پُرامن معاشرے کی تشکیل میں ماں کی عظیم ذمہ داری

محمد نذیر الدین
دنیا بھر میں 8 مارچ کو عالمی یومِ خواتین منایا جاتا ہے۔ اس دن خواتین کی عزت، ان کے حقوق اور معاشرے میں ان کی خدمات کو یاد کیا جاتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی نہایت اہم ہے کہ عورت کی سب سے عظیم اور اثر انگیز حیثیت ماں کی ہے۔ ایک ماں صرف اپنے بچوں کی پرورش ہی نہیں کرتی بلکہ درحقیقت وہ آنے والے معاشرے کی تعمیر و تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
اگر مائیں اپنی اولاد کی تربیت حکمت، محبت اور اعلیٰ اخلاق کے ساتھ کریں تو گھروں میں سکون پیدا ہوتا ہے، اور جب گھر پُرسکون ہوں تو پورا معاشرہ امن اور ہم آہنگی کا گہوارہ بن جاتا ہے۔ماں کی محبت بے لوث اور بے مثال ہوتی ہے۔ وہ اپنی اولاد سے کسی صلے یا بدلے کی امید نہیں رکھتی۔ اسی محبت اور قربانی کی وجہ سے بچے اپنی ماں کے سب سے زیادہ قریب ہوتے ہیں۔ وہ اس کی بات سنتے ہیں، اس کے کردار کو دیکھتے ہیں اور اکثر اس کی عادات کو اپناتے ہیں۔ اسی لیے بچوں کی اخلاقی اور جذباتی تربیت میں ماں کا اثر سب سے زیادہ ہوتا ہے۔
اسلام نے ماں کے مقام کو انتہائی بلند رکھا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا”
(اے میرے رب! میرے والدین پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں میری پرورش کی۔)
(سورۃ بنی اسرائیل: 24)
اسی طرح نبی کریم ﷺ نے ماں کی عظمت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:
"الجنة تحت أقدام الأمهات”
جنت ماؤں کے قدموں تلے ہے۔
(سنن نسائی)
ایک اور حدیث میں ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا:
"یا رسول اللہ! میرے حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟”
آپ ﷺ نے فرمایا: تمہاری ماں۔
اس نے دوبارہ پوچھا: پھر کون؟
آپ ﷺ نے فرمایا: تمہاری ماں۔
اس نے تیسری بار پوچھا: پھر کون؟
آپ ﷺ نے فرمایا: تمہاری ماں۔
چوتھی بار فرمایا: پھر تمہارا باپ۔
(صحیح بخاری و صحیح مسلم)
یہ تعلیمات ہمیں بتاتی ہیں کہ ماں صرف ایک رشتہ نہیں بلکہ ایک عظیم ذمہ داری اور ایک مقدس ادارہ ہے۔
ماں کی شفقت کی ایک مثال
رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک شخص نے ایک چڑیا کے بچوں کو پکڑ کر کپڑے میں چھپا لیا۔ جب چڑیا کی ماں اپنے بچوں کو نہ پا کر بے چین اور پریشان ہو کر ادھر ادھر منڈلانے لگی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"کس نے اس چڑیا کو اس کے بچوں سے جدا کیا ہے؟ اس کے بچے واپس رکھ دو، اس کی ماں بے چین ہے۔”
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ماں کی محبت صرف انسانوں میں ہی نہیں بلکہ جانوروں میں بھی فطری طور پر موجود ہے۔
ہم عام طور پر دیکھتے ہیں کہ جب کسی جانور کو خطرہ محسوس ہوتا ہے تو وہ اپنی جان بچانے کی کوشش کرتا ہے، لیکن جب اس کے بچوں کا معاملہ آ جائے تو وہ اپنی جان کی پروا کیے بغیر ان کی حفاظت کے لیے کھڑا ہو جاتا ہے۔ یہی ماں کی فطری محبت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اس کے دل میں رکھا ہے۔
ماؤں کی تربیت اور عظیم شخصیات
