ممبئی میں دعوتِ افطار اور سحری کا پُرتکلف سلسلہ، حاجی علی درگاہ پر دیسی سحری میں بھائی چارے کا دلکش منظر

ممبئی:ماہِ رمضان المبارک اپنی روحانی برکتوں، عبادتوں اور اجتماعی ہمدردی کے جذبات کے ساتھ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے ایک مقدس مہینہ ہے۔ اس مہینے میں جہاں ایک طرف عبادت، تلاوتِ قرآن، صدقہ و خیرات اور شب بیداریوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے، وہیں دوسری طرف افطار اور سحری کی محفلیں بھی سماجی اور روحانی زندگی کا اہم حصہ بن جاتی ہیں۔ عروس البلاد ممبئی میں بھی رمضان المبارک کے دوسرے عشرے کے ساتھ ہی دعوتِ افطار اور سحری کی پُرتکلف محفلوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں اہلِ خیر، سماجی کارکنان، کاروباری شخصیات اور مذہبی و سماجی تنظیموں کی جانب سے روزہ داروں کے لیے افطار اور سحری کے اجتماعات منعقد کیے جا رہے ہیں، جہاں نہ صرف کھانے پینے کا اہتمام ہوتا ہے بلکہ روحانی فضا بھی قائم رہتی ہے۔
رمضان المبارک کے ان مبارک لمحات میں افطار کی گھڑی کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ روزہ دار پورا دن بھوک اور پیاس برداشت کرنے کے بعد جب مغرب کی اذان پر افطار کرتے ہیں تو یہ لمحہ شکرگزاری، دعا اور روحانی سکون کا ہوتا ہے۔ اسی طرح سحری کا وقت بھی نہایت بابرکت سمجھا جاتا ہے۔ احادیث میں سحری کو باعثِ برکت قرار دیا گیا ہے اور اس وقت میں کی جانے والی عبادت کو بڑی فضیلت حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ممبئی میں بھی افطار کے ساتھ ساتھ سحری کی اجتماعی محفلوں کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اس سال رمضان المبارک کے تیسرے عشرے کی آمد کے باوجود سیاسی افطار پارٹیوں کی وہ گہماگہمی نظر نہیں آ رہی جو ماضی میں دیکھنے کو ملتی تھی۔ پہلے مختلف سیاسی جماعتیں بڑے پیمانے پر افطار پارٹیاں منعقد کرتی تھیں جن میں سیاسی سرگرمیوں اور میڈیا کی توجہ کا عنصر نمایاں ہوتا تھا۔ بعض مواقع پر ان تقریبات میں اصل روحانیت کے بجائے نمائشی پہلو زیادہ غالب ہو جاتا تھا۔ اس سال چونکہ کوئی بڑا انتخابی مرحلہ درپیش نہیں ہے، اس لیے سیاسی جماعتوں کی جانب سے افطار پارٹیوں کا سلسلہ بہت محدود نظر آ رہا ہے۔
کچھ سماجی حلقوں کے نزدیک یہ صورتحال ایک مثبت تبدیلی بھی سمجھی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ افطار پارٹیوں کو محض سیاسی یا سماجی تشہیر کا ذریعہ بنانے کے بجائے اسے عبادت اور اخلاص کے جذبے کے ساتھ منایا جانا چاہیے۔ روزہ دراصل بندے اور اس کے رب کے درمیان ایک ایسا مقدس تعلق ہے جس میں ریاکاری یا دکھاوے کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ افطار کا مقصد اللہ کی نعمتوں پر شکر ادا کرنا اور سادگی کے ساتھ روزہ کھولنا ہے۔ اسی لیے بہت سے لوگ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ افطار کی تقریبات میں سادگی اور روحانیت کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
ممبئی میں اس سال بڑی افطار تقریبات کا آغاز سب سے پہلے حج کمیٹی آف انڈیا کی جانب سے منعقد کی گئی دعوتِ افطار سے ہوا۔ اس تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی اور رمضان کی برکتوں سے مستفید ہونے کی کوشش کی۔ اس کے بعد دوسرے عشرے سے شہر کے مختلف علاقوں میں سماجی و مذہبی تنظیموں اور کاروباری شخصیات کی جانب سے افطار اور سحری کے اجتماعات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
خلیجی خطے میں جاری کشیدگی کے باعث اس سال بعض روایتی تقریبات میں تبدیلی بھی دیکھنے کو ملی۔ سعودی ایئرلائنز کے معروف ایجنٹ اور معروف کاروباری شخصیت ذکاء اللہ صدیقی نے 5 مارچ کو ہونے والی اپنی روایتی افطار دعوت کو منسوخ کر دیا۔ تاہم رمضان کے آخری عشرے میں مزید افطار تقریبات کا انعقاد متوقع ہے۔ سماج وادی پارٹی کے مہاراشٹر صدر ابو عاصم اعظمی کی جانب سے صحافیوں اور پارٹی کارکنوں کے لیے افطار کی دعوت رکھی جا رہی ہے، جبکہ مختلف سماجی اور مذہبی ادارے بھی افطار کے اجتماعات کا اہتمام کر رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں جماعتِ اسلامی ممبئی میٹرو نے بھی صحافیوں کے اعزاز میں ایک پُرتکلف دعوتِ افطار اور عشائیہ کا اہتمام کیا جس میں شہر کے متعدد صحافیوں اور دانشوروں نے شرکت کی۔
