کاماریڈی میں تین بچوں کے قتل پر محمد علی شیر کا گہرے دکھ کا اظہار، مالی امداد کی فراہمی ۔ماں کو دلاسہ دینے کے دوران خود بھی آنسوؤں کو روک نہ سکے

کاماریڈی سے سیدکوثرعلی کی رپورٹ
کاماریڈی میں پیش آئے دل دہلا دینے والے واقعہ نے سب کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ تینوں بچوں شفاعت، آیت اور مریم جن کا کوئی قصور نہیں تھا، کو ان کے والد کی جانب سے تالاب میں پھینکے جانے کے واقعے نے قصبے کے لوگوں کو شدید صدمہ پہنچایا ہے۔
اس غیر انسانی واقعہ نے حکومتی مشیر محمد علی شبیر علی کو سخت صدمہ پہنچایاشبیر علی نے ان بچیوں کی والدہ کو تسلی دے رہے اشکبار ہو گئے۔واقعہ کی اطلاع ملتے ہی شبیر علی متاثرہ کے اہل خانہ سے ملنے گئے۔ اپنے تین بچوں کو کھونے کے بعد ماں کو روتے دیکھ کر وہ بھی جذباتی نمدیدہ ہو گیے۔ تسلی دیتے ہوئے اور ہمت دیتے ہوئے انکی آنکھوں بھی میں آنسوؤں بھرآے
اس موقع پر شبیر علی نے کہا انسان اتنا ظالم کیسے ہو سکتا ہے؟ اپنے ہی بچوں کو مارنے پر کیسے راضی ہو سکتا ہے یہ صرف ایک خاندان کے ساتھ ناانصافی نہیں ہے، یہ انسانیت کی توہین ہے۔انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ اگر ہمارے اردگرد کوئی بھوکا مر رہا ہے یا مالی مشکلات کا سامناکررہاہے تو ہم اپنی جتنی ہوسکے مدد کریں، تب ہی ہم ایسے واقعات کو روک سکتے ہیں
انہوں نے متاثرہ خاندان کو فوری امداد فراہم کرتے ہوئے کئی وعدے کئے۔ انہوں نے متاثرہ خاندان کو فوری مالی امداد فراہم کی۔انھوں نے ماں کو روزی کمانے کے لیے کنٹریکٹ نوکری فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔انہوں نے کہا کہ قصای باپ کو سخت سے سخت سزا دلوانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔شبیر علی نہ صرف ایک سیاسی رہنما کے طور پر بلکہ ایک ہمدرد انسان کے طور پر بھی کاماریڈی کے لوگوں کے ساتھ ایسے مشکل اوقات میں کھڑے ہوتے ہیں۔
مقامی لوگ ان کی تعریف کرتے ہیں بلکہ کہتے ہیں کہ ہم خوش قسمت ہیں کہ ایسا لیڈر ملا جو عوام کی مشکلات کو اپنی پریشانی سمجھتا ہے۔



