خواب سے حقیقت تک: سعودی عرب کی اسسٹنٹ پروفیسر سے آئی پی ایس افسر بننے تک ڈاکٹر بشریٰ بانو کا متاثر کن سفر
خواب سے حقیقت تک: سعودی عرب کی اسسٹنٹ پروفیسر سے آئی پی ایس افسر بننے تک ڈاکٹر بشریٰ بانو کا متاثر کن سفر
یہ کہانی ایک ایسی عورت کی ہے جس نے ہمت اور عزم سے اپنی تقدیر بدل دی۔ اکثر کہا جاتا ہے کہ ایک کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے، جو اس کی ہمسفر اور ساتھی ہوتی ہے، لیکن بشریٰ بانو کے معاملے میں یہ روایت الٹی ثابت ہوئی
ڈاکٹر بشریٰ بانو کی کامیابی کی داستان محنت، عزم اور حوصلے کی ایک روشن مثال ہے۔ انہوں نے ایک نہیں بلکہ دو مرتبہ یونین پبلک سروس کمیشن کا امتحان کامیابی سے پاس کرکے اپنے خواب کو حقیقت میں بدل دیا۔
اترپردیش کے کنوج ضلع سے تعلق رکھنے والی بشریٰ بانو کچھ برس قبل سعودی عرب میں اپنے شوہر اور بچے کے ساتھ مقیم تھیں، جہاں وہ ایک یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں۔ تعلیمی اعتبار سے بے حد باصلاحیت، ڈاکٹر بشریٰ بانو نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے مینجمنٹ میں پی ایچ ڈی حاصل کی ہے۔ اس کے علاوہ ان کے پاس ایم بی اے اور ایم اے کی ڈگریاں بھی ہیں اور انہوں نے NET-JRF میں بھی کامیابی حاصل کی ہے۔
۔اچھی ملازمت اور ماں ہونے کی ذمہ داریوں کے باوجود ان کے دل میں یو پی ایس سی امتحان کامیاب کرنے کا خواب زندہ تھا۔ ان کے شوہر کی بھی اچھی ملازمت تھی، لیکن انہوں نے اپنی اہلیہ کے خواب کو پورا کرنے کے لیے بھرپور ساتھ دیا اور ملازمت چھوڑ کر 2016 میں ہندوستان واپس آگئے تاکہ بشریٰ پوری توجہ کے ساتھ تیاری کرسکیں۔
ہندوستان واپس آکر بشریٰ بانو نے سخت محنت کے ساتھ یو پی ایس سی کی تیاری شروع کی اور 2018 میں پہلی ہی کوشش میں آل انڈیا رینک 277 حاصل کی، جس کے بعد انہیں اتر پردیش میں سب ڈویژنل مجسٹریٹ کے عہدہ پر خدمات انجام دینے کا موقع ملا۔ تاہم ان کا اصل خواب انڈین پولیس سروس میں شامل ہونا تھا، اسی لیے انہوں نے دوبارہ امتحان دیا اور 2020 میں آل انڈیا رینک 234 حاصل کرکے آئی پی ایس افسر بن گئیں۔
ڈاکٹر بشریٰ بانو 2021 بیچ کی آئی پی ایس افسر ہیں اور ان کا کیڈر مغربی بنگال ہے۔ وہ اس وقت ضلع ہوگلی (دیہی) میں اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس زیرِ تربیت کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ اس طرح سعودی عرب کی ایک اسسٹنٹ پروفیسر سے ہندوستانی پولیس سروس تک کا ان کا سفر بے شمار نوجوانوں کے لیے حوصلہ اور تحریک کا ذریعہ بن گیا ہے۔
یہ کہانی ہر اُس لڑکی کے لیے ایک مثال ہے جو ماں بننے کے بعد اپنے خوابوں کو نامکمل سمجھ کر زندگی سے سمجھوتا کر لیتی ہے۔ بشریٰ بانو کی محنت، قربانی اور عزم نے ثابت کیا کہ مضبوط ارادے کے سامنے کوئی رکاوٹ بڑی نہیں ہوتی۔
آج بشریٰ بانو آئی پی ایس افسر کے طور پر ملک کی خدمت کر رہی ہیں اور اپنی کہانی ہر نوجوان لڑکی کے لیے تحریک اور حوصلے کا سبب بنی ہوئی ہے۔





