تلنگانہ

مستحق مریضوں کے علاج کے لئے مالی تعاون بھی حقوق العباد ۔ویسٹرن ہاسپٹل میں پیس فاونڈیشن کا افتتاح ، اظہر الدین ، محمد علی شبیر، عامر علی خان کی تقاریر

حیدرآباد۔14مارچ۔تلنگانہ کے وزیر اقلیتی بہبود محمد اظہر الدین نے ہیلت کیئر کے شعبے میںاقدار انسانیت کے ساتھ ڈاکٹرس کو خدمات انجام دینے کا مشورہ دیا اور کہا کہ علاج کے ساتھ وہ مریضوں کو ان کی روز مرہ کی خوراک کے سلسلے میں رہنمائی کریں۔

 

محمد اظہر الدین 14مارچ کو ویسٹرن ہاسپٹلس ریڈ ہلز میں پیس فاونڈیشن کے افتتاح کے بعد مخاطب تھے۔ جناب محمد علی شبیر مشیر برائے ایس سی ایس ٹی ، بی سی ،مائناریٹیز حکومت تلنگانہ ، جناب محمد محمود علی سابق وزیر داخلہ و نائب وزیر اعلی ، جناب عامر علی خان ایڈیٹر سیاست و سابق ایم ایل سی، جناب سید عظمت اللہ حسینی چیرمین تلنگانہ اسٹیٹ وقف بورڈ کے علاوہ ڈاکٹر ایم اے متین ریڈیالوجسٹ ، ڈاکٹر فیصل مصطفی نیورو سرجن ، ڈاکٹر سید اکبر گیسٹرو انٹرو لوجسٹ اور ڈاکٹر حسینی شہ نشین پر موجود تھے۔

 

محمد اظہر الدین نے پیس فاو¿نڈیشن کے قیام کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ یہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کیونکہ بیشتر مریض اپنی کمزور معاشی حالت کی وجہ سے بر وقت صحیح علاج نہیں کروا سکتے اور جب تک ان کے پاس پیسہ نہ ہو بڑے ہاسپٹلس میں ان کا علاج شروع نہیں ہوسکتا۔انہوںنے پیس فاو¿نڈیشن کی حکومت کی جانب سے ممکنہ تعاون کا یقین دلایا اور اس سے متعلق عوام میں شعور پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

 

اظہر الدین نے عوام بالخصوص مسلمانوں کو تلقین کی کہ وہ غذا میں احتیاط برتیں ، خاص طور پر رمضان المبارک کے روزوں کے بعد خوراک میں اعتدال رکھیں کیونکہ بیشتر امراض خوراک میں بے اعتدالی کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ آج کل انٹر نیٹ اور یوٹیوب کی مدد سے لوگ اپنی تشخیص اور علاج خود کرنے لگے ہیں جس سے نقصان بھی ہوسکتا ہے ۔ انہوںنے ڈاکٹروں سے رجوع ہونے کا مشورہ دیا۔ جناب محمد علی شبیر نے کہا کہ اسلام ایک سائنٹفک مذہب ہے اور مسلمان ہر معاملے میں غیر سائنٹیفک

 

انہوں نے کہا کہ معاشی طور پر کمزور ، ضرورتمند افراد کے علاج و معالجے میں تعاون کرنا بھی حقو ق العباد میں شامل ہے۔ انہوںنے پیس فاو¿نڈیشن کے لئے 5 لاکھ روپئے کا عطیہ کا اعلان کیا اور فاو¿نڈیشن کے لئے حکومت کی جانب سے ممکنہ تعاون کا تیقن دیا۔ انہوںنے ویسٹرن ہاسپٹلس کے انتظامیہ اور اس سے وابستہ ڈاکٹرس بالخصوص ڈاکٹر ایم اے متین ،ڈاکٹر فیصل مصطفی اور ڈاکٹر سید اکبر کی ستائش کی جو انسانیت کے جذبے سے سرشار ہیں اور انہوںنے انسانیت کی بنیاد پر ہی پیس فاو¿نڈیشن قائم کیا۔

 

اس سے یقینی طور پر زیادہ سے زیادہ ضرورتمند فیضیاب ہوں گے ۔ انہوںنے معاشرے کے دولتمند حضرات سے اپیل کی کہ وہ انسانیت کی خدمت کے لئے پیس فاو¿نڈیشن کو مستحکم کریں۔ جناب عامر علی خان ایڈیٹر سیاست نے ویسٹرن ہاسپٹل کے انتظامیہ کی ستائش کی اور کہا کہ کارپوریٹ طرز کا ہاسپٹل ہونے کے باوجود کفایتی علاج ہوتا ہے۔ انہوںنے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں حقوق العباد کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوںنے تہجد اور فجر کی نمازوں کے سائنٹفک اہمیت اور اس کے دماغ پر مثبت اثرات کا ذکر کیا۔ جناب عامر علی خان نے پیس فاو¿نڈیشن کے لئے ایک لاکھ روپئے عطیہ کا اعلان کیا اور اس نیک کاز کے لئے مکمل تعاون کا تیقن دیا

 

جناب محمد محمود علی نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ پیس فاونڈیشن کے سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لئے مدد کریں۔ قبل ازیں ڈاکٹر ایم اے متین اور ڈاکٹرفیصل مصطفی نے پیس فاونڈیشن کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ عام طور پر ہاسپٹلس میں دماغی امراض بالخصوص فالج اسٹروکس سے متاثرہ مریض آتے ہیں جنہیں مختلف ٹسٹس کروانے ہوتے ہیں ۔ اکثر مریضوں کے رشتہ داروں کے پاس اتنی رقم نہیں ہوتی جس کی وجہ سے بر وقت علاج شروع نہیں ہو پاتا ۔ جس کا مریض پرمنفی اثر ہوتا ہے۔ اگر مریض کے ہاسپٹلس پہنچتے ہی اس کا علاج شروع ہو جائے تو اس کے صحت یاب ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے پیس فاو¿نڈیشن قائم کیا گیا ہے تاکہ اصحاب خیر کے عطیات کی مدد سے ضرورت مند مریضوں کے علاج و معالجہ کیا جاسکے۔

 

انہوں نے کہا کہ اصحاب خیر اپنے عزیز و اقارب اور مرحومین کے ایصا ل و ثواب جاریہ کے لئے پیس فاو¿نڈیشن میں عطیہ دے سکتے ہیں اور وہ کیو آر کوڈ کا استعمال کرکے بھی رقم عطیہ کرسکتے ہیں۔ اس موقع پرڈاکٹر صفی اللہ ،ڈاکٹر حفیظ حماد ،ڈاکٹر سارنگ پرکاش اور کارپوریٹر عارف رضوان بھی موجود تھے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button