عادل آباد کے نائب قاضی مولانا عبدالعزیز قاسمی کا انتقال، علمی و سماجی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر

عادل آباد۔9/مارچ(اردو لیکس)عادل آباد شہر کی ممتاز علمی و سماجی شخصیت، نائب قاضی عادل آباد اور جمعیت علماء ہند عادل آباد کے جنرل سیکریٹری حضرت مولانا عبدالعزیز قاسمی کا 73 سال کی عمر میں انتقال ہو گیا۔
ان کے اچانک انتقال کی خبر سے شہر کے علمی، مذہبی اور سماجی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی اور بڑی تعداد میں لوگ تعزیت کے لئے ان کی رہائش گاہ پہنچے۔ خاندانی ذرائع کے مطابق 7 مارچ بروز ہفتہ مولانا کی طبیعت اچانک ناساز ہو گئی تھی، جس پر انہیں فوری طور پر شہر کے ایک خانگی اسپتال میں داخل کرایا گیا۔
اسی روز تقریباً ساڑھے گیارہ بجے انہیں شدید قلبی دورہ پڑا جس کے باعث ان کی حالت تشویشناک ہو گئی۔تاہم ڈاکٹروں کی کوششوں کے باوجود وہ جانبر نہ ہو سکے اور اتوار 8 مارچ کو دوپہر تقریباً 12 بجے انہوں نے داعیٔ اجل کو لبیک کہا۔مولانا عبدالعزیز قاسمی اپنی خوش اخلاقی، سادگی اور مخلصانہ مزاج کے باعث عوام و خواص میں بے حد مقبول تھے۔
وہ جمعیتہ علماء ہند عادل آباد کے جنرل سیکریٹری اور نائب قاضی کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔ اس کے علاوہ وہ ماضی میں تدریسی شعبہ سے بھی وابستہ رہے اور سینکڑوں طلبہ کو دینی تعلیم سے فیضیاب کیا، جس کے باعث انہیں علمی حلقوں میں قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ مولانا کے انتقال کی اطلاع عام ہوتے ہی شہر کے علماء کرام، سماجی و سیاسی شخصیات اور عقیدت مندوں کی بڑی تعداد ان کی رہائش گاہ پہنچ کر اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرنے لگی۔مرحوم کی نماز جنازہ اتوار کی شب بعد نماز تراویح تقریباً 10 بجے ادا کی گئی۔
نماز جنازہ کی امامت ان کے فرزند حافظ مزمل ملک نے کی۔ نماز جنازہ میں علماء و حفاظ، رشتہ داروں، دوست و احباب اور عوام الناس کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ بعد ازاں مرحوم کو عیدگاہ سے متصل قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔مرحوم کے پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ سات صاحبزادے اور تین صاحبزادیاں شامل ہیں۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔



