مضامین

“شانہ بشانہ” (افسانچہ) 

کے این واصف 

میں بین الاقوامی یوم خواتین کے سلسلے میں منعقد ایک تقریب میں شریک تھا۔ شہر کے ایک اعلی شان ھال میں پر اثر تقریب تھی۔ مقررین اپنے خطاب میں “وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ” کے خیال کو اپنے اپنے انداز مین پیش کر رہے تھے۔ عورت کی انسانی سماج میں اہمیت، جذب ایثار و قربانی وغیرہ جیسے اوصاف پر بہترین الفاظ مین بیان حال میں گونج رہے تھے

 

مگر ایک بات جو بیشتر تقاریر مین قدر مشترک تھی وہ عورت کا ہر شعبہ حیات مین مرد کے شانہ بشانہ ہونے کی بات اور کی ستائش تھی۔ تقاریر کو سنکر میرے ذہن میں ایک خیال آیا۔ سوچا بغل میں بیٹھے اپنے دوست سے اپنا خیال شیئر کروں پھر خیال آیا کہ یہ وقت مناسب نہیں کیونکہ لوگ بڑی حاموشی اور توجہ کے ساتھ مقررین کو سن رہے ہیں

 

لیکن اچانک ایک مقرر کے جملے نے مجھے حیرت زدہ کردیا۔ وہ بات جو میرے ذہن مین کلبلا رہی تھی وہ بات مقرر کے منہ نکلی۔ اس نے کہا “کیا ہی اچھا ہو کہ مردون کے شانہ بشانہ ہوئی یہ قابل فخر عورتیں طرز کہن کے بیچ ایک رسم نو ڈالیں۔ روایتی نفرت کو محبت مین بدلین۔ اور ساس بہو، نند بھوج، دیورانی جٹھانی “شانہ بشانہ” ہوجائیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button