سوشل میڈیا اور صحافت: سچائی کی تلاش یا شہرت کی دوڑ؟

تنقید برائے تعمیری تجزیہ
تحریر: صحافی خضر احمد یافعی
عادل آباد.16/مارچ(اردو لیکس)موجودہ دور میں سوشل میڈیا نے اطلاعات کی ترسیل کو انتہائی آسان اور تیز بنا دیا ہے۔ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس کے ذریعے چند لمحوں میں کوئی بھی خبر یا معلومات ہزاروں بلکہ لاکھوں افراد تک پہنچ سکتی ہیں۔ تاہم اس سہولت کے ساتھ ذمہ داری کا احساس بھی نہایت ضروری ہے، کیونکہ خبر کی دنیا میں سچائی، تحقیق اور دیانت بنیادی اصول سمجھے جاتے ہیں۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حالیہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک ایسا رجحان فروغ پا رہا ہے جس میں بعض افراد کسی بھی مواد کو بغیر تحقیق اور تصدیق کے مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کر دیتے ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد اکثر فالوورز میں اضافہ اور عوامی توجہ حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اس دوڑ میں نہ تو خبر کی صداقت کو جانچنے کی کوشش کی جاتی ہے اور نہ ہی اس کے پس منظر کو سمجھنے کی زحمت اٹھائی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں بعض اوقات غلط معلومات بھی تیزی سے پھیل جاتی ہیں۔
ایک اور تشویشناک پہلو یہ بھی سامنے آ رہا ہے کہ بعض لوگ گھر بیٹھے زمینی سطح پر محنت کرنے والے صحافیوں اور رپورٹرز کی تیار کردہ معلومات یا مواد حاصل کر کے اسے اپنے نام سے پیش کرنے لگتے ہیں۔ اس عمل سے نہ صرف پیشہ ورانہ دیانت مجروح ہوتی ہے بلکہ ان افراد کی محنت اور جدوجہد بھی نظر انداز ہو جاتی ہے جو میدان میں جا کر حقائق تک پہنچنے کے لئے سردی، گرمی اور مختلف مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔
یہ تحریر کسی فرد یا گروہ کو نیچا دکھانے یا کسی کی حوصلہ شکنی کے لئے نہیں بلکہ ایک تعمیری تنقید کے طور پر پیش کی جا رہی ہے تاکہ ہم سب اپنی ذمہ داریوں کا ازسرِنو جائزہ لے سکیں۔ صحافت ہو یا سوشل میڈیا، دونوں کا بنیادی مقصد عوام تک درست اور مستند معلومات پہنچانا ہونا چاہئے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ جو افراد واقعی سچائی اور عوامی مفاد کے لئے کام کرنا چاہتے ہیں وہ میدان میں آ کر حالات کا براہِ راست مشاہدہ کریں، حقائق کی تحقیق کریں اور اپنی محنت و دیانت کے ساتھ معلومات عوام تک پہنچائیں۔ یہی پیشہ ورانہ صحافت کا اصل تقاضا اور سماجی ذمہ داری بھی ہے۔
آئیے ہم سب اپنے گریبان میں جھانک کر یہ سوچیں کہ ہماری ترجیح شہرت ہے یا سچائی۔ اگر نیت خالص ہو اور مقصد عوامی خدمت ہو تو یقیناً سچائی اور دیانت کے ساتھ کیا گیا کام ہی دیرپا عزت اور اعتماد کا باعث بنتا ہے۔



