اسلام کے قانون وراثت میں تبدیلی کا مطالبہ ایک شرانگیز ی ایسا کرنا مذہبی آزادی کے بنیادی و دستوری حق کے منافی آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ عدالت عظمیٰ میں ایک غیر معروف تنظیم نیا ناری فاؤنڈیشن کی جانب سے کئے گئے اس شر انگیز مطالبہ کو کہ اسلام کے قانون وراثت کو کالعدم قرار دیا جائے، اس لئے کہ وہ مسلم خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کرتا ہے کو غلط اور مذہبی آزادی کی آئینی دفعہ 25 کے منافی سمجھتا ہے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے ایک پریس بیان میں کہا کہ بمبئی ھائی کورٹ نے نارسوایا ماپی کیس کے اپنے مشہور فیصلہ میں واضح طور پر کہا تھا کہ پرسنل لاز کو آئینی جانچ کے دائرے میں نہیں لایا جاسکتا۔ اسی طرح یہ کہنا کہ اسلام کا قانون وراثت لازمی مذہبی عمل Essential Relgious Practice نہیں ہے، شریعت کے عائلی قوانین کی مذہبی حیثیت سے لاعلمی کا مظہر ہے۔ اسلام کے عائلی قوانین براہ راست قرآن و سنت سے ماخوذ ہیں اور اس پر سختی سے عمل کرنامسلمانوں کے لئے لازمی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ کہنا کہ کہ اسلام کے وراثتی قوانین میں مسلم خواتین کے ساتھ امتیاز برتا جاتا ہے، دراصل قانون شریعت کی مصلحت اور حکمت سے عدم واقفیت ہے۔ اسلام وہ دین ہے، جس نے مرد اور عورت کو برابری کا درجہ دیا اور ان کے حقوق و ذمہ داریاں متعین کیں۔ عورت کے نان و نفقہ اور گھر کے جملہ اخراجات کی ذمہ داری مرد پر ڈالی گئی اور عورت کو اس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا۔ عورت نے اپنے ماں باپ سے وراثت میں جو کچھ حاصل کیا ہو یا وہ کوئی ملازمت کرتی ہو، اس صورت میں بھی اس پر گھر چلانے کی کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔ یہاں تک کہ وہ اپنی ذاتی آمدنی کو اپنے طور پر آزادانہ خرچ بھی کرسکتی ہے۔ اس کے باوجود اسے وراثت میں آدھے حصہ کا حقدار قرار دیا گیا ہے۔
بورڈ کے ترجمان نے آگے کہا کہ عورت کی کئی ایسی حیثیتیں ہیں جس میں کبھی اس کو مرد کے برابر کبھی مرد سے زیادہ اور کبھی صرف عورت کو ہی حصہ ملتا ہے ۔ اسلام کا قانون فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ اسلام نے عورت کا اس وقت حق تسلیم کیا جب وہ کوئی قابل ذکر شئے ہی نہیں سمجھی جاتی تھی۔
انہوں نے آگے کہا کہ چیف جسٹس آف انڈیا کا یہ کہنا کہ اس کا جواب صرف یونیفارم سول کوڈ ہے، دراصل عدالت عظمیٰ کے سابقہ مشاہدات کو دہرانا ہے۔ دستور کے باب IV کی دفعہ 44 صرف ایک اصولی ہدایت ہے اور دستور کے معماروں نے یہ واضح کردیا تھا کہ اسے مسلمانوں کی مرضی کے بغیر ان پر نافذ نہیں کیا جاسکتا۔ یہ دستور کے بنیادی حقوق کی دفعہ 25 سے راست متصادم ہے۔ جہاں تک ریاست اتراکھنڈ کا یونیفارم سول کوڈ ہے وہ غیر قانونی، غیر دستوری اور غیر حکیمانہ ہے اور مسلم پرسنل لا بورڈ اسے ھائی کورٹ میں چیلنج کرچکا ہے۔
ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ دراصل اسلام کے قانون وراثت کو غیر عادلانہ اور مسلم خواتین کے ساتھ امتیاز پر مبنی کہہ کر قانون شریعت میں مداخلت کا راستہ ہموار کرنے کا ایک بہانہ ہے، ہندوستانی مسلمان اسے ہرگز بھی برداشت نہیں کریں گے۔ یونیفارم سول کوڈ کی مخالفت میں 5 کروڑ سے زائد مسلمانوں، جن میں اکثریت مسلم خواتین کی تھی نے اپنی قراردادیں لاء کمیشن آف انڈیا میں جمع کرائی تھیں۔ یہ کہنا کہ مسلم خواتین خود شرعی قوانین میں تبدیلی چاہتی ہیں دروغ گوئی کے علاوہ کچھ نہیں۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ عدالت عظمیٰ سے اپیل کرتا ہے وہ قانون وراثت میں تبدیلی کی اس درخواست کو مسترد کردے۔



