نیشنل

گیس کی قلت۔ ممبئی میں 20 فیصد ہوٹلس اور ریسٹورینٹس بند

ممبئی : ایک طرف مرکزی حکومت کہہ رہی ہے کہ ملک میں تیل اور گیس کے ذخائر کافی ہیں لیکن دوسری طرف کئی علاقوں میں ایندھن کی کمی تشویش پیدا کر رہی ہے۔ کمرشل سلنڈروں (LPG) کی قلت کے باعث ممبئی میں تقریباً 20 فیصد ہوٹل اور ریسٹورنٹ بند ہو گئے ہیں۔

 

ممبئی ہوٹل اینڈ ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن نے منگل کے روز یہ بات بتائی۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہی صورتحال جاری رہی تو آئندہ دو دنوں میں شہر کے آدھے ہوٹل بھی بند ہو سکتے ہیں۔ایسوسی ایشن آف ہوٹلز اینڈ ریسٹورنٹس (آہار) کے مطابق ممبئی کے تقریباً 10 سے 20 فیصد ہوٹل پہلے ہی بند ہو چکے ہیں اور اگر گیس کی قلت اگلے 3 دنوں تک جاری رہی تو ممبئی کے تقریباً 50 فیصد ہوٹل بند ہو سکتے ہیں۔

 

شہر کے ڈونگری علاقے میں کئی ہوٹلوں کے شٹر گرچکے ہیں۔ یہاں کے ایک ہوٹل مالک نے بتایا کہ ان کے پاس آخری سلنڈر میں بھی تھوڑی ہی گیس بچی ہے۔ جس کے ختم ہوتے ہی ہوٹل کو بند کرنا پڑے گا۔صرف ممبئی ہی نہیں بلکہ گزشتہ دو دنوں سے ملک کے کئی بڑے شہروں میں کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی پیدا ہو گئی ہے۔

 

دہلی اور بنگلورو میں بھی کچھ ہوٹلوں کو کھانا پکانے کے گیس کی عدم دستیابی کی وجہ سے عارضی طور پر بند کیا جا رہا ہے۔ ہوٹل مالکان کا کہنا ہے کہ سلنڈروں کی کمی کی وجہ سے ان کے کاروبار کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ دوسری طرف کچھ علاقوں میں بلیک مارکیٹ بھی بڑھ رہی ہے اور خبریں ہیں کہ ایک کمرشل سلنڈر کو دگنی قیمت پر فروخت کیا جا رہا ہے۔

 

ان حالات کے پیش نظر بلیک مارکیٹ کو روکنے کے لیے مرکزی حکومت نے پہلے ہی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ ایل پی جی سلنڈروں کی بکنگ کے وقفے کو موجودہ 21 دن سے بڑھا کر 25 دن کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کمرشل سلنڈروں کی سپلائی کا جائزہ لینے کے لیے وزارتِ پٹرولیم نے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔

 

ہمارے ملک میں ہر سال تقریباً 31.3 ملین ٹن کھانا پکانے والی گیس استعمال ہوتی ہے، جس میں سے 62 فیصد درآمدات سے آتی ہے۔ اس وقت مغربی ایشیا میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث ان درآمدات پر اثر پڑا ہے۔ تاہم مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ فی الحال ہمارے پاس گیس کے مناسب ذخائر موجود ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button