تعلیم اور سسٹم میں شمولیت ہی مسلمانوں کی ترقی کا راستہ ہے: آصف دادن

ممبئی/رمضان المبارک مسلمانوں کے لیے صرف عبادت، روزہ اور روحانی تربیت کا مہینہ نہیں بلکہ یہ خود احتسابی، سماجی شعور اور مستقبل کی منصوبہ بندی کا بھی ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔ اس بابرکت مہینے میں انسان اپنی ذاتی زندگی کے ساتھ ساتھ معاشرے اور قوم کے بارے میں بھی سنجیدگی سے سوچتا ہے اور بہتری کے راستے تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
اسی پس منظر میں ممبئی کے معروف مالیاتی ادارے کوکن مرکنٹائل کوآپریٹو بینک لمیٹڈ کے چیئرمین آصف دادن سے ایک تفصیلی اور فکر انگیز گفتگو کی گئی۔ اس گفتگو میں جہاں رمضان المبارک کی روحانیت اور سماجی اثرات پر بات ہوئی وہیں مسلمانوں کی موجودہ تعلیمی صورت حال، نوجوان نسل کے بدلتے رجحانات اور قومی دھارے میں فعال کردار ادا کرنے کی ضرورت پر بھی کھل کر اظہار خیال کیا گیا۔
آصف دادن سنہ 2023 سے کوکن مرکنٹائل کوآپریٹو بینک لمیٹڈ کے چیئرمین کے عہدے پر فائز ہیں اور آئندہ پانچ برس تک اس ذمہ داری کو نبھائیں گے۔ وہ اس کے ساتھ ساتھ کوکن یونٹی سینٹر، ینگ مین ایجوکیشن سوسائٹی اور ٹھاکر واڑی چیریٹیبل ٹرسٹ کے صدر بھی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ مختلف سماجی، تعلیمی اور فلاحی اداروں سے بھی وابستہ ہیں اور معاشرے میں مثبت تبدیلی کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں۔
کوکن مرکنٹائل کوآپریٹو بینک: خدمات اور ذمہ داریاں
گفتگو کے آغاز میں آصف دادن نے کوکن مرکنٹائل کوآپریٹو بینک کے کردار اور خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ یہ ایک کوآپریٹو مالیاتی ادارہ ہے جو ریزرو بینک آف انڈیا کے قواعد و ضوابط کے تحت کام کرتا ہے اور اپنے کھاتہ داروں کو مختلف مالیاتی سہولتیں فراہم کرتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس بینک کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے دروازے ہر مذہب اور ہر طبقے کے لوگوں کے لیے کھلے ہیں۔
آصف دادن کے مطابق:
“ہماری بینک ایک عوامی ادارہ ہے جہاں ہر مذہب اور ہر طبقے کے لوگ اپنے مالی معاملات انجام دیتے ہیں۔ اس لیے رمضان ہو یا سال کے باقی مہینے، ہمارے کام کے نظام میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آتی۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ہر کھاتہ دار کو یکساں خدمات فراہم کریں۔”انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک اگرچہ عبادت اور روحانیت کا مہینہ ہے، لیکن پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو بھی اسی جذبے کے ساتھ نبھانا چاہیے۔
مسلمانوں میں تعلیمی بیداری کا بڑھتا رجحان
مسلمانوں کی سماجی اور تعلیمی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے آصف دادن نے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں میں مسلمانوں میں تعلیمی بیداری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ان کے مطابق اگر بیس یا پچیس سال پہلے کی صورتحال کو دیکھا جائے تو اس وقت مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد تعلیم کے میدان میں پیچھے نظر آتی تھی، لیکن اب حالات میں واضح تبدیلی نظر آ رہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ“آج نوجوان نسل میں تعلیم کے حوالے سے شعور پیدا ہوا ہے۔ لوگ صرف بنیادی تعلیم پر اکتفا نہیں کر رہے بلکہ پیشہ ورانہ مہارت اور جدید علوم کے حصول کی طرف بھی توجہ دے رہے ہیں۔”انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تعلیم صرف ڈگری حاصل کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ انسان کے اندر شعور، خود اعتمادی اور بہتر فیصلے کرنے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔
“آج کے دور میں گریجویشن صرف ایک بنیادی ڈگری ہے، اصل کامیابی تخصص اور مہارت حاصل کرنے میں ہے۔
گریجویشن کے بعد تخصص کی اہمیت
آصف دادن کے مطابق موجودہ دور میں صرف گریجویشن کی ڈگری حاصل کرنا کافی نہیں رہا۔انہوں نے کہا کہ آج کے مسابقتی ماحول میں کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ نوجوان کسی خاص شعبے میں مہارت حاصل کریں۔انہوں نے کہاکہ”ایک وقت تھا جب میٹرک یا بارہویں جماعت کو بڑی کامیابی سمجھا جاتا تھا۔ بعد میں گریجویشن کو بھی اعلیٰ تعلیم سمجھا جاتا تھا، مگر آج کے دور میں گریجویشن ایک بنیادی ڈگری بن چکی ہے۔ اگر ہمیں واقعی ترقی کرنی ہے تو ہمیں گریجویشن کے بعد تخصص حاصل کرنا ہوگا۔”ان کے مطابق تخصص انسان کو اپنے شعبے میں نمایاں مقام دلانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
نوجوان نسل کے بدلتے رجحانات
