۔ جس نے تبلیغی جماعت پر کیچڑ اچھالا اوراُن کا مسجدوں میں آنا بند کروایا، جس نے بھگوا کی ہمنوائی کرتے ہوے پی ایف آئی کو انتہا پسند سمجھا، جس نے جماعت اسلامی اور ڈاکٹر اسرار احمد جیسوں کے خلاف گستاخِ رسول اور گستاخِ صحابہ ہونے کا پروپیگنڈا کرکے عوام کو ان سے دور کیا ۔
اہلِ حدیث کو وہابڑے جیسے خطابات دے کر انہیں اجبنی بنا دیا، جس نے جعلی پیروں اور مرشدوں کی غلط کاریوں کو بے نقاب تو کیا، لیکن ان کے ساتھ ساتھ اُن حقیقی معرفتِ الٰہی رکھنے والے متقی صوفیوں پر بھی مشرک کافر اور بدعتی کے فتوے جڑ دیئے۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے دیندار بھی اور بے دین بھی سارے کے سارے جیبوں میں ایک دوسرے کی جماعت اور سلسلہ کے خلاف جیبوں میں فتوے لے کر گھومنے لگے۔ دین کی حقیقی دعوت مشکوک ہوگئی ، رفتہ رفتہ ہر ہر شخص دین اور آخرت کی رسّی توڑ کر بھاگنے لگا۔ ہر شخص اپنی اپنی جگہ بہت بڑا عالم، مفتی ، دانشور،اور لیڈر بن گیا۔
جب مسجد میں سارے امام جمع ہوجائیں لیکن مقتدی بننے کوئی تیار نہ ہو تو جو حال ہوگا وہی حال آج امت کا ہوچکاہے۔ اب بھی وقت ہے۔ حل یہی ہے کہ پھر ان جماعتوں اور سلسلوں کا دعوتی اور تربیتی کام زور و شور سے شروع ہوجائے۔ ایک دوسرے کے خلاف جو بھی تعصّب ، تکفیر یا تحقیر برتیں ، اُن کا گلا دبا دیا جائے، ان کا سماجی بائیکاٹ کیا جائے چاہے وہ کتنے ہی بزرگ ہوں، چاہے کتنے ہی بڑے اکابرین میں ان کا شمار ہوتا ہو۔ یہی لوگ امت کے اتحاد کی سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ ان کی مریدی، یا اندھی عقیدتمندی سے باہر نکل کر ہمیں امت کی اجتماعی فلاح اور تصوّرِ آخرت کو پھر سے زندہ کرنا ہوگا
اور قرآن نے مومن کی جو تصویر کھینچی ہے کہ اشدّا علی الکفار رحما بینھم، اس کو اپنی زندگی کا مقصد اور آخرت میں کامیابی کا اصل ذریعہ بنانا ہوگا۔


