اسپشل اسٹوری

سیّد امتیاز جلیل: صحافت سے سیاست تک کا سفر اور رمضان، سماجی خدمت و مسلم سیاست

جاوید جمال الدین 

ممبئی ملک کی موجودہ سیاست میں چند ایسے چہرے بھی ہیں جنہوں نے صحافت جیسے ذمہ دار پیشے سے عوامی خدمت کے میدان میں قدم رکھا اور اپنی الگ شناخت قائم کی۔ ایسے ہی نمایاں ناموں میں سیّد امتیاز جلیل کا شمار ہوتا ہے، جو نہ صرف ایک تجربہ کار صحافی رہے بلکہ بعد میں سیاست کے میدان میں بھی اپنی فعال موجودگی کے سبب ملک بھر میں پہچانے گئے۔ وہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے اہم رہنماؤں میں شامل ہیں اور اورنگ آباد (اب چھترپتی سمبھاجی نگر) کی سیاست میں ایک مضبوط آواز کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

 

امتیاز جلیل نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز صحافت سے کیا۔ انہوں نے تقریباً 23 برس تک صحافت کے میدان میں خدمات انجام دیں۔ اس دوران وہ 11 برس تک روزنامہ لوک مت سے وابستہ رہے اور بعد ازاں 12 برس تک این ڈی ٹی وی میں بطور صحافی کام کرتے رہے۔ میدانِ صحافت میں طویل تجربے کے بعد انہوں نے 2014 میں عملی سیاست میں قدم رکھا اور اسی سال مہاراشٹر اسمبلی کے انتخابات میں اورنگ آباد کے مرکزی حلقے سے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے امیدوار کے طور پر کامیابی حاصل کر کے اسمبلی پہنچے۔ اس طرح وہ 2014 سے 2019 تک مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی کے رکن رہے۔

 

سیاست میں ان کی مقبولیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب 2015 کے اورنگ آباد میونسپل کارپوریشن انتخابات میں ان کی قیادت میں اے آئی ایم آئی ایم نے پہلی بار حصہ لیا اور حیرت انگیز طور پر 25 نشستیں جیت کر اپنی سیاسی موجودگی کا بھرپور احساس دلایا۔ اس کے بعد 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں انہوں نے ونچت بہوجن اگاڑی کے ساتھ اتحاد کرتے ہوئے اورنگ آباد پارلیمانی حلقے سے انتخاب لڑا اور شیو سینا کے سینئر رہنما چندر کانت کھیرے کو شکست دے کر رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے۔

 

امتیاز جلیل نے بطور عوامی نمائندہ کئی سماجی مسائل پر آواز بلند کی۔ ان کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے 2016 میں ایک سماجی تنظیم نیو دیا دنیان پرسارک منڈل نے انہیں “بہترین ایم ایل اے” کے اعزاز سے بھی نوازا۔ اس کے علاوہ برطانوی ہائی کمیشن نے نوجوان سیاست دانوں کے ایک مطالعاتی دورے کے لیے لندن مدعو کیا تھا جس میں منتخب ہونے والے 12 سیاست دانوں میں امتیاز جلیل بھی شامل تھے اور مہاراشٹر سے وہ واحد نمائندہ تھے۔

 

رمضان المبارک کے حوالے سے انہوں نے کہا: “رمضان ایسا مہینہ ہے جس میں میں اپنی سیاسی مصروفیات کو کافی حد تک کم کر دیتا ہوں۔ عام دنوں کے مقابلے میں اس مہینے میں میرا زیادہ تر وقت عبادت میں گزرتا ہے۔ میں کوشش کرتا ہوں کہ قرآن کریم کی تلاوت باقاعدگی سے کروں۔ دفتر جاتا ہوں تو وہاں بھی قرآن پڑھتا ہوں اور گھر پر بھی روزانہ تلاوت مکمل کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔کیونکہ رمضان صرف عبادت کا مہینہ نہیں بلکہ اپنے آپ کو نظم و ضبط میں لانے کا بھی بہترین موقع ہے۔ اسی لیے وہ اس مہینے میں زیادہ وقت اپنے اہل خانہ کے ساتھ گزارنے کی کوشش کرتے ہیں۔

 

بچپن کی عید اور یادگار لمحے

رمضان اور عید کی یادوں کا ذکر کرتے ہوئے امتیاز جلیل کا انداز بھی جذباتی ہو جاتا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ بچپن میں عید کا دن ان کے لیے خاص خوشیوں کا دن ہوتا تھا۔ “ہم تین بھائی تھے۔ عید کی نماز پڑھنے کے بعد ہم سیدھے اپنی نانی کے گھر جایا کرتے تھے۔ نانی ہم تینوں بھائیوں کو ملا کر دس روپے عیدی دیا کرتی تھیں۔ چونکہ ہمارا ایک بڑا بھائی تھا اس لیے اسے چار روپے ملتے تھے اور ہم دونوں چھوٹوں کو تین تین روپے۔ ہمیں ہمیشہ یہی شکایت رہتی تھی کہ بڑے بھائی کو ایک روپیہ زیادہ کیوں مل رہا ہے۔”

 

وہ مسکراتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس زمانے کے دس روپے کی جو قدر اور محبت تھی وہ آج لاکھوں روپے میں بھی محسوس نہیں ہوتی۔انہوں نے اپنے والد کی مہمان نوازی کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق عید کے دن ان کے گھر مختلف مذاہب اور طبقات کے لوگ آیا کرتے تھے۔ “میرے والد کے دوستوں میں ڈاکٹر، وکیل اور مختلف پیشوں سے وابستہ لوگ شامل تھے۔ ہم نماز پڑھ کر گھر آتے تھے تو دیکھتے تھے کہ گھر میں پہلے سے ہی مہمان موجود ہیں اور سب شیر خرمہ کھانے کے انتظار میں ہوتے تھے۔ اس ماحول نے ہمیں بچپن سے ہی رواداری اور بھائی چارے کا سبق دیا۔”

