ضلع نظام آباد کے رودرور فساد واقعہ – حضرت مولانا جعفر پاشاہ صاحب کی ہدایت پر اعلیٰ عہدے داروں سے حافظ محمد لئیق خان صاحب کی مؤثر نمائندگی

تلنگانہ کے ضلع نظام آباد کے رودرور فساد واقعہ
حضرت مولانا جعفر پاشاہ صاحب کی ہدایت پر اعلیٰ عہدے داروں سے حافظ محمد لئیق خان صاحب کی مؤثر نمائندگی
رودرور فساد واقعہ میں ملزمان بے قصور مسلم نوجوانوں کو انصاف فراہم کیا جائے،
چھوٹے بچوں کے جھگڑے کو فرقہ وارانہ رنگ دینے خاتون وکیل کلیانی کی مذموم کوشش،کےخلاف ضلع جج اور بار کونسل آف تلنگانہ سے تحریری شکایت
گرفتار نوجوانوں کے سرپرستوں کے ہمراہ حافظ محمد لئیق خان کی پولیس کمشنر سے تحریری نمائندگی ،سیکرٹری بار کونسل تلنگانہ سے تحریری مطالبہ،
نظام آباد، 6/مارچ (پریس ریلیز) حالیہ دنوں تلنگانہ کے نظام آباد ضلع مستقر رودرور منڈل میں چھوٹے بچوں کے آپسی معمولی جھگڑے کے بعد مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا تھا، اس واقعہ پر نائب امیر امارات ملت اسلامیہ تلنگانہ و آندھرا حافظ محمد لئیق خان نے آج گرفتار نوجوانوں کے افراد خاندان و سرپرستوں کے ہمراہ پولیس کمشنر سائی چیتنیا سے ملاقات کرتے ہوئے انھیں والدین و سرپرستوں کے ذریعے ایک میمورنڈم پیش کیا،
اس موقع پر حافظ محمد لئیق خان نے بتایا کہ رودرور میں چھوٹے بچوں کے معمولی جھگڑے کے بعد پولیس کارروائی کرتے ہوئے جملہ 8 مسلم نوجوانوں پر مقدمہ درج کیا، بعد ازاں اس واقع کو طول دینے اور اسے فرقہ وارانہ رنگ دینے کی ایک خاتون وکیل ایڈوکیٹ گوتی کلیانی. مذموم کوشش کررہی ہیں، انہوں نے کہا کہ مسلم نوجوانوں فخر الدین، بلال، عقیل، جعفر، عمران، اجمل، صفیان، اور محمد احمد جن میں محمد احمد جو 8 ویں جماعت کا طالب ہے سنگین دفعات کے تحت فساد برپا کرنے اور ماحول کو بگاڑنے کی کو شش جیسے سنگین الزامات کے تحت ان نوجوانوں کی گرفتاری سوالیہ نشان پیدا کرتی ہے،
حافظ محمد لئیق خان نے پولیس کمشنر کو دی گئی تحریری نمائندگی کے علاوہ سیکرٹری بار کونسل تلنگانہ اسٹیٹ، ضلع جج کو بھی تحریری نمائندگی کے ذریعے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس واقعہ پر غور کرتے ہوئے بچوں کے معمولی جھگڑے رفع دفع کیا جائے مسلم نوجوانوں کی رہائی کو یقینی بنانے ٹاون ضمانت کی راہ ہموار کرنے کے ساتھ ساتھ اس واقعہ کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی مذموم کوشش کرنے والی خاتون ایڈوکیٹ گوتی کلیانی کو ایسے مذموم عزائم اور سازشوں سے باز رکھنے مناسب قانونی چارہ جوئی و اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے
، انہوں نے تمام وکلاء برادری سے بھی گزارش کی ہے کہ وہ ایسے بے بنیاد سازشوں سے چوکنا رہے اور ہر مظلوم چاہیے وہ کسی بھی مذہب و فرقہ کا کیوں نہ ہو اسے انصاف کی فراہمی کیلئے اپنی خدمات پیش کرتے ہوئے قومی یکجہتی، قانون و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے پر پابند رہیں،



