آیت اللہ خامنہ حسین کی طرح جیے ، حسین کی طرح مرے

شجیع اللہ فراست

شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
نہ مال غنیمت نہ کِشور کشائی
یہ شعر ایران کے مرحوم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای پر صادق آتا ہے۔ خامنہ ای حالیہ تاریخ کے ایک ایسے لیڈر ہیں جن کی کوئی مثال پیش نہیں کی جاسکتی ۔ ان کی قیادت ۔ شخصیت ۔ بردباری نے ایک عالم کو متاثر کیا ہے۔ آئیے نظر ڈالتے ہیں ہمارے دور کی اس عظیم شخصیت کی زندگی پر ایک نظر ۔
آیت اللہ سید علی خامنہ ای انیس سو اناسی میں بانی انقلاب آیت اللہ روح اللہ خمینی کے انتقال کے بعد سے سپریم لیڈر تھے۔ رہبر اعلی بننے سے قبل وہ انیس سو اسّی کے دہے میں ایران کے صدر رہے اور عراق کے خلاف جنگ کی قیادت کی۔ ان کی قیادت میں اسلامی انقلابی گارڈس کارپس آئی آر جی سی ایک طاقتور سیکیورٹی ۔ سیاسی اور معاشی طاقت کے طور پر ابھری اور خطہ کے دیگر علاقوں میں ایران کے اثر و رسوخ کو بڑھایا۔ انہیں دو ہزار نو اور دو ہزار بائیس میں حجاب کے مسئلہ پر احتجاج کی شکل میں چیلنج کا بھی سامنا رہا۔
جنوری میں معاشی مسائل پر احتجاج ان کی زندگی کا سب سے بڑا چیلنج ثابت ہوئے اس کے بعد ہی امریکہ اور اسرایل نے ایران پر حملہ کرتے ہوئے انہیں شہید کیا۔ خامنہ ای انیس سو انچالیس میں مشہد میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ ایک ممتاز مسلم رہنما کے فرزند تھے جن کا تعلق عراق سے تھا اور وہ آذربائیجانی نسل سے تھے۔ خامنہ ای کا خاندان مشہد منتقل ہونے سے پہلے تبریز میں رہنے لگا ۔ خامنہ ای کی ماں خدیجہ قرآن کی خادمہ تھیں اور انہوں نے اپنے فرزند کے دل میں قرآن سے محبت کا جذبہ پیدا کیا۔ خامنہ ای نے چار سال کی عمر میں قرآن پاک کی تعلیم حاصل کی اور مشہد کے مدرسہ میں اپنی ابتدائی تعلیم مکمل کی۔ انہوں نے ہائی اسکول کی تکمیل نہیں کی اس کے بجائے انہوں نے مذہبی تعلیم حاصل کی اور اپنے وقت کے ممتاز علما بشمول اپنے والد اور شیخ ہاشم غزنوی کی شاگردی میں رہے ۔ انہوں نے نجف اور قم کے اعلیٰ مذہبی یونیورسٹیز میں تعلیم حاصل کی۔
وہ بانی انقلاب آیت اللہ خمینی کے بشمول کی ممتاز علما کے قریب تھے۔ انہوں نے اس وقت کے صدر حسن روحانی کو مغربی ممالک کے ساتھ بات چیت کی اجازت دی جس کے نتیجہ میں دو ہزار پندرہ میں ایران نیوکلیر سمجھوتہ ہوا۔ تاہم ڈونالڈ ٹرمپ نے بعد میں اس سمجھوتہ کو ختم کردیا۔ خامنہ ای چھتیس سال تک ایران کے پالیسی امور میں حرف آخر تھے۔ لبنان میں حزب اللہ ۔ فلسطین میں حماس ۔ یمن میں حوثی اور عراق و دیگر مقامات پر اپنی محاذی تنظیموں کے ذریعہ ان کے دور میں ایران نے اپنا دائرہ اثر بڑھایا اور خطہ کی بڑی طاقت بنا تاہم یہی بڑی طاقت امریکہ اور اسرائیل ہمیشہ سے کھٹکتی رہی۔ خامنہ ای نے انیس سو نواسی کے انقلاب میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا جب امریکہ کی کٹھ پتلی رضا پہلوی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا تھا۔ ان کی قیادت میں ایران نے عالمی دباو کے باوجود اپنی خود مختاری اور آزادی کو برقرار رکھا۔ ان کے دور میں ایران کے نیوکلیر پروگرام میں کافی ترقی ہوئی۔
فلسطین کاز سے خامنہ ای کو ایک جذباتی وابستگی تھی اور ان کی نگرانی میں ہر سال جمعة الوداع کے موقع پر ایران اور دنیا بھر میں یوم قدس منایا جاتا ہے۔ دنیا کے طویل المیعاد عالمی لیڈر خامنہ ای کی زندگی سامراجیت اور صیہونیت کے خلاف مزاحمت سے عبارت ہے۔ حج کے موقع پر خامنہ ای کے خطبہ حکمت سے بھرے ہوتے تھے ۔ وہ اسلامی اتحاد کے سب سے بڑے علمبردار تھے ۔ اگر ایک سطر میں خامنہ ای کی زندگی کا خلاصہ پیش کیا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ وہ حسین کی طرح جیئے اور حسین کی طرح مرے ۔



