میمن برادری کی 507،تنظیموں کے صدر اقبال میمن آفیسرکی رمضان میں مصروفیت اورخدمتِ خلق کا جذبہ اور ملت کی مستقبل کی فکر مندی

ممبئی ،27،فروری
ملک میں میمن برادری کی سب سے نمائندہ اور فعال تنظیم آل انڈیا میمن جماعت فیڈریشن کے صدر اقبال میمن آفیسر ایک متحرک سماجی رہنما، منظم منتظم اور دردمند انسان کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ ملک اور بیرونِ ملک پھیلی ہوئی 507 میمن جماعتوں کی اس وفاقی تنظیم کے ذریعے وہ تعلیمی بیداری، فلاحی سرگرمیوں اور سماجی اصلاح کے میدان میں طویل عرصے سے سرگرم ہیں۔ ماہِ رمضان کے موقع پر ان سے ایک تفصیلی نشست ہوئی جس میں انہوں نے نہ صرف اپنے ذاتی معمولات بیان کیے بلکہ ملت کے اجتماعی مسائل، تعلیمی رجحانات اور موجودہ سماجی فضا پر بھی کھل کر اظہارِ خیال کیا۔
میمن برادری کی توجہ ہمیشہ سے تجارت، دیانت اور تعلیم کی روایت اقبال میمن آفیسر نے میمن برادری کے تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالی۔ میمن قوم کا تعلق برصغیر کے قدیم تجارتی طبقات سے رہا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ میمن حضرات اصل میں سندھ اور کچھ روایات کے مطابق کَچھ اور گجرات کے علاقوں سے تعلق رکھتے تھے۔ تجارت، دیانت داری اور تنظیمی شعور ان کی شناخت رہے ہیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد بڑی تعداد میں میمن برادری کے افراد ہندوستان کے مختلف شہروں خصوصاً ممبئی، سورت، راجکوٹ اور دیگر تجارتی مراکز میں آباد ہوئے۔
اقبال میمن آفیسر کے مطابق میمن برادری نے ہمیشہ تجارت کے ساتھ ساتھ تعلیم اور فلاحی سرگرمیوں کو بھی اہمیت دی۔ ملک بھر میں میمن جماعتوں کے زیرِ انتظام اسکول، کالج، اسکالرشپ اسکیمیں، میرج ہال، ڈسپنسریاں اور رفاہی ادارے کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ “ہماری برادری کی اصل طاقت تنظیم اور اجتماعی نظم ہے۔ اگر ہم منظم رہیں تو معاشی اور تعلیمی میدان میں بڑی کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں۔”اقبال میمن آفیسر کے نزدیک رمضان صرف عبادت کا مہینہ نہیں بلکہ زندگی کو منظم کرنے کی عملی تربیت ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کا دن سحری کے وقت تقریباً ساڑھے چار بجے شروع ہوتا ہے۔ سحری سادہ ہوتی ہے—کبھی دودھ کھچڑی، کبھی دہی کھچڑی اور کبھی دودھ میں بنی ہوئی سیویاں۔ وہ مسکرا کر کہتے ہیں، “سادگی ہی میں برکت ہے۔”
سحری کے فوراً بعد تہجد کی ادائیگی ان کے معمول کا حصہ ہے۔ اذانِ فجر کے ساتھ ہی پورا گھرانہ نماز کے لیے جمع ہو جاتا ہے۔ ان کا پوتا حافظِ قرآن ہے اور گھر میں سال بھر باجماعت نماز کا اہتمام رہتا ہے۔ ان کے بقول، “گھر میں نمازِ باجماعت کا ماحول بچوں کی تربیت میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔”نمازِ فجر کے بعد قرآنِ کریم کی تلاوت اور اشراق کی نماز ادا کرتے ہیں۔ پھر تقریباً آدھا گھنٹہ یوگا ان کی روزمرہ صحت کا حصہ ہے۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جسمانی صحت عبادت میں معاون ہوتی ہے، اس لیے صحت کا خیال رکھنا بھی دینی ذمہ داری ہے۔ کچھ دیر آرام کے بعد وہ قرآن کا ترجمہ اور تفسیر کے ساتھ مطالعہ کرتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں، “ہم قرآن کو صرف ثواب کی نیت سے نہ پڑھیں بلکہ اسے سمجھیں بھی۔ اگر کسی کا خط آئے اور ہم اسے کھولے بغیر رکھ دیں تو اس کے پیغام سے کیسے واقف ہوں گے؟ قرآن بھی اللہ کا پیغام ہے، اسے سمجھنا ضروری ہے۔”وہ اپنے بچپن کی یادوں میں کھو جاتے ہیں۔ اڑیسہ میں قیام کے دوران رمضان کا ماحول نہایت روح پرور ہوتا تھا۔ بچے ڈفلی بجاتے ہوئے سحری کے وقت پورے گاؤں کو جگاتے تھے۔ کبھی کسی کے گھر سحری کی دعوت، کبھی مسجد میں افطار کی تیاری—پھل کاٹنا، برتن دھونا، صفائی کرنا—یہ سب اجتماعی طور پر ہوتا تھا۔وہ ہنستے ہوئے کہتے ہیں کہ تراویح میں شرارتیں بھی ہوتیں اور بزرگوں کی ڈانٹ بھی، مگر وہی ماحول تربیت کا حصہ بن گیا۔ “ہم نے خدمت اور نظم وہیں سے سیکھا،” وہ یاد کرتے ہیں۔
