نیشنل سیفٹی ڈے کا پیغام : کام کی جگہ پر حفاظت، ملک کی ترقی کی بنیاد

از ڈاکٹر تبریز حسین تاج۔ حیدرآباد

کام کا محفوظ ماحول صرف ایک سہولت نہیں، بلکہ ملک کی ترقی کی مضبوط بنیاد ہے۔ آج ہم قومی یوم تحفظ یعنی نیشنل سیفٹی ڈے منا رہے ہیں، جس کا مقصد ایک حادثات سے پاک، محفوظ اور ذمہ دار معاشرہ تشکیل دینا ہے۔یہ دن نہ صرف سرحدوں کی حفاظت کے لیے اہم ہے، بلکہ فیکٹریوں، تعمیراتی شعبوں اور کیمیائی صنعتوں میں کام کرنے والے ہر مزدور کی حفاظت کو بھی اولین ترجیح دیتا ہے۔
سال 1966 میں نیشنل سیفٹی کونسل کے قیام کے تاریخی موقع کی یاد میں ملک بھر میں بیداری کے پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔ کام کی جگہ پر حفاظت ایک ذمہ داری کے ساتھ ساتھ ہر شہری کا بنیادی حق بھی ہے۔ اسی سوچ وفکرکے تحت مرکزی حکومت نے 4 مارچ 1966 کو نیشنل سیفٹی کونسل قائم کی، جس کا بنیادی مقصد مزدوروں کی حفاظت کرنا ہے، کیونکہ یہ مزدور ملک کی صنعتی ترقی کی کلید ہیں۔ آج یہ دن ہر سال اسی مقصد کے تحت منایا جاتا ہے رواں سال "ایک پائیدار مستقبل کے لیے سیفٹی لیڈرشپ” کے نعرے کے ساتھ منایا جارہاہے۔
اس دن کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ حادثات کے بعد ردعمل ظاہر کرنے کے بجائے، حادثوں کو ہونے سے ہی روکا جائے۔ خاص طور پر کیمیائی اور بھاری صنعتوں میں حفاظتی معیارات پر عمل کرنا لازمی ہے، کیونکہ یہ صنعتیں ملک کی معیشت میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ کیمیائی صنعتوں میں گیس کے اخراج، دھماکوں یا دیگر حادثات کو روکنے کے لیے بین الاقوامی سطح کے پروٹوکول پر سختی سے عمل کیا جانا چاہیے۔ آگ بجھانے والے آلات، چھڑکاؤ کے نظام اور وینٹیلیشن کا باقاعدہ معائنہ ضروری ہے تاکہ کسی بھی غیر متوقع حادثے سے بچا جا سکے۔
عملے کو مضر صحت کیمیکلز کے استعمال اور حفاظت کے اصولوں کی تربیت دینا لازمی ہے۔ ہر مزدورکو ذاتی حفاظتی سامان جیسے ہیلمٹ، دستانے اور حفاظتی جوتے پہننے چاہئیں۔ تعمیراتی شعبے اور آتش بازی کے کارخانوں میں حادثات کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، اور زیادہ تر حادثات حفاظتی بیلٹ یا نیٹ کے استعمال میں لاپرواہی کی وجہ سے پیش آتے ہیں۔ مشینری کے ساتھ کام کرتے ہوئے معمولی غلطی بھی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے، اس لیے کام کی جگہ پر مناسب روشنی، وینٹیلیشن اور ہنگامی راستوں کا انتظام ہونا ضروری ہے۔ بجلی کے شارٹ سرکٹ سے بچنے کے لیے وائرنگ سسٹم کا باقاعدہ آڈٹ کرنا بھی انتہائی اہم ہے۔
مرکزی وزارت محنت و روزگار کے زیر اہتمام ہفتہ سیفٹی کی تقریبات آج یعنی 4 مارچ سے 11 مارچ تک جاری رہیں گی۔ ان تقریبات کا بنیادی مقصد فیکٹریوں میں موک ڈرل کا انعقاد اور حادثات کی سنگینی کے بارے میں شعور بیدار کرنا ہے۔ ماہرین کے مطابق "سیفٹی فرسٹ” صرف ایک نعرہ نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ہر ادارے میں ایک مضبوط ثقافت کا حصہ ہونا چاہیے۔ جیسے جیسے ٹیکنالوجی میں ترقی ہو رہی ہے، صنعتوں کو ایسے جدید نظام فراہم کرنے چاہیے جو مصنوعی ذہانت اور سینسرز کے ذریعے حادثات کا فوری پتہ لگا سکیں، تب ہی صفر حادثات کا ہدف ممکن ہو سکے گا۔ قومی یوم تحفظ صرف کیلنڈر پر ایک تاریخ نہیں
بلکہ یہ مسلسل چوکسی اور ذمہ داری کا مظہر ہے۔ آئیے ہم حفاظتی اصولوں پر عمل کریں اور ایک محفوظ، صحت مند اور خوشحال نئے ہندوستان کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالیں۔ جئے ہند



