اردو اکیڈمی تلنگانہ کے ملازمین گزشتہ دس ماہ سے تنخواہوں سے محروم ‘ ملازمین بدترین مالی مشکلات کا شکار
اردو اکیڈمی تلنگانہ کے ملازمین گزشتہ دس ماہ سے تنخواہوں سے محروم ‘ ملازمین بدترین مالی مشکلات کا شکار فینانس ڈپارٹمنٹ میں ریگولرریشن کی بل زیرالتوا کے نام پر متعلقہ محکمہ کے اعلی عہدیداروں کی من مانی
تلنگانہ ریاست کے اردو اکیڈمی کے 129 ملازمین گزشتہ دس ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہے ملازمین کو مائینارٹی فینانس کارپوریشن سے ماہ مئی 2025 سے ستمبر تک اور پھر ماہ اکٹوبر سے رواں سال 2026 فروری تک اردو اکیڈمی سے تنخواہ اداشدنی ہے بتایا جاتا ہیکہ ملازمین کو دس سال قبل بی ار ایس حکومت میں اس وقت کے اردو اکیڈمی کے اعلی حکام نے انہیں بہتر مستقبل اور مستقل ملازمت کا جھانسہ دیگر انکی خدمات کو مائینارٹی فینانس کارپوریشن منتقل کیا گیا تھا تب سے لیکر اب تک ملازمین کی ملازمت کو نہ تو مستقل کیا گیا اور نہ ان کا مستقبل بہتر بنایا گیا گزشتہ دس سال سے ریاست کے تمام کمپیوٹر سنٹرز اور لائبریریوں کے کام کاج کو معطل رکھا گیا بعض ملازمین کو دفتر ڈی یم ڈبلیو منتقل کرتے ہوئے ان سے کام لیا گیا لیکن انکی تنخواہوں میں ایک پائی کا بھی اضافہ نہیں ہوا اور انہیں تمام سرکاری فوائد سے محروم کردیا گیا
ملازمین نے بتایا کہ آنجہانی راج شیکھر ریڈی کے برسراقتدار انے کے بعد انکی پہلی معیاد میں اس وقت کے مائینارٹی ویلفیئر منسٹر محمد علی شبیر صاحب کی نمائندگی پر انکی تنخواہوں میں اضافہ کیا گیا تھا ملازمین نے بتایا کہ وہ انتہائی قلیل تنخواہوں پر گزر بسر کر رہے ہیں زیادہ تر ملازمین کی تنخواہوں پانچ تا آٹھ ہزار روپے ہے ملازمین گزشتہ پانچ سال سے مسلسل اپنے حقوق کے لیے احتجاج کرتے رہے ملازمین نے انہیں ان کے متعلقہ محکمہ اردو اکیڈمی کو منتقل کرنے اور انکی تنخواہوں پے کمیشن کے رولز کے مطابق کرنے اور انہیں مستقل ملازمت فراہم کرنے اعلی عہدیداروں پر دباؤ بنائے رکھا جس کے نتیجہ میں گزشتہ سال ماہ اکٹوبر میں ملازمین کو مائینارٹی فینانس کارپوریشن سے متعلقہ محکمہ اردو اکیڈمی منتقل کیا گیا
لیکن ماہ مئی 2025 سے رواں سال ماہ فروری تک انکی تنخواہوں کو کسی نہ کسی بہانے سے روکے رکھا گیا اس ضمن میں ملازمین کے یونین کی جانب سے اور دیگر اضلاع کے ملازمین ہر وزیر اور مقامی عوامی نمائندوں سے تنخواہوں کی اجرائی کو یقینی بنانے کیلئے نمائندگی کرتے رہے مگر تمام تر نمائندگیاں بے سود رہی ملازمین نے بتایا کہ حکومت کے مشیر برائے اقلیتی امور محمد علی شبیر ‘ اقلیتی بہبود منسٹر محمد اظہر الدین ‘مجلس کے ارکان اسمبلی میر ذوالفقار علی ‘ محمد ماجد حسین ‘ ریاستی وزیر اے لکشمن کمار ‘ سابقہ یم ایل سی جیون ریڈی سے بھی اس سلسلہ میں نمائندگی کی گئی مگر کوئی نتیجہ نہیں نکلا ملازمین نے بتایا کہ دس ماہ سے تنخواہیں نہ ہونے سے وہ شدید مالی مشکلات کا شکار ہے ماہ رمضان بھی چل رہا ہے ملازمین اس مقدس ماہ میں اپنے خاندان کی عید کی خوشیوں کو لیکر کافی فکر مند ہے متعلقہ محکمہ کے اعلی حکام نے ملازمین کو تنخواہوں کی اجرائی کے لیے نمائندگی کرنے پر بتایا کہ انکی فائل محکمہ فینانس میں رکی ہوئی ہے
جبکہ محکمہ فینانس سے تمام محکمہ جات کے عارضی ملازمین کی ریگولرریزیشن کی فائل کلیر کردی گئی امام و موذنین ‘ کے علاوہ ٹمریز کے ملازمین کی تنخواہوں کو بھی ادا کریا گیا ملازمین نے اس موقع پر ریاستی وزیر اعلی ریونت ریڈی اور فینانس منسٹر بھٹی وکرا مارک ‘ اور ریاستی وزیر برائے اقلیتی امور محمد اظہر الدین کے علاوہ ریاستی حکومت کے مشیر برائے اقلیتی امور محمد علی شبیر صاحب سے اپیل کی کہ ماہ رمضان کے پیش نظر انکی تنخواہوں کی اجرائی کو یقینی بنایا جائے تاکہ وہ اپنے اہل و عیال کے ساتھ عید کی حقیقی خوشیاں منا سکے
محمود علی افسر ریاستی تلنگانہ اسٹیٹ اردو اکیڈمی کمپیوٹر سنٹر اینڈ لائیبریری محکمہ اقلیتی بہبود صدر و معتمد عمومی فصیح العابدین نے اپیل کی کہ ملازمین کی تنخواہوں کی اجرائی کو اس مبارک ماہ میں یقینی بنانے تاکہ ملازمین عید کی خوشیوں سے محروم نہ رہے



