مضامین

کم عمری اور سوشل میڈیا کا بڑھتا اثر۔کیا قانون بچوں کی ذہنی دنیا کو محفوظ بنا سکتا ہے؟

از: عبدالحلیم منصور

Haleem

ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کو جتنا آسان بنایا ہے، اتنا ہی پیچیدہ بھی کر دیا ہے۔ آج کا انسان صبح آنکھ کھلنے سے لے کر رات سونے تک کسی نہ کسی اسکرین کے ساتھ جڑا رہتا ہے۔ موبائل فون اب صرف رابطے کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ تعلیم، تفریح، تجارت اور سماجی تعلقات کا مرکزی وسیلہ بن چکا ہے۔ مگر یہی سہولت جب کم عمر ذہنوں تک بے لگام پہنچتی ہے تو وہ سہولت سے زیادہ ایک نفسیاتی اور سماجی مسئلہ بن جاتی ہے۔

 

گھرانوں میں اب یہ عام منظر ہے کہ روتے ہوئے بچے کو چپ کرانے کے لیے کھلونے کے بجائے موبائل فون تھما دیا جاتا ہے۔ کارٹون، ویڈیوز اور گیمز کے ذریعے بچوں کو مصروف رکھنے کی یہ عادت آہستہ آہستہ ایک ایسی لت میں بدل رہی ہے جس کے اثرات تعلیم، صحت اور شخصیت کی تشکیل پر پڑ رہے ہیں۔کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا نے 2026-27 کے ریاستی بجٹ میں اعلان کیا ہے کہ سولہ برس سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا۔ حکومت کے اس اعلان کو کئی ماہرینِ نفسیات اور والدین کی تنظیموں نے مثبت قدم قرار دیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ موبائل فون اور سوشل میڈیا کے غیر محدود استعمال نے بچوں کی ذہنی نشوونما، تعلیمی توجہ اور سماجی رویوں پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔

 

خاص طور پر کم عمری میں اسکرین کے زیادہ استعمال سے بچوں کی توجہ منتشر ہو رہی ہے، کھیل کود اور فطری سرگرمیاں کم ہو رہی ہیں اور بعض اوقات وہ ایسے مواد تک بھی پہنچ جاتے ہیں جو ان کی عمر کے لیے مناسب نہیں ہوتا۔حقیقت یہ ہے کہ اسکولوں میں موبائل کے استعمال پر پہلے ہی پابندیاں موجود ہیں۔ پرائمری اور ہائی اسکول کے تعلیمی اداروں میں موبائل فون لانے یا استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ لیکن مسئلہ صرف اسکول کی چار دیواری تک محدود نہیں ہے۔ اسکول کے بعد کا زیادہ تر وقت بچے اسی اسکرین کے ساتھ گزارتے ہیں۔

 

یوٹیوب، فیس بک اور انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارم اب کم عمر طلبہ کے لیے بھی بآسانی دستیاب ہیں۔ کئی بچے اپنے اکاؤنٹس بنا کر گھنٹوں ان پلیٹ فارمز پر مصروف رہتے ہیں۔ بعض والدین خود بھی بچوں سے ویڈیوز بنوا کر سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہیں، جو ایک نیا سماجی رجحان بنتا جا رہا ہے۔اس صورتِ حال کی ایک اہم وجہ وہ دور بھی ہے جب کورونا وبا کے دوران تعلیمی ادارے بند ہو گئے تھے اور آن لائن تعلیم کا نظام متعارف کرایا گیا۔ اس مرحلے پر پہلی مرتبہ بڑی تعداد میں کم عمر بچوں کے ہاتھوں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ کی مستقل رسائی آئی۔ کئی اسکولوں نے اسی نظام کو بعد میں بھی جاری رکھا، جہاں نوٹس، ہوم ورک اور دیگر تعلیمی مواد موبائل کے ذریعے ہی بھیجا جانے لگا۔ اس کے نتیجے میں موبائل فون بچوں کی روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن گیا۔

 

مگر یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا محض قانون سازی کے ذریعے اس مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے؟ حکومت کی جانب سے پابندی کا اعلان اپنی جگہ اہم ہے، لیکن اس کے نفاذ کا عملی طریقہ کار اب بھی واضح نہیں ہے۔ گھر کے اندر بچوں کے ہاتھ میں موبائل نہ پہنچنے دینا کیا واقعی ریاستی نگرانی سے ممکن ہے؟انٹرنیٹ کی دنیا میں عمر کی تصدیق کا نظام بھی ابھی تک مکمل طور پر قابلِ اعتماد نہیں۔ سوشل میڈیا پر جعلی شناختی اکاؤنٹس بنانا انتہائی آسان ہے اور یہی وجہ ہے کہ کئی ممالک میں سخت قوانین کے باوجود مکمل پابندی نافذ کرنا ممکن نہیں ہو سکا۔

