نیشنل

محترمہ جیلانی بانو کے انتقال پر ملک و بیرون ملک کے محبان اردو کا اظہار تعزیت

حیدرآباد یکم مارچ/حیدرآباد دکن سے تعلق رکھنے والی بین الاقوامی شہرت یافتہ اردو کی معروف ادیبہ افسانہ نگار محترمہ جیلانی بانو زوجہ پروفیسر انور معظم کا آج مورخہ یکم مارچ بروز اتوار مطابق 11 رمضان المبارک بعد علالت انتقال ہوا. ان کے فرزند معروف آئی ٹی ماہر اشہر فرحان کی اطلاع کے بموجب جیلانی بانو کی نماز جنازہ مسجد بقیع روڈ نمبر 12 بنجارہ ہلز میں بعد تراویح عمل میں آئی  جس میں ان کے عزیز اقارب اور حیدرآباد کے ادبی حلقوں کی کئی نامور شخصیات نے شرکت کی. جیلانی بانو کی تدفین قریبی قبرستان میں عمل میں آئی. مزید تفصیلات مرحومہ کے فرزند اشہر فرحان سے

9849026029

سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔

 

جیلانی بانو 14 جولائی 1936ء کو بدایوں (اتر پردیش) میں پیدا ہوئیں- اردو ادب سے لگاؤ انھیں اپنے والد صاحب حیرت بدا یونی سے ورثے میں ملا جو اپنے وقت کے معروف شاعر تھے- ان کی پرورش خالص ادبی ماحول میں ہو ئی- اپنے وقت کے بڑے مصنفین مثلاً سجاد ظہیر، مخدوم محی الدین، جگر مراد آبادی، کرشن چندر اور مجروح سلطان پوری وغیرہ کا ان کے گھر آنا جانا لگا رہتا تھا- اس ادبی ماحول نے ان کی تربیت اور شخصیت کی نشو و نما میں اہم کردار ادا کیا- ابتدائی عمر سے ہی انھوں نے میر تقی میر، غالب، اقبال، سعادت حسن منٹو، عصمت چغتائی، گورکی، چیخوف، موپساں، بیدی، فیض احمد فیض، مجاز، قرۃالعین حیدر اور احمد ندیم قاسمی سمیت تمام بڑے بڑے ادبا کا کام پڑھ ڈالا- ان عظیم مصنفین کی تخلیقات کے مطالعے نے ان کی ادبی صلاحیتوں کو خوب جلا بخشی۔

 

بہرحال انھوں نے اپنا ایک مخصوص طرز تحریر اپنایااور کسی بڑے مصنف کی نقل نہیں کی- انھوں نے اپنی پہلی کہانی‘ ایک نظر ادھر بھی‘ 1952ء میں تحریر کی- ان کی شہرہ آفاق تحریر ‘موم کی مریم‘ نے ماہنامہ ‘سویرا‘ میں شائع ہوتے ہی انھیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا- ان کی کہانیوں کا پہلا مجموعہ ‘روشنی کا منار‘ اور پہلا ناول ‘ایوان غزل‘ تھا- ان کی کہانیاں ہمارے معاشرتی رویوں کی عکاسی کرتی ہیں-انھوں نے اپنی زیادہ تر کہانیوں میں معاشرے کے پسے ہوئے غریب طبقے کو موضوع بنایا ہے-روشنی کے مینار (افسانے)(1958ء)

 

 

جگنو اور ستارے (تین ناولٹ) (1963ء)

نروان (ناول)(1963ء)

ایوان غزل (ناول)(1976ء)

نغمے کا سفر (ناول)(1977ء)

پرایا گھر (افسانے)(1979ء)

بارش سنگ (ناول) (1985ء)

روز کا قصہ (افسانے)(1987ء)

یہ کون ہنسا (افسانے)(1992ء)

نرسیا کی باوڑی (ڈراما)(1992ء)

تریاق (افسانے)(1993ء)

نئی عورت (افسانے)(1993ء)

سچ کے سوا (افسانے)(1997ء)

رات کے مسافر (افسانے)

بات پھولوں کی (افسانے)(2001ء)

سوکھی ریت (افسانے) (2003ء)

کن (افسانے)(2005ء)

راستہ بند ہے (افسانے) (2010ء)

میں کون ہوں (خودنوشت (نوعمری))(2014ء)

دور کی آوازیں (خطوط کا مجموعہ)(2020ء)

دیکھیں کیا گذرے ہے قطرے پہ(تین طویل کہانیاں) (2021ء)

کیمائے دل (چار طویل کہانیاں) (2021ء)

 

اس کے علاوہ انھوں نےحیدرآباد شہر پر بننے والی ڈاکومنٹری حیدرآباد ایک شہر ایک تہذیب کااسکرپٹ بھی تحریر کیا۔ جیلانی بانو کو حکومت ہند کی جانب سے پدم شری ایوارڈ دیا گیا ان کے دیگر اعزازات میں آندھرا پردیش ساہتیہ اکادمی ایوارڈ

سوویت لینڈ نہرو ایوارڈ

قومی حالی ایوارڈ شامل ہیں۔ ان کے گھر لا مکان واقع بنجارہ ہلز پرہمہ لسانی ادبی محافل منعقد ہوتی ہیں جن میں بلا لحاظ مذہب و ملت شائقین ادب شرکت کرتے ہیں. جیلانی بانو کی تصانیف کے ترجمے ہندوستان کی بیشتر زبانوں کے علاوہ بین الاقوامی زبانوں میں ہوئے. جیلانی بانو نے اپنی حیات میں امریکہ روس اور پاکستان کا سفر کیا تھا

 

ان کی کہانی پر مبنی فلم نرسیا کی باؤڑی بھی کافی مشہور ہوئی جیلانی بانو کے انتقال پر حیدرآباد کے ادبی حلقوں محفل خواتین تنظیم بنات ملک و بیرون ملک کے محبان اردو نے اظہار تعزیت کیا ہے.

متعلقہ خبریں

Back to top button