آگ کے دہانے پر مشرقِ وسطیٰ۔میزائل اور طاقت کا تازہ منظرنامہ

ڈاکٹر سیدہ نسیم سلطانہ اسسٹنٹ پروفیسر اردو
ویمنس یونیورسٹی حیدراباد
مشرقِ وسطیٰ اس وقت تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں بارود کی بو، میزائلوں کی گھن گرج اور طاقت کے تصادم نے عالمی فضا کو اضطراب اور خوف سے بھر دیا ہے۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی اب محض سفارتی بیان بازی تک محدود نہیں رہی بلکہ ایک ایسی جنگی کیفیت اختیار کر چکی ہے جس کے اثرات پورے خطے میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ دنیا بھر کے مبصرین، ماہرین اور عام انسان ایک ہی سوال پوچھ رہے ہیں: اس جنگ کا اصل منظرنامہ کیا ہے اور کون کس پر بھاری پڑ رہا ہے؟
موجودہ جنگی نقشہ
اس وقت یہ جنگ تین سطحوں پر جاری ہے اور ہر سطح اپنے اندر ایک الگ شدت اور خطرہ سموئے ہوئے ہے۔
فضائی جنگ
امریکہ اور اسرائیل ایران کے اندر مسلسل فضائی حملے کر رہے ہیں۔ ان حملوں کا بنیادی ہدف ایران کی فوجی صلاحیت کو کمزور کرنا بتایا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے جن مقامات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ان میں خاص طور پر:
میزائل اڈے
ڈرون فیکٹریاں
فوجی مراکز
بعض جوہری تنصیبات
شامل ہیں۔ جدید ترین جنگی طیاروں اور خفیہ ٹیکنالوجی کی مدد سے یہ حملے ایران کی سرزمین کے اندر تک کیے جا رہے ہیں۔
میزائل اور ڈرون جنگ
دوسری طرف ایران بھی خاموش تماشائی نہیں ہے۔ ایران اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کر رہا ہے۔ ایران کے پاس دنیا کے بڑے بیلسٹک میزائل پروگراموں میں سے ایک موجود ہے۔ اس کے ہزاروں ڈرون بھی اس جنگ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، جو دشمن کے دفاعی نظام کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
علاقائی جنگ
یہ تنازع اب صرف ایران کی سرزمین تک محدود نہیں رہا بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کی آگ پھیل رہی ہے۔ عراق، شام، لبنان اور خلیجی ممالک اس کشمکش کے اثرات کو محسوس کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کئی ماہرین اسے ایک ممکنہ علاقائی جنگ کی ابتدا قرار دے رہے ہیں۔
کون کس پر بھاری پڑ رہا ہے؟
یہ اس جنگ کا سب سے اہم اور سب سے زیادہ زیرِ بحث سوال ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی برتری
امریکہ اور اسرائیل کو تکنیکی اور عسکری لحاظ سے نمایاں برتری حاصل ہے۔ ان کے پاس:
جدید ترین فضائیہ
اسٹیلتھ طیارے (جیسے F-35)
سیٹلائٹ انٹیلیجنس
دنیا بھر میں پھیلے فوجی اڈے
طیارہ بردار بحری جہاز
موجود ہیں۔ اسی وجہ سے وہ ایران کے اندر گہرائی تک حملے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ایران کی طاقت
اس کے باوجود ایران کو کمزور سمجھنا حقیقت سے بعید ہوگا۔ ایران کے پاس:
دنیا کے بڑے بیلسٹک میزائل پروگراموں میں سے ایک
ہزاروں ڈرون
خطے میں نظریاتی اور عسکری اتحادی گروہ
موجود ہیں۔ یہی عناصر ایران کو یہ صلاحیت دیتے ہیں کہ وہ اس جنگ کو صرف اپنی سرزمین تک محدود نہ رہنے دے بلکہ پورے خطے میں پھیلا سکتا ہے۔
اصل نقصان کس کا زیادہ ہو رہا ہے؟
زیادہ تر تجزیوں کے مطابق اس وقت ایران کو زیادہ نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ حملوں کا مرکز زیادہ تر ایران کی سرزمین ہے۔
فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے
بعض شہری علاقوں کو بھی نقصان پہنچا ہے
جبکہ اس کے مقابلے میں اسرائیل اور امریکی فوجی اڈوں کو نسبتاً محدود نقصان پہنچا ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے اکثر سوشل میڈیا کے جذباتی بیانیے یا بعض میڈیا رپورٹیں پوری وضاحت کے ساتھ پیش نہیں کرتیں۔
ایران تنہا کیوں دکھائی دے رہا ہے؟
ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ ایران کے اتحادی ممالک ہونے کے باوجود وہ اس جنگ میں تنہا کیوں نظر آتا ہے۔
چین
چین کے ایران کے ساتھ مضبوط اقتصادی اور تجارتی تعلقات ہیں، مگر وہ براہ راست فوجی مداخلت سے گریز کر رہا ہے۔
روس
روس سیاسی اور سفارتی سطح پر ایران کے مؤقف کی تائید کرتا ہے، مگر اس نے بھی براہ راست جنگ میں شامل ہونے سے احتیاط برتی ہے۔
شمالی کوریا
شمالی کوریا کو ایران کا ممکنہ عسکری شراکت دار سمجھا جاتا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ وہ میزائل یا تکنیکی تعاون فراہم کر سکتا ہے، مگر اس کی جانب سے کھلا فوجی اعلان سامنے نہیں آیا۔
حزب اللہ (لبنان)
حزب اللہ ایران کا ایک اہم علاقائی اور نظریاتی اتحادی ہے، مگر اس نے بھی ابھی مکمل جنگ میں داخل ہونے کا اعلان نہیں کیا۔
اگر جنگ مزید پھیل گئی تو؟
اگر یہ تنازع مزید شدت اختیار کر گیا اور مزید ممالک اس میں شامل ہو گئے تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے۔
ممکنہ نتائج یہ ہو سکتے ہیں:
خلیج میں تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے
عالمی معیشت شدید بحران کا شکار ہو سکتی ہے
اور یہ تنازع ایک بڑی عالمی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے
اسی لیے عالمی طاقتیں اس وقت براہ راست تصادم سے بچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
ایران کا تازہ سرکاری موقف
ایران نے واضح اعلان کیا ہے کہ:
وہ کسی بھی صورت میں سرنڈر نہیں کرے گا
حملوں کا جواب دیتا رہے گا
اور خطے میں موجود امریکی اڈے محفوظ نہیں رہیں گے
ایران کا کہنا ہے کہ اگر اس پر دباؤ بڑھایا گیا تو وہ اس جنگ کو پورے خطے میں پھیلانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اختتامیہ
مشرقِ وسطیٰ کی سرزمین اس وقت تاریخ کے ایک ایسے نازک لمحے سے گزر رہی ہے جہاں ہر میزائل، ہر ڈرون اور ہر فضائی حملہ مستقبل کی سیاست کو نئی شکل دے سکتا ہے۔ طاقت کے اس تصادم میں صرف ممالک نہیں بلکہ عالمی امن بھی داؤ پر لگا ہوا ہے۔ اگر دانش مندی اور سفارت کاری نے جلد اپنا کردار ادا نہ کیا تو ممکن ہے کہ یہ آگ صرف ایک خطے تک محدود نہ رہے بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے۔



