مضامین

زکوٰۃ کی رقم پر کمیشن: ایک فقہی تحقیق

از قلم : مفتی محمد عبدالحمید شاکر قاسمی      توپران ضلع میدک تلنگانہ

Mufti

الحمد للّٰہ ربِّ العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید المرسلین، وعلی آلہ واصحابہ اجمعین، اما بعد!

زیرِ بحث مسئلہ کی تمام تفصیلات، نصوصِ قرآنیہ کی صراحتوں، احادیثِ نبویہ کی ہدایات، اور فقہاءِ امت کی تصریحات کو سامنے رکھنے کے بعد یہ حقیقت پوری طرح منکشف ہو جاتی ہے کہ زکوٰۃ ایک ایسی عظیم الشان عبادت ہے جس کی بنیاد محض مالی ادائیگی پر نہیں بلکہ امانت، دیانت، تملیکِ صحیح اور مقاصدِ شریعت کی رعایت پر قائم ہے (التوبہ: 60)، اور جس میں ادنیٰ سی بے احتیاطی بھی فقراء کے حق میں تعدّی اور عبادت کی روح میں خلل کا سبب بن سکتی ہے (رد المحتار، ج 2، ص 344)۔

 

یہ امر مسلّم ہے کہ زکوٰۃ کی مشروعیت تطہیرِ نفس، تزکیۂ مال اور اقامۂ عدلِ اجتماعی کے لیے ہے (التوبہ: 103)، اور اسی لیے قرآنِ مجید نے اسے نماز کے ساتھ ذکر فرما کر اس کی دینی مرکزیت کو واضح کیا (البقرہ: 43)، نیز مصارف کو “إِنَّمَا” کے اسلوبِ حصر کے ساتھ محدود کر دیا تاکہ کوئی شخص اپنی رائے یا مصلحتِ ظاہری کی بنیاد پر اس کے دائرہ کو وسیع نہ کرے (التوبہ: 60)۔ پس جو ادارے یا افراد زکوٰۃ کی رقم کو کمیشن، فیس یا انتظامی اخراجات کے عنوان سے قبل از تملیک کاٹ لیتے ہیں، وہ درحقیقت اس حصرِ قرآنی کی تحدیدات کو نظر انداز کرتے ہیں، حالانکہ فقہاءِ کرام نے تصریح کی ہے کہ زکوٰۃ کی صحت کے لیے تملیکِ فقیر شرط ہے (رد المحتار، ج 2، ص 344)، اور بغیر اجازت غیر کے مال میں تصرف ناجائز ہے (المبسوط، ج 14، ص 33)۔

 

مزید برآں “العاملین علیھا” کی جو حیثیت قرآنِ مجید میں مذکور ہے (التوبہ: 60)، اس کی توضیح میں فقہاءِ امت نے واضح کیا کہ عامل وہ ہے جسے امام یا سلطان مقرر کرے (الہدایہ، ج 1، ص 112)، اور یہی تصریح بدائع الصنائع اور المغنی میں بھی موجود ہے (بدائع الصنائع، ج 2، ص 45؛ المغنی، ج 2، ص 509)، لہٰذا موجودہ نجی اداروں کے سفراء کو بلا دلیل اس مصرف میں شامل کرنا قیاس مع الفارق ہے، اور شرعی اصطلاحات کو عرفی مفاہیم پر محمول کرنا علمی دیانت کے خلاف ہے۔ اس نکتے کی نزاکت کو سمجھنا نہایت ضروری ہے، کیونکہ اگر ہر وہ شخص جو زکوٰۃ جمع کرے “عامل” قرار پائے تو پھر حصرِ قرآنی کی معنویت باقی نہیں رہتی (التوبہ: 60)۔

 

تاہم اگر کوئی (طالب علم)کسی ادارے کو اپنی جانب سے زکوٰۃ وصول کرنے کا وکیل مقرر کرے اور صراحتاً اجازت دے کہ وہ زکوٰۃ کی رقم وصول کرنے پر واجبی اجرت لے سکتا ہے، تو یہ معاملہ وکالت کے اصول کے تحت جائز ہوگا، کیونکہ “الوكيل أمين” (بدائع الصنائع، ج 6، ص 27)، اور ایسی صورت میں اجرت کا استحقاق عقدِ وکالت سے ثابت ہوتا ہے نہ کہ زکوٰۃ کے مصرف ہونے کی حیثیت سے مگر اس میں بھی یہ بات لازم ہے کہ یہ مکمل معاملہ و معاہدہ شفافیت کے ساتھ ہو نیز اجرت کی تعیین واضح و منضبط ہو تاکہ شبہات کا دروازہ بند رہے، کیونکہ حدیث میں آیا: “الحلال بين والحرام بين…” (صحیح بخاری، کتاب البیوع)۔

