چار دہائیوں سے غیر سودی مالیاتی خدمات کا معتبر نام — بیت النصر اور سلیم قاضی کی قیادت میں خدمت کا سفر

ممبئی: ممبئی کی سماجی اور معاشی زندگی میں چند ادارے ایسے بھی ہیں جو خاموشی کے ساتھ مگر مستقل مزاجی کے ساتھ قوم و ملت کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ انہی اداروں میں ایک نمایاں نام بیت النصر کا ہے، جو گزشتہ تقریباً چار دہائیوں سے غیر سودی مالیاتی نظام کے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے معاشرے کے کمزور اور متوسط طبقات کو سہارا دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس ادارے نے نہ صرف مالیاتی معاملات میں ایک متبادل راستہ فراہم کیا بلکہ معاشرتی، تعلیمی اور اخلاقی بیداری کے فروغ میں بھی اپنا کردار ادا کیا ہے۔
بیت النصر کے منیجنگ ڈائریکٹر سلیم قاضی کی قیادت میں یہ ادارہ مسلسل ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ ان کی انتظامی صلاحیت، دیانت دارانہ طرزِ عمل اور سماجی شعور نے اس ادارے کو اعتماد اور اعتبار کی ایک ایسی منزل تک پہنچایا ہے جہاں عام لوگ اسے صرف ایک مالیاتی ادارہ نہیں بلکہ ایک سماجی خدمت گاہ کے طور پر دیکھتے ہیں۔رمضان المبارک کے موقع پر سلیم قاضی کی مصروفیات کے باوجود مختلف سماجی، تعلیمی اور دینی موضوعات پر ان سے ہونے والی گفتگو میں کئی اہم نکات سامنے آئے جو نہ صرف بیت النصر کے مشن کو واضح کرتے ہیں بلکہ مسلمانوں کی موجودہ سماجی صورتحال پر بھی روشنی ڈالتے ہیں۔
غیر سودی بینکاری کا ایک عملی نمونہ
بیت النصر کی بنیاد اس نظریے پر رکھی گئی تھی کہ معاشرے میں ایسے مالیاتی اداروں کی ضرورت ہے جو سود سے پاک اصولوں پر کام کریں اور لوگوں کو معاشی طور پر مستحکم بنانے میں مدد دیں۔ گزشتہ چالیس برسوں میں اس ادارے نے ہزاروں افراد کو چھوٹے کاروبار شروع کرنے، معاشی مشکلات سے نکلنے اور خود کفالت کی طرف قدم بڑھانے میں مدد فراہم کی ہے۔سلیم قاضی کا کہنا ہے کہ غیر سودی مالیاتی نظام صرف ایک معاشی تصور نہیں بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔ ان کے مطابق اگر معاشرے کے کمزور طبقات کو بغیر سود کے مالی مدد فراہم کی جائے تو وہ نہ صرف اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکتے ہیں بلکہ معاشرے کی ترقی میں بھی حصہ دار بن سکتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ بیت النصر کی کامیابی کی اصل وجہ اس کے کارکنان اور معاونین کی مشترکہ محنت ہے۔ ادارے کے مختلف عہدیداران اور رضاکار اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ ہر ضرورت مند تک مدد پہنچ سکے اور مالی معاملات میں شفافیت اور اعتماد کو برقرار رکھا جائے۔
رمضان المبارک اور ادارہ جاتی سرگرمیاں
رمضان المبارک مسلمانوں کے لیے عبادت، اصلاح اور خود احتسابی کا مہینہ ہے، لیکن سماجی اداروں کے لیے یہ خدمت کے مواقع بھی لے کر آتا ہے۔ بیت النصر میں بھی رمضان کے دوران کام کے اوقات اور سرگرمیوں میں کچھ تبدیلیاں کی جاتی ہیں تاکہ ملازمین اور وابستگان عبادات اور دینی مصروفیات کے ساتھ اپنے فرائض بھی بہتر انداز میں انجام دے سکیں۔سلیم قاضی کے مطابق رمضان میں ادارے کے اوقات کار کو اس طرح ترتیب دیا جاتا ہے کہ لوگوں کو سہولت بھی ملے اور ملازمین بھی افطار، نماز اور تراویح میں شریک ہو سکیں۔ عام دنوں میں جہاں کام صبح سے شام تک جاری رہتا ہے، وہیں رمضان میں اوقات کار میں لچک پیدا کی جاتی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ اس مہینے میں صرف ادارہ ہی نہیں بلکہ پورا معاشرہ ایک مختلف روحانی فضا میں ڈھل جاتا ہے۔ لوگ زیادہ فراخ دلی کے ساتھ دوسروں کی مدد کرتے ہیں اور یہی وہ جذبہ ہے جسے بیت النصر اپنے کام کا بنیادی حصہ سمجھتا ہے۔