تاریخ گواہ ہے کہ بڑے بڑے علماء، قائدین اور مصلحین کی کامیابی کے پیچھے اکثر ایک ماں کی بہترین تربیت اور دعائیں ہوتی ہیں۔ سلف صالحین کی زندگیوں کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی شخصیت سازی میں ان کی ماؤں کا کردار نہایت نمایاں تھا۔
مشہور فرانسیسی رہنما ناپولین بوناپارٹ نے ایک مرتبہ کہا تھا:
"مجھے اچھی مائیں دو، میں تمہیں ایک عظیم قوم دوں گا۔”
یہ قول اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ قوموں کی تعمیر دراصل ماؤں کی گود میں ہوتی ہے۔
بچوں کی اخلاقی تربیت
ماں کی ایک بڑی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو دوسروں کا درد سمجھنا سکھائے۔ اگر بچہ کسی کو تکلیف پہنچانے کا سوچے تو اسے یاد دلایا جائے کہ جس طرح تمہاری ماں تم سے محبت کرتی ہے اسی طرح دوسروں کی مائیں بھی اپنے بچوں سے محبت کرتی ہیں۔
اسی طرح ماؤں کو چاہیے کہ وہ اپنے بیٹوں کو عورتوں کے احترام کی تعلیم دیں۔ انہیں بتائیں کہ ہر لڑکی کسی کی بیٹی اور کسی کی بہن ہوتی ہے۔ ایک سمجھدار ماں اپنے بیٹے سے کہہ سکتی ہے:
"تمہاری بیوی بھی کسی کی لاڈلی بیٹی ہوگی، اس کے ساتھ عزت، محبت اور نرمی سے پیش آنا۔”
اگر یہ تعلیم بچپن سے دی جائے تو گھروں میں جھگڑوں کے بجائے محبت اور سکون پیدا ہوگا۔
اسی طرح والدین کو اپنے بچوں کو دوہرا معیار (Double Standards) سکھانے سے بھی بچنا چاہیے۔ جس طرح اپنی بیٹی کے لیے نرمی اور محبت پسند کی جاتی ہے، اسی طرح بہو کے ساتھ بھی حسنِ سلوک ہونا چاہیے۔
دوسری طرف بہو کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی ساس کا احترام اسی طرح کرے جیسے اپنی ماں کا کرتی ہے۔ جب دونوں طرف صبر، برداشت اور سمجھداری ہو تو گھر جنت کا نمونہ بن جاتا ہے۔
عورت کی تعلیم کی ضرورت
اس لیے عورتوں کی بالخصوص دینی اور اخلاقی تعلیم نہایت ضروری ہے۔ اگر عورت علم اور شعور سے محروم ہو تو اس کا اثر صرف اس کی ذات تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے معاشرے پر پڑتا ہے۔ کیونکہ وہ آنے والی نسلوں کی معلمہ اور مربیہ ہوتی ہے۔
اگر مائیں اپنے بچوں کو صبر، عاجزی، انصاف اور انسانیت کی تعلیم دیں تو معاشرہ نفرت، غرور اور ظلم سے پاک ہو سکتا ہے۔
دو خوبصورت اشعار
علامہ اقبال نے ماں کے مقام کو یوں بیان کیا ہے:
وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں
ایک اور شاعر نے کہا:
ماں کی آغوش میں جو درسِ محبت ملتا ہے
وہ کسی مدرسے کی کتابوں میں نہیں ملتا
چند اقوالِ زریں
1۔
"ماں پہلی درسگاہ ہے اور اس کی گود انسان کا پہلا مدرسہ۔”
2۔
"اگر تم ایک نسل کو سنوارنا چاہتے ہو تو اس کی ماؤں کی تربیت کرو۔”
نتیجہ
لہٰذا عالمی یومِ خواتین کے موقع پر ہمیں صرف خواتین کے حقوق کی بات ہی نہیں کرنی چاہیے بلکہ ان کی اس عظیم ذمہ داری کو بھی سمجھنا چاہیے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا کی ہے۔
اگر مائیں اپنی اولاد کی تربیت محبت، انصاف، ہمدردی اور اخلاق کے ساتھ کریں تو گھر امن کے گہوارے بن جائیں گے، معاشرہ محفوظ ہوگا اور دنیا میں ہم آہنگی اور سکون کا ماحول پیدا ہوگا۔



