عادل آباد میں نو منتخب کونسلرز پر عوامی خدمات کی بھاری ذمہ داری، شہریوں نے فوری اقدامات کا مطالبہ کردیا

صحافی خضر احمد یافعی
عادل آباد-یکم/ مارچ(اردو لیکس)عادل آباد میں مجلس بلدیہ کے 49 وارڈس کے لئے عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعہ نمائندوں کا انتخاب مکمل کرلیا ہے۔ اب مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے نو منتخب کونسلرس پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عوام کی توقعات پر پورا اتریں۔ عوام کا کہنا ہے کہ ووٹ اعتماد کی امانت ہے اور اس امانت کا تقاضا ہے کہ منتخب نمائندے مسلسل عوامی خدمات انجام دیں۔
اطلاعات کے مطابق بعض وارڈوں میں پہلی مرتبہ منتخب ہونے والے کونسلرس نے کامیابی کے فوری بعد اپنے اپنے علاقوں میں کاموں کا آغاز کردیا ہے۔ اسی طرح کچھ تجربہ کار کونسلرس بھی ترقیاتی سرگرمیوں میں مصروف دکھائی دے رہے ہیں۔ تاہم چند وارڈوں کی عوام نے شکایت کی ہے کہ ابھی تک بنیادی مسائل کے حل کے لئے کوئی عملی پیش رفت نظر نہیں آئی۔
نو منتخب کونسلرس کو چاہیے کہ
خصوصاً ایسے علاقے جہاں برسات کے موسم میں سیلابی پانی گھروں، مساجد اور مدرسوں میں داخل ہوجاتا ہے، وہاں کے عوامی نمائندوں کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مجلس بلدیہ اور اعلیٰ حکام سے نمائندگی کرتے ہوئے ماسٹر پلان کے تحت نکاسی آب کا مضبوط انتظام کیا جائے۔
علاوہ ازیں عادل آباد میں معمولی آندھی یا بارش کے سبب گھنٹوں برقی سربراہی منقطع ہوجانا بھی ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ تمام کونسل ممبران متحد ہوکر برقی مسائل کے مستقل حل کے لئے اقدامات کریں۔ کئی وارڈوں میں پینے کے پانی کی قلت اور آلودہ پائپ لائنوں کا مسئلہ بھی شدت اختیار کرگیا ہے، جنہیں جنگی پیمانے پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔
شہریوں نے سڑکوں کی تعمیر، اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب، برقی کھمبوں کی درستگی اور ڈرینج نظام کی بہتری کو بھی ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے پر زور دیا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ منتخب نمائندے بلا لحاظ مذہب تمام شہریوں کو ساتھ لے کر چلیں اور سرکاری اسکیمات کا فائدہ مستحقین تک پہنچائیں۔
یہ بھی مشاہدہ میں آیا ہے کہ بعض علاقوں میں دوسری مرتبہ کامیاب ہونے والے نمائندے کم ووٹوں کے فرق سے جیت سکے، جس کی ایک بڑی وجہ عوام سے مسلسل رابطہ نہ رکھنا بتایا جارہا ہے۔ عوامی حلقوں میں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ ترقیاتی کاموں میں کنٹراکٹرس کے انتخاب میں شفافیت کا فقدان رہتا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ترقیاتی فنڈس کا استعمال دیانت داری اور معیار کے ساتھ کیا جائے تاکہ دیرپا اور مضبوط کام انجام پائیں۔
عوام نے واضح کیا ہے کہ اگلے پانچ سال تک نمائندے متحرک رہیں، نہ کہ انتخابات کے قریب دوبارہ سرگرم ہوں۔ شہریوں کے مطابق اصل مقصد عوامی خدمت ہونا چاہیے، نہ کہ ذاتی مفاد یا دولت کا حصول۔ عوام اب باخبر ہیں اور آئندہ کارکردگی کی بنیاد پر ہی فیصلہ کریں گے۔



