مضامین

خبر پہ شوشہ ۔ کتّا گلی اور گلگوٹیا کا 

کے این واصف

کچھ عرصہ سے یہ خبریں اخبارات کی سرخیوں میں ہیں کہ فلاں شہر میں آوارہ کتّوں نے کم سن بچوں پر حملہ کیا یا فلاں شہر میں کتّوں نے راہ چلتی خواتین پر حملہ کرکے انھیں شدید زخمی کردیا وغیرہ۔ ان خبروں نے ارباب مجاز کو بدنام و رسوا کیا۔

 

مگر‌حال‌ہی میں  دہلی میں منعقد ہوئی AI سمٹ میں نوئیڈا کی گلگوٹیا یونیورسٹی کا پیش کردہ “روبو ڈاگ” (مشینی کتّا) میڈیا میں چھایا ہوا ہے۔ گلی کے کتّوں نے اپنے کتّے پن سے ملک کے کچھ شہروں کے انتظامیہ کو رسوا کیا۔ مگر یہ روبوڈگ جسے گلگوٹیا یونیورسٹی نے اپنی تخلیق بتایا تھا، نے ہمی‌ بین الاقومی سطح پر رسوا کیا۔

 

کتّوں سے متعلق دسیوں کہاوتیں بھی ہیں جن میں ایک “ہرکتّے کے دن بدلتے ہیں” بہت عام ہے۔ گلگوٹیا یونیورسٹی کے کتّے کے دن بھی بدلے اور وہ راتوں رات منفی ہی سہی عالمی سطح پر مشہور ہوگیا۔ یہ اس طرح ہے جیسے “بدنام جو ہونگے تو کیا نام نہ ہوگا”۔

متعلقہ خبریں

Back to top button