 

دینی اداروں کے لیے اس مسئلہ میں خصوصی احتیاط لازم ہے، اس لیے کہ مدارس کا نظام زیادہ تر زکوٰۃ اور عطیات پر قائم ہے، اور اگر نمائندگان کو فیصدی بنیاد پر زکوٰۃ ہی میں سے دیا جائے تو اس میں ایک طرف تو مستحق طلبہ کے حق میں کمی واقع ہوتی ہے تو دوسری طرف زکوٰۃ دہندگان کے منشا کی بھی خلاف ورزی ہوتی ہے (رد المحتار، ج 2، ص 344)مذکورہ بالا مسئلہ میں اگر نمائندہ کی تنخواہ غیرِ زکوٰۃ فنڈ سے ادا کی جائے اور زکوٰۃ مکمل طور پر مستحقین پر صرف کی جائے تو یہ سب سے بہتر جائز اور محتاط صورت ہے (الہدایہ، ج 1، ص 112)۔ اسی میں دیانت، شفافیت اور امانت کا تقاضا پورا ہوتا ہے۔

 

اصولی طور پر مقاصدِ شریعت کا تقاضا یہ ہے کہ زکوٰۃ کا نظام فقراء کی اعانت، معاشرتی توازن اور روحانی پاکیزگی کے لیے ہو (التوبہ: 103)، نہ کہ ادارہ جاتی مفادات یا مالی منافع کے لیے۔ “سدِّ ذرائع” کا قاعدہ بھی یہی بتاتا ہے کہ جو ذریعہ عبادت کے مقصد کو متاثر کرے اسے روکا جائے (الموافقات، ج 4، ص 195)، لہٰذا ایسے تمام طریقے جو زکوٰۃ کو تجارتی قالب میں ڈھال دیں، احتیاط کے منافی ہیں، خواہ وہ بظاہر قانونی یا عرفی جواز رکھتے ہوں۔

 

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی میں تین امور کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھا جائے: اول، تملیکِ صحیح اور کامل (رد المحتار، ج 2، ص 344)؛ دوم، مصارف کی تحدید اور حصرِ قرآنی کی پابندی (التوبہ: 60)؛ سوم، نیت و اخلاص اور تقویٰ کی رعایت (صحیح بخاری، کتاب الایمان)۔ اگر یہ تینوں اصول ملحوظ رہیں تو نہ صرف زکوٰۃ کی ادائیگی شرعاً درست ہوگی ؛ بلکہ اس کی روحانی و معاشرتی برکات بھی ظاہر ہوں گی۔

 

مگر موجودہ دور میں بہت سے صدور اور بعض ذمہ داران مدارس لاعلمی کی وجہ سے یا مال کی لالچ کی وجہ سے زکوۃ سے حاصل ہونے والی رقم میں 50 فیصد محنت کے نام پر ہڑپ لے رہے ہیں اور حقدار تک اس کو نہیں پہنچا رہے ہیں اور بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ ہم ہم مدرسے کو چلا رہے ہیں اب مدرسے کو جتنی ضرورت ہے سال بھر میں وہ ہم دیتے رہیں گے اور جو رقم بچ جائے گی وہ ہماری محنت کی وجہ سے ہماری ہو جائے گی یہ انتہائی جہالت اور زکوۃ کی معنویت کو ختم کرنے والی چیز ہے اس لیے فیصد کے اعتبار سے اجرت طے کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے بہترین اور پسندیدہ چیز یہ ہے کہ آپ ایک اجرت طے کر دیں مثال کے طور پر دس ہزار بیس ہزار جو بھی رقم ہو

 

لہذا ہر زکوۃ دینے والے کو یہ دیکھنا چاہیے کہ زکوۃ لینے والا کس نظام کے تحت لے رہا ہے کیا اس کے پاس تملیک کا یا محتاج کو مالک بنانے کا کوئی شرعی نظام ہے یا پھر وہ اپنی دکان اور اپنا گھر اور اپنے جائیداد کے لیے مال کو جمع کر رہا ہے۔پس اہلِ مدارس، منتظمینِ ادارہ جات اور اربابِ خیر سب کے لیے ضروری ہے کہ وہ زکوٰۃ کے باب میں انتہائی احتیاط، شفاف حساب، واضح وکالت اور مکمل تملیک کا اہتمام کریں، تاکہ فقراء کا حق محفوظ رہے، عبادت کی روح برقرار رہے

 

اور اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہی کے وقت کوئی مؤاخذہ نہ ہو (التوبہ: 103)۔ یہی طرزِ عمل احوط، اسلم اور اقرب الی التقویٰ ہے، اور اسی میں دین و دنیا کی فلاح مضمر ہے، واللہ اعلم بالصواب۔

متعلقہ خبریں

Back to top button