رمضان المبارک میں رشتہ داروں، پڑوسیوں اور ضرورت مندوں کی خبرگیری اسلامی تعلیمات کا اہم تقاضا،مولانامفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا خطاب

رمضان المبارک میں رشتہ داروں، پڑوسیوں اور ضرورت مندوں کی خبرگیری اسلامی تعلیمات کا اہم تقاضا،مولانامفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا خطاب
حیدرآباد، 11مارچ (پریس ریلیز)رمضان المبارک رحمت، مغفرت اور ہمدردی کا مہینہ ہے۔ یہ وہ مقدس زمانہ ہے جب انسان کے دل میں نرمی، شفقت اور ایثار کے جذبات بیدار ہوتے ہیں اور وہ اپنے رب کی رضا کے لیے دوسروں کے کام آنے کی کوشش کرتا ہے۔ جس طرح بہار کی آمد سے خشک شاخیں بھی سرسبز ہو جاتی ہیں، اسی طرح رمضان المبارک کی برکتوں سے دلوں میں محبت، ہمدردی اور اخوت کی نئی روح پیدا ہو جاتی ہے۔ یہی وہ مبارک مہینہ ہے جو انسان کو اپنے اردگرد کے ضرورت مند افراد کی طرف ان بمتوجہ کرتا ہے اور اسے سکھاتا ہے کہ حقیقی عبادت صرف اپنی ذات تک محدود نہیں بلکہ دوسروں کے دکھ درد کو بانٹنے میں بھی پوشیدہ ہے۔خطیب و امام مسجد تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤز نامپلی حیدرآباد مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے بتلایا کہ رمضان المبارک میں رشتہ داروں، پڑوسیوں، محتاجوں، ضرورت مندوں اور غریبوں کی مدد و خبرگیری کرنا نہایت اہم نیکی اور اسلامی تعلیمات کا بنیادی حصہ ہے۔ اسلام نے ہمیشہ انسان کو اپنے خاندان، پڑوس اور معاشرے کے کمزور طبقات کا سہارا بننے کی تعلیم دی ہے۔ خاص طور پر رمضان المبارک میں صدقہ و خیرات، زکوٰۃ اور فطرہ کے ذریعے غرباء و مساکین کی مدد کرنا نہ صرف ایک عظیم عبادت ہے بلکہ معاشرے میں محبت اور بھائی چارے کو فروغ دینے کا ذریعہ بھی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ روزہ انسان کو بھوک اور پیاس کا احساس دلاتا ہے تاکہ وہ ان لوگوں کی حالت کو سمجھ سکے جو سال بھر تنگ دستی اور محرومی کا سامنا کرتے ہیں۔ اگر اہلِ استطاعت اپنے رشتہ داروں، پڑوسیوں اور ضرورت مندوں کی مدد کریں، ان کے گھروں تک سحر و افطار کا سامان پہنچائیں اور ان کے چہروں پر مسکراہٹ لانے کی کوشش کریں تو یہی رمضان المبارک کی حقیقی روح ہے۔مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے اہلِ خیر حضرات سے اپیل کی کہ وہ اس بابرکت مہینے میں دل کھول کر صدقہ و خیرات کریں، غرباء و مساکین کا سہارا بنیں اور اپنے آس پاس موجود ضرورت مند افراد کی خاموشی سے مدد کر کے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کریں۔ کیونکہ ایک مضبوط اور خوشحال معاشرہ اسی وقت وجود میں آتا ہے جب اس کے صاحبِ حیثیت افراد کمزوروں اور محتاجوں کا دست و بازو بن جاتے ہیں۔مولانامفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے نے مذید بتلایا کہ پروردگار عالم ہمیں زندگی میں بہت سے کام کرنے کا حکم دیتا ہے اور بعض کاموں سے بچنے کی ہدایت فرماتا ہے۔ مثلاً حلال پر چلنے اور حرام سے بچنے کا حکم اللہ کی جانب سے ہے اس پر عمل کے دوران جو بھی پریشانیاں یا مصائب و آلام آئیں ان کو بخوشی برداشت کرنا صبر عظیم کہلاتا ہے یعنی راہ حق میں آنے والی تمام پریشانیوں، مصائب و آلام اور آزمائشوں پر پورا اترنے کا نام صبر ہے۔ اس کے علاوہ صبر کا دوسرا درجہ صبر علی اللہ ہے یعنی بارگاہ پروردگار سے جو کچھ میسر ہو اس پر خوش رہنا صبر علی اللہ ہے جبکہ ’’صبر مع اللہ‘‘ صبر کا تیسرا درجہ ہے کہ اگر زندگی میں کوئی ایسا وقت آجائے کہ جس میں پریشانیاں اور رنج و مصائب انسان پر یکدم حملہ آور ہوں اور انسان عین اس موقع پر اللہ کے لیے صبر کرے اور تکلیف کا قطعاً احساس نہ کرے۔
جیسا کہ حضرت علیؓ شیر خدا کی مثال کہ جس میں آپ کے جسم اطہر میں تیر اس قدر گہرا پیوست ہوگیا تھا کہ اس کا نکالنا تکلیف کا باعث تھا تو آپؑ نے فرمایا تھا کہ جس وقت میں نماز ادا کروں تو یہ تیر نکال دینا اور اس عمل سے اگرچہ خون کثرت سے بہا مگر آپ بدستور نماز میں مشغول رہے اور کسی بھی قسم کی تکلیف کا اظہار نہیں کیا۔ صبر کا سب سے مشکل ترین مرحلہ عاشقوں کا صبر ہے جو الصبر فی اللہ کہلاتا ہے کہ جس میں اوامر و نواہی پر عمل کرتے ہوئے ہر قسم کی تکلیف کو برداشت کرنا اور پھر خوشی و غمی کے موقعوں پر صبر کرنا مصائب والم کو برداشت کرنا محبوب حقیقی سے وصال کی محرومی اور ہجر و فراق کے لمحوں میں صبر کرنا یہاں تک کہ تمام مراحل میں اللہ کی رضا اور خوشنودی کو مدنظر رکھنا کہ خدا خود ان کے لیے فرمائے۔اولئک علیهم صلوات من ربهم یعنی ایسے لوگوں پر ان کے پروردگار کی طرف سے نوازشیں ہیں اور رحمت ہے۔صبر کی تمام منازل طے کرنے کے بعد توکل کا درجہ آتا ہے یعنی جب کوئی نعمت چھن جائے تو اس پر بھی راضی برضائے تعالیٰ رہنا اور ایسے متوکلین سے اللہ محبت کرتا ہے۔
مرحلہ رضا اس وقت شروع ہوتا ہے جب انسان صبر کی تمام منازل کو عبور کرکے توکل کی منازل بھی سر کرلے اگرچہ مرحلہ رضا تک رسائی اور اس پر ثابت قدمی بڑا دشوار گزار مرحلہ ہے جہاں بڑے بڑے اولیاء اللہ کے قدم بھی ڈگمگاجاتے ہیں لیکن امت محمدی میں ایک ایسا ولی باصفا گزرا ہے جس نے صبرو توکل کی تمام منازل طے کرتے ہوئے رضائے الہٰی کے اس مقام کو پایا جس کی مثال کہیں نہیں ملتی وہ عظیم المرتبت شخصیت نبیؐ محترم و مکرم کا نواسہ اور علیؓ و فاطمہؓ کے جگر گوشہ حسین علیہ السلام ہیں جو مقام صبر و رضا کی اس منزل پر متمکن نظر آیا جو سب سے اعلیٰ مقام ہے۔ اپنی شہادت پر علم و اختیارکے باوجود اسے قبول کیا جیسا کہ بہت سی احادیث سے ثابت ہے کہ آپ بچپن ہی سے اپنی شہادت کی خبر رکھتے تھے لیکن آپ نے یزید کی بیعت قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے شہادت کو ترجیح دی اور مقام صبر و رضا کے اعلیٰ ترین مرحلے پر اس طرح پورے اترے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ مژدہ جانفزا سنایا گیا کہ:’’اے وہ نفس مطمئنہ! اپنے رب کی طرف واپس چل اسی طرح کہ تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی پھر تو میرے برگزیدہ بندوں میں شامل ہوجا اور میری بہشت میں داخل ہوجا‘‘۔لہذا شہادت حسینؑ کا سب سے اہم پیغام اللہ کی رضا کی خاطر عملی جدوجہد کا پیغام ہے اور تاریخ اسلام بھی اس بات پر گواہ ہے کہ جب تک مسلمان مشیت ایزدی پر لبیک کہتے ہوئے صبر ورضا کا دامن تھامتے ہوئے انسانیت کی فلاح اور حق کی حفاظت کے لیے جان کی بازی لگادیتے ہیں تو وہ کامیابی و فتح سے ہمکنار ہوجاتے ہیں لیکن اس کے برعکس اگر وہ صبر و رضا کو ترک کرتے ہوئے طاغوتی طاقتوں کے آگے گھٹنے ٹیک دیتے ہیں تو ناکامی و شکست ان کا مقدر بن جاتی ہے۔