بچپن کی رمضان یادیں
رمضان کا ذکر آتے ہی سلیم قاضی کو اپنے بچپن کی یادیں بھی تازہ ہو جاتی ہیں۔ وہ مسکراتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اس زمانے میں سہولتیں کم تھیں مگر روحانیت اور سادگی زیادہ تھی۔ان کے مطابق اس دور میں مساجد میں لاؤڈ اسپیکر عام نہیں تھے۔ لوگ وقت کا اندازہ مختلف طریقوں سے لگاتے تھے۔ ان کے محلے کی مسجد میں ایک خاص نظام تھا جہاں اذان کے اوقات بتانے کے لیے رنگین بتیوں کا استعمال کیا جاتا تھا۔وہ یاد کرتے ہیں کہ مسجد کے اوپر ایک بلب نصب تھا۔ جب سحری کا وقت ختم ہونے کے قریب ہوتا تو سرخ بتی جلتی تھی اور لوگ فوراً سحری ختم کر دیتے تھے۔ اسی طرح مغرب کے وقت جب سبز بتی روشن ہوتی تو روزہ افطار کیا جاتا تھا۔ ان کے بقول اس سادگی میں ایک خاص روحانی لطف تھا جو آج بھی ذہن میں تازہ ہے۔
یہ یادیں اس بات کا احساس دلاتی ہیں کہ وقت کے ساتھ سہولتیں تو بڑھ گئی ہیں مگر ان پرانی روایتوں میں ایک خاص اپنائیت اور اجتماعی احساس موجود تھا۔
مسلمانوں کی تعلیمی صورتحال
گفتگو کے دوران سلیم قاضی نے مسلمانوں کی تعلیمی صورتحال پر بھی تفصیل سے اظہار خیال کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو تین دہائیوں میں مسلمانوں کے اندر تعلیم کے حوالے سے شعور میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ پہلے ایسا ہوتا تھا کہ بہت سے خاندانوں میں بچے ابتدائی تعلیم کے بعد ہی تعلیم چھوڑ دیتے تھے، مگر اب صورتحال بدل رہی ہے۔ آج مسلمانوں کے بچے نہ صرف گریجویشن بلکہ پوسٹ گریجویشن اور پیشہ ورانہ تعلیم کے میدانوں میں بھی آگے بڑھ رہے ہیں۔
ان کے مطابق خاص طور پر میڈیکل، انجینئرنگ، قانون اور دیگر پیشہ ورانہ شعبوں میں مسلم نوجوانوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جو ایک مثبت علامت ہے۔
سلیم قاضی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ تعلیم صرف روزگار کے حصول کا ذریعہ نہیں بلکہ شعور اور کردار سازی کا بھی اہم ذریعہ ہے۔ ایک تعلیم یافتہ فرد نہ صرف اپنی زندگی بہتر بناتا ہے بلکہ پورے معاشرے پر مثبت اثر ڈالتا ہے۔
اخلاقیات کی اہمیت
تعلیم کے ساتھ ساتھ سلیم قاضی اخلاقیات کو بھی انتہائی اہم قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر تعلیم کے ساتھ اخلاقی تربیت نہ ہو تو معاشرہ حقیقی ترقی حاصل نہیں کر سکتا۔
وہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے کردار اور رویے سے اسلام کی تعلیمات کو ظاہر کریں۔ پڑوسیوں کے ساتھ اچھا سلوک، سماجی ذمہ داریوں کا احساس اور دیانت داری وہ اقدار ہیں جو ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد بنتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ایک مسلمان کی پہچان صرف اس کی عبادات سے نہیں بلکہ اس کے کردار سے بھی ہوتی ہے۔ اگر وہ اپنے محلے، اپنے کام کی جگہ اور معاشرے میں ایمانداری اور اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرے تو یہ خود اسلام کی بہترین تبلیغ بن جاتی ہے۔