اس سال ایک دلچسپ رجحان یہ بھی سامنے آیا ہے کہ کئی مقامات پر افطار کی جگہ سحری کی دعوتوں کا سلسلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ سحری کی یہ محفلیں نہ صرف عبادت کے لیے قوت اور تازگی فراہم کرتی ہیں بلکہ ان میں سادگی اور روحانیت کا ایک خاص رنگ بھی نمایاں ہوتا ہے۔ رات کے آخری پہر میں منعقد ہونے والی یہ محفلیں لوگوں کو عبادت اور دعا کی طرف زیادہ متوجہ کرتی ہیں۔
اسی رجحان کی ایک نمایاں مثال ممبئی کے ساحلِ ورلی کے قریب بحیرۂ عرب میں واقع تاریخی اور روحانی مرکز حاجی علی درگاہ میں دیکھنے کو ملی۔ اس سال درگاہ میں ایک خصوصی بین المذاہب سحری کا اہتمام کیا گیا جس میں مختلف مذاہب اور برادریوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ اس اجتماع نے ممبئی کی اس خوبصورت روایت کو اجاگر کیا جس میں مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور احترام کے ساتھ رہتے ہیں۔
درگاہ کے چیئرمین سہیل کھنڈوانی نے اس موقع پر اعلان کیا کہ درگاہ کے قریب واقع جزیرے پر ملک کا سب سے بلند قومی پرچم نصب کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ حب الوطنی، قومی یکجہتی اور مشترکہ شناخت کی علامت ہوگا۔ چونکہ یہ مقام سمندر کے درمیان واقع ہے، اس لیے پرچم کے لیے خصوصی دھاتی ڈھانچہ اور مضبوط بنیاد تیار کی جائے گی تاکہ موسمی حالات کا بہتر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔
تاریخی حاجی علی درگاہ ممبئی کی روحانی اور ثقافتی شناخت کا ایک اہم ستون ہے۔ پندرہویں صدی میں تعمیر ہونے والا یہ مزار عظیم صوفی بزرگ حضرت پیر حاجی علی شاہ بخاری سے منسوب ہے۔ تاریخی روایات کے مطابق ان کا تعلق قدیم فارسی سلطنت کے شہر بخارا سے تھا جو آج کل ازبکستان کا حصہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے دنیاوی دولت اور آسائشوں کو ترک کر کے روحانیت کی راہ اختیار کی اور بعد میں ممبئی میں قیام کیا۔
بحیرۂ عرب کے درمیان واقع یہ سفید گنبد والی درگاہ ہند اسلامی طرزِ تعمیر کی ایک دلکش مثال پیش کرتی ہے۔ مدوجزر کے دوران یہ مزار کبھی خشکی سے جڑا ہوا نظر آتا ہے اور کبھی ایک الگ جزیرے کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس مقام کی قدرتی خوبصورتی اور روحانی فضا زائرین کو خاص طور پر اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔
ہر سال لاکھوں عقیدت مند نہ صرف ہندوستان کے مختلف حصوں سے بلکہ بیرونِ ملک سے بھی اس درگاہ کی زیارت کے لیے آتے ہیں۔ جمعرات اور جمعہ کے دن یہاں خاص طور پر زائرین کی بڑی تعداد موجود ہوتی ہے۔ لوگ یہاں دعا کرتے ہیں، صوفی بزرگ کی تعلیمات سے روحانی سکون حاصل کرتے ہیں اور انسانیت، محبت اور رواداری کے پیغام کو یاد کرتے ہیں۔
رمضان المبارک کے مہینے میں اس درگاہ کی رونقیں مزید بڑھ جاتی ہیں۔ افطار اور سحری کے اوقات میں یہاں عبادت، دعا اور انسانی ہمدردی کا ایک روح پرور منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ مختلف مذاہب کے افراد کی مشترکہ شرکت ممبئی کی اس قدیم روایت کی یاد دلاتی ہے جس میں تنوع کے باوجود باہمی احترام اور ہم آہنگی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔
یوں حاجی علی درگاہ میں منعقد ہونے والی سحری کی یہ محفل نہ صرف رمضان المبارک کی روحانیت کو اجاگر کرتی ہے بلکہ یہ پیغام بھی دیتی ہے کہ عبادت کے یہ مقدس لمحات انسانوں کے درمیان محبت، رواداری اور بھائی چارے کو فروغ دینے کا بہترین ذریعہ بن سکتے ہیں۔ ممبئی جیسے کثیر الثقافتی شہر میں ایسے اجتماعات نہ صرف مذہبی ہم آہنگی کو مضبوط کرتے ہیں بلکہ یہ بھی یاد دلاتے ہیں کہ رمضان کا اصل پیغام انسانیت، ہمدردی اور اتحاد ہے۔




