ضلع میں پکوان گیس سلنڈر کی کوئی کمی نہیں۔ ضلع کلکٹر نظام آباد

نظام آباد:13/ مارچ (اردو لیکس) ضلع کلکٹر نظام آباد ایلاتر پاٹھی نے کہا کہ پکوان گیس کے سلنڈر کے بارے میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع میں پکوان گیس کے سلنڈر کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کئے گئے ہیں۔
کلکٹر کی صدارت میں آج ڈسٹرکٹ مانیٹرینگ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں پکوان گیس کی طلب اور رسد کا جائزہ لیا گیا۔ ضلع میں 5,81,769 گیس کنکشن ہے جنہیں 33 گیس ایجنسیوں کے ذریعہ سپلائی کی جارہی ہے۔ گھریلو ضروریات کیلئے ضلع میں تقسیم کیلئے 10,850 سلنڈر دستیاب ہے۔ ان کے علاوہ مزید 5875 سلنڈر ضلع میں آنے والے ہیں۔
ڈسٹرکٹ سیول سپلائی آفیسر سری کانت نے ضلع کلکٹر کو بتایا کہ سلنڈر بک کرنے والوں کو 3سے چار دن کے اندر گیس سلنڈر فراہم کیا جارہاہے۔ ضلع کلکٹر نے کہا کہ ضلع میں ایل پی جی سلنڈر کی تقسیم پر سخت نظر رکھی جارہی ہے انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر کوئی مصنوعی قلت پیدا کرتا ہے اور گیس سلنڈر بلاک مارکٹ میں فروخت کرتا ہے تو ضروری اشیاء ایکٹ 1955 کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ چیکنگ پہلے سے زیادہ تیز کردی گئی ہے۔ مارچ میں اچانک چھاپوں کے دوران 156 گھریلو سلنڈر ضبط کئے گئے ہیں اور ان کے خلاف مقدمات درج کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ گیس بکنگ کیلئے رجسٹریشن کا قاعدہ سنگل سلنڈر کیلئے 25 دن اور ڈبل سلنڈر کیلئے 45 دن کے بعد لاگو ہوتا ہے۔ انہوں نے صارفین کو مخصوص مدت گذر جانے کے بعد ہی گیس ریفل بک کرسکتے ہیں۔
انہوں نے صارفین کو مشورہ دیا کہ بکنگ صرف گیس سلنڈر کی مکمل خالی ہونے اور مقررہ مدت گذر جانے کے بعد ہی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیلیوری بوائے ترسیل کے دوران او ٹی پی دے کر تعاون کریں اگر کوئی ان کی ڈیوٹی میں رکاوٹ پیدا کریگا تو ایسے صارفین کیخلاف قانونی کارروائی کی جائے گی
۔ ایل پی جی صارفین کو اپنا کے وائی سی مکمل کرنا ہوگا۔ جسے گیس ایجنسیوں آن لائن یا گیس کمپنی کی افیشل ویب سائیٹ یا ایپ پر یا گیس سلنڈر کی ترسل کے وقت گیس ایجنسی منیجر سے مکمل کیا جاسکتا ہے۔ اس اجلاس میں اڈیشنل ڈی سی پی بسوا ریڈی، اڈیشنل کلکٹر انچارج دلیپ کمار، اے ایس او اروند ریڈی، ڈی ٹی او اوما مہیشور راؤ، ڈی پی او سرینوا س راؤ، ڈی ڈبلیو او پدما، ضلع اقلیتی بہبود آفیسر کرشنا وینی، ضلع زراعت آفیسر ویرا سوامی، آر سی او ز، گیس کمپنیوں کے سیلز آفیسران اور ایل پی جی عہدیداروں نے شرکت کی۔



