گورنمنٹ ہائی اسکول دارالشفاء حیدرآباد میں سائنس ڈے کا انقعاد
گورنمنٹ ہائی اسکول دارالشفاء حیدرآباد میں سائنس ڈے کا انقعاد
حیدرآباد، 28 فروری 2026(پریس ریلیز )
شہرِ علم و ادب حیدرآباد کے تاریخی و تعلیمی حلقہ بہادرپورہ منڈل میں واقع گورنمنٹ ہائی اسکول دارالشفا میں آج سائنس ڈے نہایت تزک و احتشام اور علمی جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا۔ اس بامقصد تقریب کا مقصد طلبہ و طالبات میں سائنسی شعور کو فروغ دینا، تحقیق و جستجو کی شمع روشن کرنا اور عملی مشاہدے کے ذریعے علم کو زندگی سے ہم آہنگ کرنا تھا۔
سائنس دراصل کائنات کی زبان ہے—وہ زبان جو ہمیں خالقِ کائنات کی صناعی، حکمت اور نظمِ عالم کی گہرائیوں سے روشناس کراتی ہے۔ بایولوجیکل سائنس (حیاتیاتی علوم) ہمیں حیات کے اسرار، خلیات کی ساخت، انسانی جسم کے نظام، نباتات و حیوانات کی بقا اور ماحولیات کے توازن سے آگاہ کرتی ہے، جبکہ فزیکل سائنس (طبیعی علوم) مادّہ، توانائی، حرکت، روشنی، حرارت اور کائناتی قوانین کی تفہیم کا در وا کرتی ہے۔ یہی علوم انسان کو تحقیق، تخلیق اور ترقی کی راہوں پر گامزن کرتے ہیں۔
تقریب میں جماعت ہشتم، نہم اور دہم کے ذہین و باصلاحیت طلبہ و طالبات نے مختلف سائنسی ماڈلز پیش کیے، جن میں قابلِ تجدید توانائی، آتش فشاں ماڈل، انسانی دل کی ساخت، آبی آلودگی سے بچاؤ، شمسی نظام اور برقی سرکٹس جیسے موضوعات شامل تھے۔ طلبہ کی پیشکشوں نے حاضرین کو نہ صرف متاثر کیا بلکہ ان کے اندر سائنسی فکر کو مزید جِلا بخشی۔
اس روح پرور تقریب کی نگرانی صدر معلمہ محترمہ ریاست فاروق نے نہایت حسنِ انتظام اور دلسوزی کے ساتھ انجام دی۔ اساتذۂ کرام میں مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشا قادری (شعبۂ عربی)،محکمہ تعلیم حکومت تلنگانہ جناب محمد ظہیر الدین، جناب محمد زعیم الدین، مسٹر وجے کمار اور معلماتِ بھی اس موقع پر موجود رہیں اور طلبہ کی حوصلہ افزائی فرمائی۔
اساتذہ نے اپنے تاثرات میں کہا کہ سائنس ڈے منانے کا اصل مقصد نئی نسل کو محض نصابی علم تک محدود نہ رکھنا بلکہ انہیں عملی تجربات اور تحقیقی سرگرمیوں کے ذریعے مستقبل کے سائنسدان، موجد اور محقق بننے کی ترغیب دینا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ادارہ ہذا میں آئندہ بھی اسی طرح کی علمی و سائنسی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جاتا رہے گا تاکہ طلبہ میں تجسس، تخلیقی صلاحیت اور سائنسی شعور کو فروغ حاصل ہو۔
تقریب کے اختتام پر نمایاں کارکردگی پیش کرنے والے طلبہ کو مبارکباد پیش کی گئی اور ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا گیا۔ اس طرح یہ تقریب علم و آگہی کے چراغ روشن کرتے ہوئے اپنے اختتام کو پہنچی، مگر تحقیق و جستجو کا سفر بدستور جاری رہے گا۔