آصف دادن نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ آج کے مسلمان نوجوان نئے شعبوں میں بھی اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پہلے عام طور پر ڈاکٹر اور انجینئر بننا ہی کامیابی کا معیار سمجھا جاتا تھا، لیکن اب نوجوان فنانس، اکاؤنٹنگ، ٹیکنالوجی، مینجمنٹ اور دیگر پیشہ ورانہ شعبوں کی طرف بھی متوجہ ہو رہے ہیں۔ان کے مطابق “ہمیں صرف چند روایتی شعبوں تک خود کو محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ ہر اس میدان میں آگے بڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے جہاں مواقع موجود ہوں۔”“جب تک ہم سسٹم کا حصہ نہیں بنیں گے، ہماری آواز مضبوط نہیں ہو سکتی۔”
مسابقتی امتحانات اور قومی نظام میں شمولیت
آصف دادن کے مطابق مسلمانوں کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ وہ مختلف مسابقتی امتحانات میں زیادہ سے زیادہ حصہ لیں۔انہوں نے کہا کہ اکثر نوجوان صرف یو پی ایس سی کو ہی بڑا امتحان سمجھتے ہیں، جبکہ اس کے علاوہ بھی کئی سرکاری محکموں میں اہم مواقع موجود ہیں۔انہوں نے کہا:“ہمیں صرف یو پی ایس سی تک خود کو محدود نہیں رکھنا چاہیے۔ آئی ٹی، ریلوے، ایئرپورٹ اور دیگر سرکاری اداروں میں بھی بے شمار مواقع موجود ہیں جہاں ہمارے نوجوانوں کی نمائندگی ابھی کم نظر آتی ہے۔”ان کے مطابق جب نوجوان ان اداروں میں جگہ بنائیں گے تو وہ نہ صرف اپنی زندگی بہتر بنائیں گے بلکہ معاشرے میں بھی مثبت تبدیلی لا سکیں گے۔
لڑکوں اور لڑکیوں کی تعلیم
تعلیم کے میدان میں لڑکوں اور لڑکیوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے آصف دادن نے کہا کہ اس وقت لڑکیاں تعلیم کے میدان میں قابل ذکر پیش رفت کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ لڑکیاں اعلیٰ تعلیم کی طرف متوجہ ہو رہی ہیں، تاہم لڑکوں کو بھی اسی سنجیدگی کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ان کے مطابق بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ لڑکیاں شادی کے بعد ملازمت جاری نہیں رکھ پاتیں، جس کی وجہ سے ان کی ڈگریوں کا مکمل فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔ اس لیے لڑکوں کو بھی زیادہ سنجیدگی کے ساتھ تعلیم حاصل کرنی چاہیے تاکہ وہ عملی زندگی میں آگے بڑھ سکیں۔ان کا خیال ہے کہ “تعلیم کے ساتھ علاقائی زبان سیکھنا بھی ضروری ہے، کیونکہ یہی کامیابی کی راہوں کو آسان بناتی ہے۔
علاقائی زبان کی اہمیت
آصف دادن نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جس ریاست میں رہتے ہیں وہاں کی علاقائی زبان سیکھنا بہت ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر میں رہنے والوں کے لیے مراٹھی زبان سیکھنا نہایت مفید ہے کیونکہ کئی سرکاری امتحانات اور اداروں میں علاقائی زبان کا علم کامیابی کے لیے مددگار ثابت ہوتا ہے۔انہوں نے کہاکہ“جس ریاست میں ہم رہتے ہیں اس کی زبان کو سیکھنا چاہیے۔ جیسے ہم انگریزی اور اردو پڑھتے ہیں اسی طرح مراٹھی زبان کو بھی سیکھنا چاہیے۔ اس سے سرکاری امتحانات اور سرکاری دفاتر میں کام کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔”
اپنی برادری کے اداروں کی تعمیر
گفتگو کے اختتام کی طرف آتے ہوئے آصف دادن نے اس بات پر زور دیا کہ مسلمانوں کو اپنے ادارے قائم کرنے کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں بزرگوں نے بہت سے تعلیمی اور سماجی ادارے قائم کیے تھے جن سے آج بھی کمیونٹی کو فائدہ پہنچ رہا ہے، لیکن اب نئے اداروں کے قیام کی رفتار کم نظر آتی ہے۔
انہوں نے کہا“ہمیں صرف ملازمتوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ ہمیں اپنی کمیونٹی کے لیے اسکول، کالج، اسپتال اور مالیاتی ادارے بھی قائم کرنے چاہئیں۔ جب کسی کمیونٹی کے پاس اپنے ادارے ہوتے ہیں تو اس کے افراد کو زیادہ سہولت اور اعتماد حاصل ہوتا ہے۔”
مستقبل کی سمت: تعلیم، شعور اور قیادت
گفتگو کے اختتام پر آصف دادن نے نوجوانوں کو ایک واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم ہی وہ بنیاد ہے جس پر ایک مضبوط اور باوقار معاشرہ تعمیر کیا جا سکتا ہے۔
آصف دادن نے کہا “میرا تمام مسلمانوں سے یہی پیغام ہے کہ زیادہ سے زیادہ تعلیم حاصل کریں، اعلیٰ سطح کی ڈگریاں حاصل کریں اور سسٹم کا حصہ بنیں۔ جب ہمارے نوجوان بڑے عہدوں پر پہنچیں گے تو نہ صرف وہ اپنی زندگی بہتر بنائیں گے بلکہ پوری قوم کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔”
رمضان المبارک کے بابرکت ماحول میں ہونے والی اس گفتگو کا خلاصہ یہی ہے کہ تعلیم، پیشہ ورانہ مہارت، قومی نظام میں شمولیت اور اپنے اداروں کی تعمیر ہی وہ ستون ہیں جن پر مسلمانوں کا روشن مستقبل قائم ہو سکتا ہے۔ اگر نئی نسل اس راستے کو اختیار کرے تو آنے والے برسوں میں نہ صرف تعلیمی بلکہ سماجی اور معاشی میدانوں میں بھی ایک مثبت اور مضبوط تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔



