ماہ رمضان میں مسلمان تعلیمی بیداری اور ملت کےمستقبل پر لائحہ عمل تیارکریں،نشہ سے نوجوانوں کو دور رکھناضروری۔مہاراشٹر کے سینئر کانگریسی رہنما محمد عارف نسیم خان سے خصوصی گفتگو

ممبئی ،جاویدجمال الدین
مہاراشٹر کی سیاست میں گزشتہ تین دہائیوں سے فعال کردار ادا کرنے والے، کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن اور سابق وزیر محمد عارف نسیم خان نہ صرف ایک تجربہ کار سیاست دان کے طور پر جانے جاتے ہیں بلکہ اقلیتی امور کے حساس مسائل پر بھی ان کی گہری نظر رہی ہے۔ وہ مختلف وزرائے اعلیٰ کی کابینہ میں وزیر رہ چکے ہیں، وزیر اقلیتی امور اور وزیر مملکت برائے داخلہ کے عہدوں پربھی فائز رہے،حالیہ میونسپل کارپوریشن الیکشن میں ان کے فرزند بھی کامیاب ہوئے ہیں،کانگریس کے دوراقتدار میں 2014 میں مسلمانوں کو ملازمت اور تعلیم میں پانچ فیصد ریزرویشن کی منظوری کے سلسلے میں اہم کردار ادا کیا۔عدالت نے اس تعلق سے اپنے فیصلہ میں تعلیم میں ریزرویشن برقرار رکھاتھا،موجودہ بی جے پی شیوسینا حکومت نے اسے بھی ختم کردیا ہے۔
انہوں نے ماہ رمضان المبارک، مسلمانوں کے معاشی،سماجی حالات اور تعلیمی ترقی کے موضوع پر اظہار خیال کیاہے۔رمضان: رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ گفتگو کے آغاز میں عارف نسیم خان نے تمام اہلِ وطن کو رمضان المبارک کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا:“سب سے پہلے میں آپ کو اور تمام اہلِ اسلام کو رمضان المبارک کی دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ یہ مہینہ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے۔ ہم سب خوش نصیب ہیں کہ ہمیں ایک بار پھر یہ بابرکت مہینہ نصیب ہوا۔ رمضان ہمیں صبر، تقویٰ، رواداری اور انسان دوستی کا درس دیتا ہے۔”
انہوں نے اپنی مصروفیات کے بارے میں بتایا کہ عام دنوں کے مقابلے میں رمضان میں سرگرمیاں کچھ بڑھ جاتی ہیں۔ روزمرہ کے سیاسی و سماجی کام اپنی جگہ برقرار رہتے ہیں، مگر اس ماہ میں عبادت کا اہتمام بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔“رمضان میں کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ وقت عبادت میں گزارا جائے۔ روزہ، نماز، تراویح اور دیگر دینی امور کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔ صبح سحری کے بعد کچھ دیر آرام، پھر لوگوں سے ملاقاتیں، دوپہر تک مختلف سماجی کام، عصر کے بعد افطار کی تیاری، اور پھر تراویح کے بعد بھی لوگوں سے ملنا جلنا جاری رہتا ہے۔ اس طرح پورا مہینہ مصروفیت میں گزرتا ہے، لیکن ایک روحانی خوشی بھی محسوس ہوتی ہے۔”
بچپن کی رمضان کی یادیں
بچپن کی یادوں کا ذکر آتے ہی ان کے لہجے میں ایک خاص اپنائیت اور جذباتی رنگ نمایاں ہو گیا۔
“ہمارے بچپن کا رمضان آج سے بالکل مختلف تھا۔ سحری کے وقت جگانے والے لوگ گلیوں میں آتے تھے۔ وہ نعتیں اور کلمات پڑھتے ہوئے دروازے کھٹکھٹاتے اور لوگوں کو سحری کے لیے بیدار کرتے تھے۔ ایک روحانی اور خوبصورت ماحول ہوتا تھا۔”
انہوں نے افطار کے مناظر کو یاد کرتے ہوئے کہا:
“کئی علاقوں میں مساجد یا عمارتوں پر سرخ اور سبز بتی لگائی جاتی تھی۔ جب افطار کا وقت ہوتا تو سبز بتی جلتی اور لوگ سمجھ جاتے کہ روزہ کھولنے کا وقت ہو گیا ہے۔ اذان کی آواز تو آتی ہی تھی، لیکن ان روشنیوں کا بھی ایک الگ انتظار رہتا تھا۔ لوگ مل جل کر افطار کرتے، ایک دوسرے کے گھروں میں پکوان بھیجتے۔”آج کے ماحول سے موازنہ کرتے ہوئے انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ باہمی میل جول میں کمی آئی ہے:“پہلے جیسی اجتماعیت اور سادگی کم نظر آتی ہے۔ اب زندگی کی رفتار تیز ہو گئی ہے، مگر ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ وہی بھائی چارہ اور محبت کا ماحول دوبارہ قائم ہو۔”
مسلمانوں کی تعلیمی پیش رفت
