انتخابات، قیادت اور اردو میڈیا — ایک تعمیری تجزیہ

صحافی خضر احمد یافعی
عادل آباد۔ 25/فروری (اردو لیکس)جمہوری نظام میں انتخابات خواہ اسمبلی کے ہوں، پارلیمانی یا بلدیاتی، ہر مرحلہ عوامی رائے کی ترجمانی کا ذریعہ ہوتا ہے۔ خصوصاً مسلمان آبادی والے حلقوں میں ہر انتخابی معرکہ غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے، جہاں جیت اور ہار کے تذکرے، سیاسی جوڑ توڑ اور قیادت کے دعوے زور پکڑ لیتے ہیں۔
مشاہدہ کیا گیا ہے کہ انتخابی مہم کے دوران امیدوار ووٹرس کو متوجہ کرنے، ناراض حلقوں کو منانے اور سیاسی مخالفین کا اثر کم کرنے کے لئے خطیر رقم خرچ کرتے ہیں۔ اسی ماحول میں بعض خود ساختہ مسلم قائدین اپنے اثر و رسوخ کا حوالہ دیتے ہوئے امیدواروں سے بڑی رقومات لینے کا دعویٰ کرتے ہیں، یہ کہتے ہوئے کہ وہ ووٹرس اور میڈیا بالخصوص اردو میڈیا میں تشہیر پر یہ رقم خرچ کریں گے۔
تاہم زمینی حقیقت اکثر اس دعوے سے مختلف نظر آتی ہے۔ ووٹرس تک کسی حد تک وسائل پہنچائے جاتے ہیں، مگر اردو صحافیوں اور مقامی اردو میڈیا اداروں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ میڈیا کے نام پر حاصل کی گئی رقم کا شفاف استعمال نہ ہونے سے نہ صرف صحافت متاثر ہوتی ہے بلکہ قوم کے اعتماد کو بھی ٹھیس پہنچتی ہے۔
اگر مسلم قائدین کو واقعی قوم و ملت کا نمائندہ اور ہمدرد سمجھا جائے تو ان پر لازم ہے کہ وہ میڈیا کو محض انتخابی ضرورت نہ سمجھیں۔ انتخابات کے دوران اردو اخبارات، رپورٹرز اور کیمرہ پرسن دن رات محنت کرتے ہیں، مگر بدلے میں انہیں صرف رسمی دعوتوں یا وقتی تسلیوں پر ٹال دینا ناانصافی ہے۔
ریاست تلنگانہ کے متعدد اضلاع، خصوصاً عادل آباد میں گزشتہ اسمبلی اور بلدیاتی انتخابات کے دوران مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے ووٹرس کو متوجہ کرنے کے لئے بڑے پیمانے پر لاکھوں کروڑوں روپئے خرچ کئے گئے۔ لیکن اردو میڈیا کو خاطر خواہ توجہ نہ ملنا ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔
یہ حقیقت فراموش نہیں کی جانی چاہیے کہ صحافت اور سیاست ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ ایک فعال، باوقار اور خودمختار میڈیا ہی جمہوریت کو متوازن رکھتا ہے۔ بغیر صحافت کے سیاست کی سمت متعین نہیں ہو سکتی، اور بغیر شفاف سیاست کے صحافت کا وقار برقرار نہیں رہتا۔
تعمیری تنقید کا تقاضا یہی ہے کہ مسلم قیادت اور سیاسی جماعتیں انتخابی موسم میں ہی نہیں بلکہ مستقل بنیادوں پر اردو میڈیا کو مضبوط بنانے، اس کے مسائل سننے اور شفاف مالی تعاون کے نظام کو رائج کرنے کی پہل کریں۔ اسی میں قوم کا مفاد، جمہوریت کی بقا اور سیاست کی ساکھ مضمر ہے۔



