تلنگانہ

یونائٹیڈ مسلم فورم کا بانسواڑہ واقعہ میں شرپسندوں کو سبق سکھانے، ویمل واڑہ میں درگاہ شریف کی منتقلی کے خلاف سخت کاروائی کرنے کا مطالبہ 

تلنگانہ میں فرقہ پرست سرگرمیوں میں اضافہ تشویشناک

یونائٹیڈ مسلم فورم کا بانسواڑہ واقعہ میں شرپسندوں کو سبق سکھانے، ویمل واڑہ میں درگاہ شریف کی منتقلی کے خلاف سخت کاروائی کرنے کا مطالبہ 

 

حیدرآباد 25 فروری (پریس نوٹ) یونائٹیڈ مسلم فورم نے تلنگانہ میں فرقہ پرست عناصر کی بڑھتی ہوتی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ریاست میں مذہبی ہم آہنگی کو متاثر کرنے والی تنظیموں اور ان کی سرپرستی کرنے والے عناصر کے خلاف سخت کاروائی کرے

 

۔ کانگریس کی حکومت میں مساجد اور درگاہوں کو مسلسل نشانہ بنایا جارہا ہے۔ حکومت کی جانب سے آنکھیں موند لینے اور خاطیوں کے خلاف عدم کاروائی سے ان کے حوصلے بلند ہیں۔ راجنا سرسلہ ضلع کے ویمل واڑہ میں درگاہ شریف کی منتقلی کے نام پر انہدامی کاروائی انتہائی قابل مذمت اور خاطیوں کے خلاف سخت ایکشن ضروری ہے،

 

ورنہ یہ ایک انتہائی خطرناک نظیر قائم ہوسکتی ہے۔ یونائٹیڈ مسلم فورم اس ضمن میں ہرگز خاموش نہیں رہ سکتا۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ ٹھوس اقدامات کے ذریعہ مسلمانوں کا اعتماد بحال کرے۔ فورم کے ذمہ داران مولانا مفتی سید صادق محی الدین فہیم (صدر)، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، مولانا سید شاہ علی اکبر نظام الدین حسینی صابری، مولانا سید شاه حسن ابراهیم حسینی قادری سجاد پاشاہ، مولانا شاہ محمد جمال الرحمن مفتاحی، مولانا محمد حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ، جناب ضیا الدین نیئر، جناب سید منیر الدین احمد مختار (جنرل سکریٹری)، مولانا سید شاہ ظہیر الدین علی صوفی قادری، مولانا سید شاہ فضل الله قادری الموسوی، مولانا محمد شفیق عالم خان جامعی، مولانا سید مسعود حسین مجتہدی، مولانا مفتی محمد عظیم الدین انصاری، مولانا سید احمد الحسینی سعید قادری، مولانا سید تقی رضا عابدی، مولانا ابوطالب اخباری، مولانا میر فراست علی شطاری ایڈوکیٹ سپریم کورٹ، مولانا عمر عابدین قاسمی مدنی، جناب ایم اے ماجد، مولانا ڈاکٹر خواجہ شجاع الدین افتخاری حقانی پاشاه، مولانا ظفر احمد جمیل حسامی، مولانا مفتی معراج الدین علی ابرار، مولانا عبدالغفار خان سلامی، مولانا سید وصی الله قادری نظام پاشاه، مولانا سید شیخن احمد قادری شطاری کامل پاشاہ، مولانا مکرم پاشاه قاری تخت نشین، جناب بادشاہ محی الدین، ڈاکٹر نظام الدین، جناب شفیع الدین ایڈوکیٹ، جناب ضیاء الدین آرکٹکٹ، مولانا سید قطب الدین حسینی صابری، ڈاکٹر مشتاق علی، جناب نعیم صوفی اور جناب خلیل الرحمٰن اور دیگر ذمہ داروں نے اپنے مشترکہ بیان میں حالیہ چند واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی شمالی ریاستوں کو فرقہ پرستی کی آگ میں جھونکنے کے بعد اب یہ تلنگانہ کے راستہ جنوبی ہند میں داخل ہونا چاہتے ہیں

 

۔ ضلع کاماریڈی کے بانسواڑہ ٹاون میں گذشتہ جمعہ کو پیش آئے واقعہ پر فورم کے ذمہ داروں نے کہا کہ منصوبہ بند طور پر مسلم تاجروں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کی دوکانات، ہوٹلیں تباہ کردی گئیں۔ پولیس کی موجودگی میں فرقہ پرست عناصر تشدد برپا کرتے رہے۔ تشدد میں ملوث خاطیوں کے خلاف ایکشن لینے کے بجائے پولیس نے الٹا متاثرہ مسلمانوں کے خلاف کیس درج کیا۔

 

گذشتہ ہفتہ ضلع یادادری بھونگیر کے جلال پور میں ایک مسجد میں گھس کر توڑ پھوڑ کی گئی، ضلع محبوب نگر کے دو مختلف منڈلوں میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ حیدرآباد میں بھی فرقہ پرست عناصر کافی سرگرم ہوچکے ہیں۔ عنبر پیٹ میں شیواجی جینتی پر جلوس میں گڑبڑ کی کوشش کی گئی۔ بانسواڑہ میں اسی جلوس میں شرپسندی اور مسلمانوں پر تشدد کیا گیا۔ شمالی ریاستوں میں سرگرم فرقہ پرست تنظیمیں اور ان کے نمائندے تلنگانہ کے مختلف علاقوں میں اپنے اجلاس اور پروگرام کے ذریعہ سماج کو بانٹنے کی کوشش کررہے ہیں. نفرت کا پرچار کرتے ہو ئے وہ مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کررہے ہیں۔ وزارت داخلہ کا قلمدان خود چیف منسٹر ریونت ریڈی کے پاس ہے۔ فرقہ پرستوں پر نظر رکھنے میں پولیس کی انٹلی جنس ناکام رہی ہے۔ چیف منسٹر نے نفرت انگیز تقاریر "ہیٹ اسپیچ” کے خلاف قانون بنانے کا اعلان کیا ہے۔

 

فورم کے ذمہ داروں نے چیف منسٹر سے مطالبہ کیا کہ وہ اسمبلی کے مجوزہ بجٹ اجلاس میں اس قانون کو متعارف کرکے منظور کریں۔

 

فورم کے ذمہ داروں نے بانسواڑہ کے واقعات کی آزادانہ تحقیقات کرانے اور متاثرین کو فوری معاوضہ جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ بےقصور افراد کی رہائی اور حقیقی شرپسندوں کے خلاف کاروائی پر زور دیا گیا۔ ریاست تلنگانہ کو ترقی کی راہ پر گامزن رکھنے کے لیے حالات کو پر امن بنائے رکھنے، سماجی بھائی چارگی کو قائم رکھنے کا مطالبہ کیا گیا۔

 

حکومت سے اپیل کی گئی کہ وہ نفرت کا بازار گرم کرنے والی تنظیموں اور ان کے سرپرستوں کے خلاف سخت کاروائی کرے۔ فورم کے ذمہ داروں نے کہا کہ رمضان المبارک کا مہینہ شروع ہوچکا ہے اس کا پہلا دہا بھی مکمل ہونے جارہا ہے، آئمہ و موذنین کو جنوری اور فروری دو ماہ کا اعزازیہ جاری کیا جائے تو اس سے انہیں عید کی تیاریوں میں مدد مل سکے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button