جنرل نیوز

ماہ رمضان: مسلمانوں میں تعلیمی بیداری میں اضافہ ہورہا ہے، مگر رہنمائی اور معیاری اداروں کی اشد ضرورت ہے۔ مشتاق انتولے

ممبئی: 8 مارچ

مہاراشٹر حکومت کی مولانا آزاد مالیاتی کارپوریشن کے چیئرمین اور انجمن اسلام، ممبئی کے نائب صدر مشتاق انتولے کے ماہ رمضان میں معمولات میں زیادہ فرق نہیں پڑتا ہے۔ انجمن اسلام کے نائب صدر اور مالیاتی کارپوریشن کے چیئرمین کی حیثیت سے نوجوانوں کی تعلیمی بیداری کے لیے ان کی فکرمندی مسلسل جاری رہتی ہے۔

 

مشتاق انتولے نے اس تعلق سے اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلمانوں میں تعلیمی بیداری پہلے کے مقابلے میں نمایاں طور پر بڑھی ہے، لیکن اس بیداری کو مؤثر سمت دینے کے لیے منظم رہنمائی، معیاری اداروں کے قیام اور مالی معاونت کے مضبوط نظام کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ تعلیمی خدمت کو محض وقتی امداد کے بجائے ایک مشن کے طور پر اختیار کیا جائے۔

 

ماہ رمضان میں ان کی مصروفیات میں زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ عام دنوں کی طرح مولانا آزاد مائناریٹی کارپوریشن اور انجمن اسلام میں ضروری میٹنگ اور دوسری تقریبات میں شرکت کے ساتھ ساتھ دفتری کام بھی انجام دیتے ہیں اور شام میں افطار سے قبل گھر روانہ ہو جاتے ہیں۔نوجوانوں میں آگے بڑھنے کا بڑھتا ہوا جذبہ تقریباً تیس سالہ سیاسی و سماجی تجربے کے حامل مشتاق انتولے، جو سابق وزیراعلیٰ عبد الرحمن انتولے کے قریبی رشتہ دار بھی ہیں، ممبئی اور کوکن کے متعدد تعلیمی اداروں سے وابستہ رہ چکے ہیں۔ ایک خصوصی گفتگو میں انہوں نے موجودہ تعلیمی منظرنامے کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کے اندر آگے بڑھنے کی خواہش میں اضافہ ہوا ہے۔

 

ان کے بقول ہم نے محسوس کیا ہے کہ جو طلبہ خود وسائل نہیں رکھتے وہ آگے بڑھنے کی امنگ رکھتے ہیں۔ بعض اوقات خوشحال طبقے کے مقابلے میں کمزور پس منظر سے آنے والے طلبہ میں تعلیم کے ذریعے اپنی تقدیر بدلنے کا جذبہ زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سرکاری سطح پر پروفیشنل اور ٹیکنیکل کورسز کا آغاز ایک مثبت پیش رفت ہے، تاہم دیہی علاقوں میں ان کورسز کے نفاذ اور استفادے کی صورتحال واضح نہیں۔ ان کے مطابق ادارے تو سرگرم ہیں مگر طلبہ کی رفتار سست دکھائی دیتی ہے۔ ہمیں طلبہ کو بیدار کرنے، ان کی رہنمائی کرنے اور انہیں مواقع سے باخبر رکھنے کے لیے مزید منظم کوششیں کرنی ہوں گی۔ صرف کورسز شروع کر دینا کافی نہیں، ان تک رسانی بھی یقینی بنانا ہوگی۔

 

طلبہ کی رہنمائی کے لیے خصوصی سیل کا قیام

مشتاق انتولے نے بتایا کہ انجمن اسلام کے تمام ٹیکنیکل اور پروفیشنل کالجوں میں اور مخصوص طور پر کالسیکر ٹیکنیکل کیمپس پنویل اور صابو صدیق انجینئرنگ کالج کیمپس میں طلبہ کی رہنمائی کے لیے ایک خصوصی سیل قائم کیا گیا ہے، جس کا مقصد مختلف سرکاری اسکیموں، ریزرویشن پالیسیوں اور مالی امداد کے مواقع سے طلبہ کو مستفید کرنا ہے۔

 