گزشتہ دو تین دہائیوں میں مسلمانوں کی تعلیمی اور سماجی ترقی کے حوالے سے سوال پر عارف نسیم خان نے واضح طور پر کہا کہ نمایاں تبدیلی آئی ہے۔“اگر ہم تیس سال پہلے کے مسلمان کا موازنہ آج کے مسلمان سے کریں تو بہت فرق نظر آتا ہے۔ سب سے بڑی تبدیلی تعلیمی بیداری کی صورت میں آئی ہے۔ آج والدین کی اولین ترجیح یہ ہے کہ ان کے بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کریں۔ چاہے وہ غریب ہی کیوں نہ ہوں، وہ اپنے بچوں کو اچھے اسکول اور کالج میں بھیجنا چاہتے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ پروفیشنل کورسز میں مسلمانوں کی شرکت بڑھی ہے:“آپ میڈیکل، انجینئرنگ، لا، چارٹرڈ اکاؤنٹنسی، آئی ٹی یا سول ایوی ایشن جیسے شعبوں میں دیکھیں، ہر جگہ ہمارے نوجوان نظر آتے ہیں۔ جب میں ہوائی جہاز میں سفر کرتا ہوں تو عملے میں کبھی کوئی مسلم لڑکا یا لڑکی نظر آ جاتی ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ ہم نے تعلیم کے میدان میں پیش رفت کی ہے۔”انہوں نے 2014 میں پانچ فیصد ریزرویشن کے مسئلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی پالیسیوں نے بھی کچھ حد تک مدد کی، مگر اصل تبدیلی خود کمیونٹی کی سوچ میں آئی ہے۔“آج کی نسل کی سوچ بدلی ہے۔ وہ تعلیم کو اپنا ہتھیار سمجھتی ہے۔ یہی سب سے بڑی طاقت ہے۔”
چیلنجز اور کمزوریاں
تعلیم کے باوجود بعض سماجی کمزوریوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا:“ابھی بھی ہمارے اندر کچھ خامیاں ہیں، خاص طور پر نوجوانوں کی تربیت کے معاملے میں۔ صرف ڈگری حاصل کرنا کافی نہیں، اخلاقی اور سماجی تربیت بھی ضروری ہے۔”انہوں نے سماجی اور دینی تنظیموں کی ذمہ داری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کی ذہن سازی اور مثبت رہنمائی پر زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔“ہمارے مذہب نے ہمیں محبت، رواداری اور انسانیت کا درس دیا ہے۔ اگر ہم نبی کریم ﷺ کی سنتوں پر مضبوطی سے عمل کریں تو ہم سے بہتر انسان کوئی نہیں ہو سکتا۔”
فرقہ واریت اور سماجی ہم آہنگی
موجودہ حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں کچھ طاقتیں فرقہ وارانہ ماحول پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہیں، مگر ہمیں ایسے عناصر کو کمزور کرنے کی جدوجہد کرنی چاہیے۔“فرقہ پرستی کسی ایک مذہب تک محدود نہیں۔ جہاں بھی نفرت کی سیاست ہو، ہمیں اس کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے۔ ہمارا پیغام محبت کا ہونا چاہیے۔”انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ اشتعال انگیزی سے دور رہیں اور آئینی و قانونی راستہ اختیار کریں۔“اگر کہیں ناانصافی ہو تو قانون کا سہارا لیں، لیکن معاشرے میں امن اور بھائی چارہ برقرار رکھیں۔ یہی ہماری کامیابی ہے۔”
نشہ خوری: ایک بڑھتا ہوا خطرہ
مسلم اکثریتی علاقوں میں نشہ خوری کے بڑھتے رجحان پر انہوں نے تشویش ظاہر کی۔“یہ ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ اپنے علاقوں میں نشہ خوری کے خلاف متحد ہوں۔ والدین، سماجی کارکنان اور علما کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ جو لوگ یہ کاروبار کرتے ہیں، ان کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔ اگر ہم نے ابھی توجہ نہ دی تو ہماری آنے والی نسل متاثر ہوگی۔”
قوم کے نام پیغام
گفتگو کے اختتام پر عارف نسیم خان نے ایک جامع پیغام دیا:“میں تمام مسلمانوں اور خاص طور پر نوجوانوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ تعلیم کو اپنی اولین ترجیح بنائیں، اپنے اخلاق و کردار کو مضبوط کریں، اور فرقہ واریت سے دور رہیں۔ ہمیں نفرت کا جواب محبت سے دینا ہے۔”انہوں نے ایک شعر کے ذریعے اپنی بات مکمل کی:
“ان کا جو فرض ہے وہ اہل سیاست جانیں
میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے
(جگر مراد آبادی)
انہوں نے دعا کی کہ ملک میں امن و امان اور بھائی چارہ قائم رہے اور مسلمان تعلیم، ترقی اور مثبت کردار کے ذریعے ملک کی تعمیر میں اپنا بھرپور حصہ ادا کریں۔
یہ گفتگو واضح کرتی ہے کہ عارف نسیم خان نہ صرف ایک سیاسی رہنما ہیں بلکہ سماجی شعور رکھنے والے ایسے فرد بھی ہیں جو تعلیم، رواداری اور اصلاحِ معاشرہ کو ملت کی ترقی کا اصل راستہ سمجھتے ہیں۔ رمضان کے بابرکت موقع پر ان کا پیغام یہی ہے کہ ہم اپنی روحانی طاقت کو سماجی بھلائی اور قومی یکجہتی میں تبدیل کریں ۔