 

دنیا کے مختلف ممالک میں اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مختلف تجربات کیے جا رہے ہیں۔ بعض جگہوں پر اسکولوں کے اندر موبائل فون مکمل طور پر جمع کروا لیے جاتے ہیں، جبکہ کچھ ممالک میں کلاس کے اوقات میں فون بند رکھنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ آسٹریلیا کے کئی اسکولوں میں طلبہ کو صبح کی پہلی گھنٹی سے لے کر آخری گھنٹی تک موبائل فون بند رکھنا یا اسکول انتظامیہ کے پاس جمع کروانا پڑتا ہے۔اس طرح کے اقدامات کا مقصد تعلیمی ماحول میں یکسوئی اور ذہنی توجہ کو بہتر بنانا ہے۔ ابتدائی مطالعات سے یہ اشارے ملے ہیں کہ اس طرح کے محدود اقدامات سے طلبہ کی توجہ اور ذہنی صحت میں بہتری دیکھی گئی ہے، لیکن اس موضوع پر مزید تحقیق کی ضرورت بھی محسوس کی جا رہی ہے۔

 

اصل مسئلہ شاید صرف بچوں کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا ہے۔ اگر بالغ افراد خود موبائل فون کے غیر ضروری استعمال سے گریز نہ کریں تو بچوں کے لیے الگ اصول بنانا زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہوگا۔ بچوں کی تربیت میں گھر کا ماحول سب سے اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جب والدین خود مسلسل موبائل میں مصروف ہوں تو بچوں سے مختلف رویے کی توقع کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔اسی لیے کئی ماہرین کا ماننا ہے کہ مکمل پابندی کے بجائے متوازن اور ذمہ دارانہ استعمال کی تربیت زیادہ مؤثر راستہ ہو سکتا ہے۔

 

دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کے بارے میں یہ بحث نئی نہیں ہے۔ ماضی میں جب ناول اور کہانیاں عام ہوئیں تو بعض حلقوں نے انہیں بھی بچوں کے لیے نقصان دہ قرار دیا تھا۔ بعد میں ٹیلی ویژن کے آنے پر بھی یہی خدشات ظاہر کیے گئے۔ آج موبائل فون اسی سلسلے کی تازہ کڑی بن چکا ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہر نئی ٹیکنالوجی اپنے ساتھ مواقع بھی لاتی ہے اور چیلنج بھی۔بعض ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ موبائل کا استعمال مکمل طور پر نقصان دہ نہیں۔ کئی بچے تعلیمی موضوعات پر ویڈیوز یا تخلیقی مواد تیار کرتے ہیں جس سے ان میں اعتماد اور اظہار کی صلاحیت بڑھتی ہے۔ اس لیے اصل مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں بلکہ اس کا غیر متوازن اور غیر منظم استعمال ہے۔

 

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بہت سے اسکول تعلیمی سرگرمیوں کے لیے موبائل یا انٹرنیٹ کا سہارا لیتے ہیں۔ آن لائن کلاسز، ہوم ورک کی معلومات اور تعلیمی پروجیکٹس کے لیے ڈیجیٹل وسائل ناگزیر ہوتے جا رہے ہیں۔ ایسے میں مکمل پابندی عملی مشکلات بھی پیدا کر سکتی ہے۔بلاشبہ حکومت کی جانب سے یہ اعلان ایک اہم سماجی مسئلے کی جانب توجہ مبذول کرانے کا باعث بنا ہے۔ اگر اس پر سنجیدہ بحث اور مؤثر پالیسی سازی ہوتی ہے تو ممکن ہے کہ آنے والی نسلوں کو اسکرین کی بے لگام دنیا سے کچھ حد تک محفوظ رکھا جا سکے۔ لیکن اس کے لیے قانون کے ساتھ ساتھ معاشرتی شعور، تعلیمی رہنمائی اور خاندانی ذمہ داریوں کا بھی یکساں کردار ضروری ہوگا۔

 

عصرِ حاضر میں ٹیکنالوجی سے مکمل گریز ممکن نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ نئی نسل کو اس کے متوازن، ذمہ دار اور باشعور استعمال کا سلیقہ سکھایا جائے۔ کیونکہ اصل چیلنج موبائل کو ختم کرنا نہیں بلکہ انسان اور ٹیکنالوجی کے درمیان ایک صحت مند تعلق قائم کرنا ہے۔اگر معاشرہ، والدین، تعلیمی ادارے اور حکومت مل کر اس مسئلے کو سنجیدگی سے سمجھیں تو یقیناً نئی نسل کو ایک متوازن اور صحت مند ڈیجیٹل مستقبل فراہم کیا جا سکتا ہے۔

 

haleemmansoor@gmail.com

متعلقہ خبریں

Back to top button