رمضان کے دوران ان کی سب سے بڑی مصروفیت زکوٰۃ کی وصولی اور اس کی شفاف تقسیم ہوتی ہے۔ بحیثیت صدر آل انڈیا میمن جماعت فیڈریشن وہ روزانہ درجنوں درخواستوں کا جائزہ لیتے ہیں، مالی امداد کی منظوری دیتے ہیں اور مستحقین تک وسائل کی ترسیل کو یقینی بناتے ہیں۔ ان کے مطابق، “زکوٰۃ امانت ہے، اسے صحیح جگہ پہنچانا ہماری دینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔”وہ اس بات پر فخر محسوس کرتے ہیں کہ فیڈریشن کے تحت امدادی نظام کو باقاعدہ دستاویزی شکل دی گئی ہے تاکہ شفافیت برقرار رہے۔ ضرورت مند طلبہ کو اسکالرشپ، بیواؤں کو ماہانہ امداد اور بیمار افراد کے علاج کے لیے مالی تعاون فراہم کیا جاتا ہے۔
افطار کے وقت ان کی سرگرمیاں عروج پر ہوتی ہیں۔ جنوبی ممبئی میں بیگ محمد پارک میں روزانہ تقریباً ایک ہزار خواتین کے لیے افطار کا انتظام کیا جاتا ہے۔ دس ہزار لیٹر تک ٹھنڈا فلٹر شدہ پانی اور مکمل افطار باکس تقسیم کیے جاتے ہیں۔ اقبال میمن آفیسر خود اس خدمت میں شریک ہوتے ہیں اور اسے اپنی خوش نصیبی قرار دیتے ہیں۔ان کے مطابق یہ خدمت صرف مسلمانوں تک محدود نہیں بلکہ ہر ضرورت مند انسان کے لیے ہے۔تا ریخی آزاد میدان میں نصب پیاومیں پانی کی فراہمی کا انتظام بھی اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ خدمتِ خلق مذہب اور مسلک سے بالاتر ہونی چاہیے۔تعلیم کے موضوع پر اقبال میمن آفیسر خاص طور پر پُرجوش نظر آئے۔ ان کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں میں مسلمانوں میں تعلیمی شعور نمایاں طور پر بڑھا ہے، خصوصاً 1992 کے فسادات کے بعد۔ “اس سانحے نے ہمیں جھنجھوڑ دیا اور ہم نے محسوس کیا کہ اصل طاقت تعلیم ہے۔”
آج بڑی تعداد میں نوجوان ڈاکٹر، انجینئر، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ اور دیگر پیشہ ورانہ شعبوں میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ بیرونِ ملک تعلیم کا رجحان بھی بڑھا ہے—کینیڈا، آسٹریلیا، یورپ اور امریکہ کی جامعات میں ہمارے طلبہ اسکالرشپ پر جا رہے ہیں۔فیڈریشن کے زیرِ انتظام ملک بھر میں تعلیمی ادارے اور ٹریننگ سینٹر کام کر رہے ہیں جہاں خصوصاً لڑکیوں کو ہنر سکھا کر خود کفیل بنایا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے، “اگر بیٹی تعلیم یافتہ اور ہنر مند ہوگی تو پورا خاندان مضبوط ہوگا۔ معاشی خود مختاری ہی اصل بااختیاری ہے۔”
اقبال میمن آفیسر موجودہ سماجی فضا پر تشویش بھی ظاہر کرتے ہیں۔ ان کے مطابق معاشرے میں نفرت کا رجحان بڑھ رہا ہے اور ایسے ماحول میں جذباتی ردعمل کے بجائے صبر اور حکمت کی ضرورت ہے۔ “ہمیں چھوٹے مسائل میں الجھنے کے بجائے اپنی توانائی مثبت کاموں میں لگانی چاہیے۔”وہ صفائی کے مسئلے پر خود احتسابی کی بات کرتے ہیں۔ “ہمارے کئی محلوں میں صفائی کا فقدان ہے۔ ہمیں اپنے گھروں اور گلیوں کو صاف رکھنا چاہیے۔ صفائی نصف ایمان ہے، مگر ہم اس پہلو کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔”صحت کے حوالے سے بھی وہ خبردار کرتے ہیں کہ فاسٹ فوڈ، رات گئے تک جاگنا اور بے ترتیبی نوجوان نسل کو متاثر کر رہی ہے۔ موبائل فون کے بے جا استعمال پر بھی وہ فکر مند ہیں۔ ان کے مطابق موبائل مفید ذریعہ ہے مگر اس کا استعمال مثبت مقاصد کے لیے ہونا چاہیے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کی رہنمائی کریں اور گھریلو ماحول میں تعلیم اور اخلاق کو ترجیح دیں۔
گفتگو کے اختتام پر اقبال میمن آفیسر کا پیغام نہایت واضح تھا: “موجودہ دور میں ہماری اصل طاقت محبت، برداشت اور اخلاقی برتری ہے۔ تعلیم کو شعار بنائیں، صحت کو ترجیح دیں، صفائی اختیار کریں اور اپنی نئی نسل کو ہنر مند اور باکردار بنائیں۔”اقبال میمن عبادت گزار بھی ہیں منتظم بھی، اور سماجی اصلاح کا داعی بھی۔ ان کے لیے رمضان محض ایک مہینہ نہیں بلکہ ایک عملی پیغام ہے—نظم و ضبط کا، خدمتِ خلق کا، قربانی اور خود احتسابی کا۔ یہی وہ پیغام ہے جو انسان کو اپنے رب سے بھی جوڑتا ہے اور معاشرے سے بھی، اور یہی میمن برادری کی اجتماعی سوچ اور خدمات کا حاصل بھی ہے۔



