عادل آباد میں کچھ سرکاری اساتذہ خانگی کاروبار میں مصروف، طلبہ کی تعلیم متاثر ہونے کا خدشہ

عادل آباد میں کچھ سرکاری اساتذہ خانگی کاروبار میں مصروف، طلبہ کی تعلیم متاثر ہونے کا خدشہ
چہرہ شناخت حاضری نظام کے باوجود وقت کی پابندی نظرانداز، رئیل اسٹیٹ اور چٹ فنڈ کاروبار میں مصروف ہونے کے الزامات
صحافی خضر احمد یافعی کی خصوصی رپورٹ
عادل آباد.13/مارچ (اردو لیکس)
عادل آباد ضلع میں بعض سرکاری اساتذہ کے خلاف الزامات سامنے آئے ہیں کہ وہ اسکولوں میں وقت کی پابندی کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی توجہ خانگی کاروبار پر مرکوز کر رہے ہیں، جس کے باعث طلبہ کی تعلیم متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ محکمہ تعلیم کی جانب سے بائیو میٹرک حاضری کے بعد اب چہرہ شناخت (فیس اٹینڈنس) نظام نافذ کیا گیا تھا تاکہ اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنایا جا سکے، تاہم اس کے باوجود بعض اساتذہ کے رویے میں کوئی خاص تبدیلی نظر نہیں آ رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق کچھ اساتذہ صبح اسکول پہنچ کر اپنی حاضری درج کرتے ہیں اور اس کے بعد اسکول سے باہر نکل کر اپنے خانگی کاروبار میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ بعض پر یہ الزام بھی ہے کہ وہ اسکول کے باہر سے ہی حاضری درج کر کے اپنے ذاتی معاملات میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ رئیل اسٹیٹ اور چٹ فنڈ جیسے کاروبار میں ان کی دلچسپی زیادہ ہے۔
ضلع میں اس وقت تقریباً 500 پرائمری اسکول، 119 اپر پرائمری اسکول اور 120 ہائی اسکول موجود ہیں، جہاں مجموعی طور پر 2,567 اساتذہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ تاہم بعض اسکولوں کی صورتحال تشویشناک بتائی جا رہی ہے جہاں طلبہ کی تعلیم پر مناسب توجہ نہیں دی جا رہی۔
محکمہ تعلیم نے گزشتہ سال جولائی میں اساتذہ کی غیر حاضری اور تاخیر کو روکنے کے لیے چہرہ شناخت حاضری نظام متعارف کرایا تھا، جس کے تحت اساتذہ کو صبح اور شام دونوں اوقات میں اپنی حاضری درج کرنا لازمی قرار دیا گیا تھا۔ اس اقدام کے باوجود بعض اساتذہ کے خلاف شکایات سامنے آ رہی ہیں کہ وہ قواعد کی مکمل پابندی نہیں کر رہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر اساتذہ اسی طرح اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برتتے رہے تو طلبہ کے تعلیمی مستقبل پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں چہرہ شناخت حاضری نظام کو مزید سختی سے نافذ کیا جائے گا تاکہ اساتذہ کی غیر ذمہ داری کو روکا جا سکے اور طلبہ کی تعلیم کو نقصان نہ پہنچے۔