بیت النصر کی سماجی خدمات
بیت النصر صرف مالیاتی خدمات تک محدود نہیں بلکہ مختلف سماجی اور فلاحی سرگرمیوں میں بھی فعال کردار ادا کرتا ہے۔ ادارہ تعلیم کے فروغ، ضرورت مندوں کی مدد اور سماجی بیداری کے پروگراموں میں بھی حصہ لیتا ہے۔
سلیم قاضی کے مطابق ان کی کوشش ہوتی ہے کہ مالیاتی خدمات کے ساتھ ساتھ معاشرے کے دیگر مسائل پر بھی توجہ دی جائے۔ اسی لیے ادارہ مختلف تعلیمی اور سماجی منصوبوں میں تعاون فراہم کرتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ایک مضبوط معاشرہ صرف اقتصادی ترقی سے نہیں بلکہ تعلیم، اخلاقیات اور باہمی تعاون سے تشکیل پاتا ہے۔ اسی نظریے کو سامنے رکھتے ہوئے بیت النصر اپنے دائرہ کار کو وسیع کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
قیادت اور ٹیم ورک
سلیم قاضی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کسی بھی ادارے کی کامیابی صرف ایک فرد کی کوششوں کا نتیجہ نہیں ہوتی بلکہ یہ ایک پوری ٹیم کی محنت کا ثمر ہوتی ہے۔
وہ اپنے معاونین، عہدیداران اور کارکنان کا خصوصی طور پر ذکر کرتے ہیں جو دن رات محنت کرکے ادارے کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق بیت النصر کی سب سے بڑی طاقت اس کی ٹیم ہے جو دیانت داری اور خدمت کے جذبے کے ساتھ کام کرتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اس ادارے نے لوگوں کے دلوں میں اعتماد کی ایک مضبوط بنیاد قائم کی ہے۔
مستقبل کے عزائم
سلیم قاضی کا کہنا ہے کہ بیت النصر آئندہ برسوں میں اپنی خدمات کو مزید وسیع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ خاص طور پر نوجوانوں اور چھوٹے کاروباری افراد کو مالی سہولتیں فراہم کرنے کے منصوبوں پر غور کیا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق اگر نوجوانوں کو مناسب مالی مدد اور رہنمائی ملے تو وہ نہ صرف اپنی زندگی بدل سکتے ہیں بلکہ معاشرے کی اقتصادی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ غیر سودی مالیاتی نظام مستقبل میں ایک مؤثر متبادل کے طور پر ابھر سکتا ہے، بشرطیکہ اسے دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں چلایا جائے۔
چار دہائیوں پر مشتمل بیت النصر کا سفر اس بات کی مثال ہے کہ اگر کسی ادارے کے پاس واضح مقصد، دیانت دار قیادت اور خدمت کا جذبہ موجود ہو تو وہ محدود وسائل کے باوجود بھی معاشرے میں بڑا اثر پیدا کر سکتا ہے۔
سلیم قاضی اور ان کے رفقا کی کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ سماجی خدمت صرف بڑے دعوؤں سے نہیں بلکہ مسلسل محنت، خلوص اور اعتماد سے ممکن ہوتی ہے۔
آج جب معاشی مسائل اور سماجی چیلنجز بڑھ رہے ہیں، ایسے اداروں کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے جو نہ صرف مالی مدد فراہم کریں بلکہ معاشرے میں امید، تعاون اور اخلاقی اقدار کو بھی فروغ دیں۔
بیت النصر کا سفر اسی امید اور خدمت کی روایت کا تسلسل ہے — ایک ایسا سفر جو آنے والے برسوں میں بھی قوم و ملت کی فلاح کے لیے جاری رہنے کی توقع رکھتا ہے۔