ان کے مطابق او بی سی اور دیگر ریزرویشن پالیسیوں سے یقیناً فائدہ ہو رہا ہے مگر کئی طلبہ محض کاغذی کارروائی کی پیچیدگیوں کے باعث ان مواقع سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ سرٹیفکیٹ اور تحصیلدار کے انکم سرٹیفکیٹ کے حصول میں طلبہ کو دشواری ہوتی ہے۔ اس لیے ہمارا سیل نہ صرف رہنمائی کرتا ہے بلکہ عملی طور پر دستاویزی کارروائی میں بھی مدد فراہم کرتا ہے تاکہ کوئی طالب علم محض رسمی رکاوٹوں کی وجہ سے پیچھے نہ رہ جائے۔

 

تعلیم کے راستے میں مالی رکاوٹیں اور قرضہ اسکیمیں

 

انہوں نے واضح کیا کہ مالی مسائل آج کی سب سے بڑی رکاوٹ بن چکے ہیں، خصوصاً جب ٹیکنیکل اور پروفیشنل تعلیم کی لاگت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اسی تناظر میں انہوں نے مولانا آزاد مالیاتی کارپوریشن کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ادارہ اس وقت تقریباً پندرہ کروڑ روپے کے تعلیمی قرض جاری کر رہا ہے جبکہ تقریباً ساڑھے آٹھ کروڑ روپے کے قرض کی درخواستیں آ چکی ہیں۔

 

ان کے مطابق یہ قرضے طلبہ کو باعزت طریقے سے اپنی تعلیم مکمل کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ طلبہ ان اسکیموں سے فائدہ اٹھائیں اور اعلیٰ تعلیم کے میدان میں آگے بڑھیں۔

تعداد کے بجائے معیار پر توجہ کی ضرورت

 

مشتاق انتولے نے تعلیمی ایجنڈے کے حوالے سے ایک اہم نکتہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہمیں اب تعداد کے بجائے معیار پر توجہ دینی چاہیے۔ ہمیں اچھے اور معیاری ادارے قائم کرنے ہوں گے۔ ساتھ ہی نصاب، اساتذہ اور تربیتی ماحول پر بھی توجہ دینا ہوگی۔

 

انہوں نے تجویز پیش کی کہ اگر بڑے اور مستحکم ادارے چھوٹے اور کمزور تعلیمی اداروں کو اڈاپٹ کریں تو اس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح اگر حکومت بھی محدود فیصد میں مدد فراہم کرے تو وہ بھی مؤثر ثابت ہوگی۔ اصل ضرورت نیت اور منظم حکمت عملی کی ہے۔

 

مخیر حضرات اور فلاحی اداروں کا منظم کردار

 

ان کے مطابق مخیر حضرات اور فلاحی تنظیموں کو بھی اپنی امداد کو منظم اور پائیدار بنانا چاہیے۔ جو لوگ مدد کرنا چاہتے ہیں وہ اسے وقتی خیرات کے بجائے ایک مشن کے طور پر اختیار کریں۔ تعلیم میں سرمایہ کاری دراصل قوم کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی طالب علم مالی مشکلات کے باوجود انجینئرنگ یا کسی دوسرے پروفیشنل شعبے میں کامیابی حاصل کرتا ہے تو اس کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ آگے بڑھنے کے بعد پیچھے بھی مڑ کر دیکھے اور دوسرے ضرورت مند طلبہ کی مدد کرے۔ یہ ایک تسلسل ہونا چاہیے جس میں ایک نسل دوسری نسل کا سہارا بنے۔

 

انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ حکومت کی مختلف اسکیموں کا دائرہ کار وسیع ہے مگر ان سے واقفیت کم ہے۔ انجمن اسلام کے پنویل سیل کا ایک مقصد یہی ہے کہ طلبہ اور والدین کو ان اسکیموں کے بارے میں مکمل آگاہی دی جائے۔

 

گفتگو کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ مسلمانوں میں تعلیمی بیداری کا رجحان حوصلہ افزا ہے مگر اسے عملی کامیابی میں بدلنے کے لیے اجتماعی کوشش درکار ہے۔ ہمیں شکایت کے بجائے حکمت عملی اپنانی ہوگی۔ مالی معاونت، رہنمائی اور باہمی تعاون یہ چار ستون ہماری نئی نسل اور پورے معاشرے کے لیے مثبت تبدیلی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

 

مشتاق انتولے کی گفتگو اس حقیقت کی عکاس ہے کہ تعلیمی میدان میں پیش رفت ممکن ہے، بشرطیکہ ہم منظم منصوبہ بندی، باہمی تعاون اور پائیدار اقدامات کے ذریعے اپنے وسائل کو صحیح سمت میں استعمال کریں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button