اردو یونیورسٹی کا جیلانی بانو کو خراجِ عقیدت

حیدرآباد، 4 مارچ (پریس نوٹ)محترمہ جیلانی بانو نے اپنے افسانوں اور ناولوں کے ذریعے سماجی مسائل، خصوصاً نسوانی مسائل اور تہذیبی اقدار کو نہایت مؤثر انداز میں پیش کیاہے۔ان کے افسانوں میں حیدرآباد دکن کی تہذیب، انسانی جذبات اور معاشرتی پیچیدگیوں کی بھرپور عکاسی ملتی ہے۔
ان خیالات کا اظہار پروفیسرمسرت جہاں ، صدر شعبۂ اردو، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے کیا۔ وہ اردو ادب کی ممتاز فکشن نگار جیلانی بانو کے انتقال پر شعبہ اردو، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں منعقدہ ایک تعزیتی نشست میں اظہار خیال کر رہی تھیں۔ اس موقع پر صدر شعبہ اردو نے جیلانی بانو کی ادبی خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
شعبہ کے دیگر اساتذہ نے بھی اس تعزیتی نشست میں اظہار خیال کیا اور کہا کہ جیلانی بانو کا انتقال اردو ادب کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے، تاہم ان کی تخلیقات ہمیشہ ادب کے افق پر روشن رہیں گی۔ اس موقع پر ان کے مشہور ناول ایوانِ غزل،اور بارش سنگ کا بھی خصوصی ذکر کیا گیا اور اسے اردو فکشن کا اہم سنگِ میل قرار دیا گیا۔ تعزیتی نشست میں شرکت کرنے والوں میں
پروفیسر فیروز عالم ،پروفیسر احمد خاں ،ڈاکٹر افتخار احمد، صدر شعبہ فارسی،ڈاکٹر ثمینہ تابش ، ڈاکٹر محمدرضوان ،ڈاکٹر بدر سلطانہ ، ڈاکٹر جابر حمزہ ،ڈاکٹر عافیہ حمید،محترمہ حنا گلاب اورریسرچ اسکالر طلباءوطالبات بھی شامل تھیں ۔ نشست کے اختتام پر مرحومہ کو خراج عقیدت پیش کیا گیا اور مرحومہ کے درجات کی بلندی کی دعا مانگی گئی۔


