جنرل نیوز

تعلیم، صحت، روزگار اور ہاؤزنگ میں ریاستی حکومت کے اقدامات کی ضرورت.پرانے شہر کے مسلمانوں کا ہیلپنگ ہینڈ فاؤنڈیشن کی جانب سے معاشی تعلیمی سروے

حیدرآباد۔7/مارچ۔ پرانے شہر حیدرآباد کے مسلمانوں کی اکثریت ریاستی حکومت سے تعلیم، صحت، روزگار اور امکنہ میں زیادہ سے زیادہ امداد کا مطالبہ کرتی ہے۔ ہیلپنگ ہینڈ فاؤنڈیشن کے سروے میں یہ بات بتائی گئی۔ ڈائریکٹر جناب مجتبیٰ حسن عسکری کے مطابق پرانے شہر حیدرآباد کے 12 سو مسلم خاندانوں کا سروے کیا گیا۔ ان کی سماجی، اقتصادی، ترجیحات انہیں درپیش مسائل سے متعلق واقفیت حاصل کی گئی۔

 

اس میں تین زمرہ جات کا احاطہ کیا گیا۔ ماہانہ پندرہ ہزار سے کم آمدنی والے خط غربت سے نیچے، 15 ہزار سے 49 ہزار تک ماہانہ آمدنی والے اور 50 ہزار سے زیادہ ماہانہ آمدنی والے اوسط طبقے کے خاندان شامل ہیں۔ سطح غرب سے نیچے بسنے والے 77.2 فیصد خاندانوں نے روز مرہ کی زندگی میں کم آمدنی،زیادہ خرچ،68.6فیصد نے صحت اور 60.3فیصد نے بچوں کی تعلیم کو کم آمدنی کے باوجود ترجیحی شعبہ قرار دیا۔

 

کم آمدنی والے گھرانوں میں مستقل روزگار یا چھوٹے کاروبار، گزر بسر کے لئے ناگزیر قرار دیا اور انہوں نے تعلیم اور ہاؤزنگ کو اہمیت دی۔ جواں سال والدین نے تعلیم سے متعلق ضروریات کو ترجیح دی۔ خواتین کی اکثریت نے صحت اور نیم شہری علاقوں کے مسلمانوں نے بہتر انفراسٹرکچر پر زور دیا۔ ضعیف مرد و خواتین نے جن کی کوئی مستقل آمدنی نہیں ہے، پنشن اور سوشیل سکیوریٹی پر زور دیا۔ 60.3 فیصد مسلمانوں کا احساس ہے کہ حکومت کی فلاحی اسکیمات کا پتہ چلانا اور اس سے فیضیاب ہونا دشوار گزار مرحلہ ہے۔

 

67فیصد گھرانوں نے نوجوانوں میں بے روزگار ی سنگین مسئلہ قرار دیا۔ اوسط آمدنی والے گھرانے نے کہا کہ گریجویٹس کو بھی کہیں کام نہیں ملتا۔ ایک سوال کے جواب میں ان مسلم خاندانوں کی اکثریت نے تعلیم کو ترجیح دیتے ہوئے بہتر معیاری اسکولس، اسکالر شپس کا مطالبہ کیا۔ بے روزگار نوجوانوں اور چھوٹے بیوپاریوں نے اسکیل ڈیولپمنٹ پر زور دیا۔

 

20 فیصد عوام نے بہتر سڑکوں، پینے کے پانی اور صفائی اور 16 فیصد مسلمانوں نے اخلاقی تعلیم کو عام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button