تعلیمی بیداری کے لیے نوجوانوں کے چیلنجز اور ملت کے ایجنڈے کو وسعت دی جائے،سراج الدین چوگلے مہاراشٹر کالج کے ڈائرکٹراورماہر تعلم کااظہارِ خیال

ممبئی،2مارچ /مہاراشٹر کالج آف آرٹس ،سائنس اور کامرس کے ڈائرکٹر اور سابق پرنسپل سراج الدین چوگلے نے کہا ہے کہ ماہِ رمضان المبارک میں مصروفیات کا انداز قدرے مختلف ضرور ہو جاتا ہے، لیکن تعلیمی اور سماجی سرگرمیوں پر کوئی منفی اثر نہیں پڑنا چاہیے۔ ان کے مطابق رمضان نظم و ضبط، صبر اور وقت کی قدر سکھاتا ہے، اس لیے اسے سستی یا کمیٔ کارکردگی کا بہانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔
سراج الدین چوگلے گزشتہ 37 برسوں سے مہاراشٹر کالج سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے بطور استاد اپنی خدمات کا آغاز کیا، بعد ازاں انتظامی ذمہ داریاں سنبھالیں اور تقریباً دس برس تک پرنسپل کے عہدے پر فائز رہے۔ حال ہی میں انہیں ادارے کا ڈائرکٹر مقرر کیا گیا ہے۔ ان کی قیادت میں کالج نے تعلیمی استحکام، نظم و نسق اور ہمہ جہت طلبہ ترقی کے میدان میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ جنوبی ممبئی کا یہ تاریخی ادارہ متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے ہزاروں طلبہ کو معیاری تعلیم فراہم کرتا رہا ہے اور شہر کی تعلیمی شناخت کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔
رمضان المبارک کے حوالے سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں ایامِ بیض کے روزوں کی عادت ہے، اس لیے رمضان میں بھی ان کے معمولات میں کوئی خاص فرق نہیں آتاہے، ان کا کہناہےکہ عبادت کے ساتھ ساتھ ذمہ داریوں کی ادائیگی بھی دین کا حصہ ہے۔ کالج کی تعلیمی سرگرمیاں، انتظامی فیصلے اور طلبہ کی رہنمائی بدستور جاری رہتی ہیں، بلکہ وہ اس مہینے میں مزید توجہ اور سنجیدگی کے ساتھ کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
اپنے بچپن کی یادیں تازہ کرتے ہوئے سراج الدین چوگلے نے بتایا کہ ان کا بچپن گاؤں میں گزرا جہاں رمضان نہایت سادگی سے منایا جاتا تھا۔ اس زمانے میں سحری اور افطار محدود وسائل کے ساتھ ہوتی تھی، مگر اس میں خلوص اور برکت نمایاں ہوتی تھی۔ آج کے دور میں حالات یکسر بدل چکے ہیں؛ فراوانی اور تنوع موجود ہے، تاہم انہوں نے اسراف سے بچنے اور اصل روحِ رمضان کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
مسلمانوں میں تعلیمی بیداری کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر شعور میں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر او بی سی زمرے اور ریزرویشن پالیسیوں کے اثرات سے کچھ مثبت تبدیلیاں آئی ہیں، لیکن یہ بہتری ابھی وسیع پیمانے پر نہیں پہنچی۔ ان کے مطابق تعلیم کو محض ڈگری کے حصول تک محدود نہیں رکھا جانا چاہیے بلکہ پیشہ ورانہ مہارت، ٹیکنالوجی اور جدید علوم کی جانب بھی بھرپور توجہ دینا ضروری ہے۔ انہوں نے اساتذہ، والدین اور سماجی قیادت پر زور دیا کہ وہ نئی نسل کی تعلیمی رہنمائی کو اپنی اولین ترجیح بنائیں۔ڈاکٹر اور انجنیئر بننے کا رحجان برقرار ہے،لیکن وکالت کو بھی حالیہ دنوں میں ترجیح دی جارہی ہے،جوکہ ایک اچھی علامت کہہ جاسکتی ہے۔
ملت کے ایجنڈے کے بارے میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اصل ایجنڈا سادہ مگر مؤثر ہونا چاہیے: تعلیم کا فروغ، کردار سازی اور سماجی استحکام۔ دانشوروں اور قیادت کو مزید بیداری پیدا کرنی چاہیے اور جو کچھ حاصل ہے اسے مضبوط بنیادوں پر استوار کرتے ہوئے آگے بڑھنا چاہیے۔ ان کے مطابق شکایتوں اور مایوسی کے بجائے عملی اقدامات اور مثبت حکمتِ عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔
نوجوانوں میں منشیات کے بڑھتے رجحان پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے سراج الدین چوگلے نے کہا کہ نشہ آور اشیاء کی آسان دستیابی ایک بڑا سماجی خطرہ بن چکی ہے۔ خاص طور پر مسلم اکثریتی علاقوں میں جہاں رہائشی مکانات چھوٹے ہیں اور نوجوان زیادہ وقت گھر سے باہر گزارتے ہیں، وہ آسانی سے ڈرگ مافیا کے جال میں پھنس سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں، والدین اور سماجی تنظیموں کو مشترکہ طور پر بیداری مہم چلانی چاہیے تاکہ نوجوانوں کو اس لعنت سے بچایا جا سکے۔
اپنے پیغام میں انہوں نے نوجوانوں کو اللہ سے رجوع کرنے، قرآن کریم کی تعلیمات کو اپنانے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کو رہنمائی کا سرچشمہ بنانے کی تلقین کی۔ ان کا کہنا تھا کہ حقیقی کامیابی دین اور دنیا کے درمیان توازن قائم کرنے میں ہے۔ اگر نوجوان علمی، اخلاقی اور روحانی بنیادوں کو مضبوط بنا لیں تو وہ نہ صرف اپنی بلکہ قوم کی تقدیر بھی بدل سکتے ہیں۔انہوں اس بات پر تشویش ظاہر کی لڑکوں میں لڑکیوں کے مقابلہ تعلیم کا تناسب کم ہے
سراج الدین چوگلے نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مہاراشٹر کالج مستقبل میں بھی اپنی روشن تعلیمی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے نئی نسل کو باصلاحیت، باکردار اور بااعتماد شہری بنانے میں اپنا مؤثر کردار ادا کرتا رہے گا۔



