عادل آباد میں پی ڈی ایس راشن چاول کی اسمگلنگ عروج پر، اصل سرغنے اب تک قانون کی گرفت سے باہر
صحافی خضر احمد یافعی کی خاص رپورٹ
عادل آباد میں پی ڈی ایس راشن چاول کی اسمگلنگ عروج پر، اصل سرغنے اب تک قانون کی گرفت سے باہر
غریب آٹو ڈرائیورس کو لالچ اور دھمکیوں کے ذریعے استعمال کیا جانے لگا، پولیس کارروائی کے باوجود سرحدی علاقوں سے مہاراشٹر منتقلی کا سلسلہ جاری
عادل آباد۔ 27/فروری(اردو لیکس)ریاست ِ تلنگانہ کے سرحدی ضلع عادل آباد میں سرکاری رعایتی “پی ڈی ایس” راشن چاول کی غیر قانونی خرید و فروخت اور پڑوسی ریاست مہاراشٹر کو اسمگلنگ کا دھندا عروج پر پہنچ چکا ہے۔ پولیس کی جانب سے بارہا انتباہ اور گرفتاریوں کے باوجود کم وقت میں زیادہ منافع کی لالچ نے اس غیر قانونی کاروبار کو مزید تقویت دی ہے۔ ذرائع کے مطابق پی ڈی ایس راشن چاول مافیا نے منظم نیٹ ورک قائم کر رکھا ہے، جو رات کے اوقات میں سرگرم رہتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق مافیا کے اصل سرغنے خود پسِ پردہ رہتے ہوئے غریب اور مجبور آٹو ڈرائیورس کو 500 تا 1500 روپے کا لالچ دے کر انہیں استعمال کر رہے ہیں۔ آٹو اور ٹرالیوں کے ذریعے سرکاری رعایتی چاول خفیہ طور پر مختلف مقامات تک منتقل کیے جا رہے ہیں۔ سرحدی علاقوں سے مہاراشٹر کے بازاروں تک یہ چاول پہنچائے جانے کا انکشاف بھی سامنے آیا ہے۔
ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ پولیس کی کارروائی کے دوران جب آٹو ڈرائیورس پکڑے جاتے ہیں تو کھلے طور پر مافیا کے کارندے انہیں ڈرا دھمکا کر اصل مالکان کا نام نہ لینے پر مجبور کرتے ہیں۔ بعض معاملات میں مالی لالچ دے کر یا سنگین نتائج کی دھمکی دے کر سارا الزام اپنے سر لینے کا دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ نتیجتاً کئی بے گناہ اور مجبور ڈرائیورس جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچ رہے ہیں جبکہ اصل سرغنے قانون کی گرفت سے باہر ہیں۔
اس صورتحال کے سبب متاثرہ خاندان شدید ذہنی دباؤ اور سماجی بدنامی کا سامنا کر رہے ہیں۔ خوف اور عدم تحفظ کے باعث متاثرین میڈیا یا پولیس کے سامنے حقائق بیان کرنے سے ڈر رہے ہیں۔ راشن مافیا کی کھلی دھمکیوں نے عام شہریوں کو خاموش رہنے پر مجبور کر دیا ہے۔
ایسے میں عادل آباد ضلع پولیس کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ محض نچلے درجے کے افراد کے خلاف کارروائی تک محدود نہ رہے بلکہ اس منظم نیٹ ورک کی جڑوں تک پہنچے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اصل سرغنوں کو بے نقاب کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ سرکاری اسکیموں کا فائدہ حقیقی مستحقین تک پہنچ سکے اور معصوم افراد کو مافیا کے چنگل سے نجات ملے۔