 

صحافت سے سیاست میں آنے کے تجربے پر امتیاز جلیل کہتے ہیں کہ دونوں میدانوں میں بنیادی فرق اختیار اور اثر کا ہے۔ان کے مطابق: “صحافت میں آپ مسائل کو اجاگر کرتے ہیں، لوگوں کی آواز بنتے ہیں اور حکومت کو آئینہ دکھاتے ہیں۔ لیکن جمہوریت کے اندر اصل فیصلے ایوانوں میں ہوتے ہیں۔ اگر آپ کی آواز وہاں موجود نہیں ہے تو پھر مسائل کا حل نکالنا مشکل ہو جاتا ہے۔اسی احساس نے انہیں سیاست میں آنے پر آمادہ کیا۔ موجودہ دور میں آپ چاہے اخبار میں جتنا بھی لکھ لیں یا ٹی وی پر جتنا بھی دکھا دیں، جب تک پارلیمنٹ اور اسمبلی میں آپ کی نمائندگی نہیں ہوگی، تب تک مسائل کا مستقل حل نکلنا مشکل ہے۔”

 

مسلم معاشرےکی سیاسی حالت پر اظہار خیال کرتے ہوئے امتیاز جلیل کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کو اپنی سیاسی طاقت کی اہمیت کو سمجھنا ہوگا۔انہوں نے کہاکہ“جمہوریت میں فیصلے سیاسی قوت کے ذریعے ہوتے ہیں۔ اگر کسی طبقے کی اپنی سیاسی شناخت اور مضبوط نمائندگی نہیں ہوگی تو اس کے مسائل کو سنجیدگی سے نہیں لیا جائے گا۔ مسلمانوں کو بھی یہ بات سمجھنا ہوگی کہ سیاسی شعور اور اتحاد کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔”انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض لوگ انتخابات کو صرف ایک کاروبار بنا لیتے ہیں۔ “بدقسمتی سے کچھ لوگ ہر الیکشن میں صرف اس لیے امیدوار بن جاتے ہیں کہ انہیں کسی پارٹی سے مالی فائدہ حاصل ہو جائے۔ ان کا مقصد جیتنا نہیں بلکہ ووٹ تقسیم کرنا ہوتا ہے۔ اس طرح مسلم قیادت کو کمزور کیا جاتا ہے۔”

 

امتیاز جلیل تسلیم کرتے ہیں کہ مسلم نوجوانوں میں اب ایک نیا شعور پیدا ہو رہا ہے اور وہ سیاست اور سماجی خدمات میں حصہ لینے کے لیے تیار ہیں۔امتیازجلیل کے مطابق “میں نے حال ہی میں ممبئی میں کارپوریشن الیکشن کے لیے پارٹی اُمیدواروں کےانٹرویوز لیے تھے۔ وہاں بڑی تعداد میں پڑھے لکھے نوجوان جن میں لڑکیاں بھی تھیں جو سماج کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں صرف ایک پلیٹ فارم کی ضرورت ہے۔”ان کے مطابق مجلس کی کوشش یہی ہے کہ نئے اور باصلاحیت لوگوں کو آگے لایا جائے۔ “ حالیہ انتخابات میں بھی نئے چہرے سامنے لائے۔ یہ ایک مثبت تبدیلی ہے اور اس سے مسلم نوجوانوں میں اعتماد پیدا ہوگا۔”

 

مسلمانوں کی ترقی میں تعلیم کو بنیادی ستون قرار دیتے ہوئے امتیاز جلیل نے کہا کہ موجودہ دور میں تعلیم کے بغیر کوئی قوم آگے نہیں بڑھ سکتی۔انہوں نے کہا: “آج کا دور علم اور ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ اگر نوجوان تعلیم حاصل کریں گے تو نہ صرف اپنی زندگی بہتر بنا سکیں گے بلکہ معاشرہ کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔”ان کے مطابق مسلمانوں میں تعلیمی شعور بڑھ رہا ہے اور نوجوان بڑی تعداد میں اعلیٰ تعلیم کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تعلیم کے ساتھ اخلاقی تربیت بھی ضروری ہے۔

 

رمضان کا پیغام

گفتگو میں امتیاز جلیل نے رمضان المبارک کے روحانی پیغام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ مہینہ انسان کو صبر، برداشت اور دوسروں کی مدد کرنے کا درس دیتا ہے۔دراصل رمضان ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ انسانیت، ہمدردی اور خدمتِ خلق بھی عبادت کا اہم حصہ ہیں۔ اگر ہم ان اقدار کو اپنی زندگی میں شامل کر لیں تو معاشرہ یقیناً بہتر ہو سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ رمضان کی برکتوں سے سب کو فیضیاب کرے اور ملک میں امن، اتحاد اور بھائی چارہ قائم رہے۔

 

اس طرح سیّد امتیاز جلیل کی زندگی کا سفر نہ صرف صحافت سے سیاست تک کی ایک دلچسپ داستان ہے بلکہ یہ اس بات کی بھی مثال ہے کہ اگر عزم اور مقصد واضح ہو تو انسان کسی بھی میدان میں نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے۔

Javed Jamaluddin,

Editor In Chief ./HOD

Contact :9867

647741.

02224167741

 

 

 

 

 

 

متعلقہ خبریں

Back to top button