باپ کی بیٹی سے زیادہ محبت ماں کو ناگوار گزری، حیدرآباد میں 14 ماہ کی معصوم بچی قتل واقعہ کا دلدہلا دینے والا سچ

حیدرآباد: گولکنڈہ پولیس اسٹیشن کی حدود میں درندہ صفت خاتون کے ہاتھوں شیر خوار بیٹی کے قتل واقعہ کی تحقیقات کے دوران چونکا دینے والا سچ سامنے آیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق آٹو ڈرائیور عامر علی اور غوثیہ بیگم نے 15 جنوری 2023 کو لو میرج کی تھی۔ شادی کے تقریباً ایک سال بعد ان کے یہاں ایک بچی کی پیدائش ہوئی تھی جو اس وقت تقریباً 14 ماہ کی تھی۔ بچی کی پیدائش کے بعد سے عامر علی اپنی بیٹی سے بہت زیادہ محبت کرتا تھا اور زیادہ وقت اس کے ساتھ گزارتا تھا۔
پولیس کی ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ غوثیہ بیگم اس صورتحال سے ناخوش تھی اور اسے یہ محسوس ہونے لگا تھا کہ اس کا شوہر اب اس پر پہلے کی طرح توجہ نہیں دے رہا بلکہ زیادہ تر توجہ اپنی بیٹی کو دے رہا ہے۔ اسی بات کو لے کر میاں بیوی کے درمیان اکثر تلخ کلامی بھی ہوتی رہتی تھی۔
بتایا جاتا ہے کہ کچھ دن قبل جھگڑے کے دوران غوثیہ بیگم نے اپنے شوہر کو یہ دھمکی بھی دی تھی کہ وہ اپنی شیر خوار بچی کو جان سے مار دے گی۔ تاہم عامر علی نے اس بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور اسے محض غصے میں کہی گئی بات یا مذاق سمجھ کر نظر انداز کر دیا۔
پولیس کے مطابق گزشتہ روز جب عامر علی روزمرہ کی طرح اپنا آٹو لے کر کام کے لیے گھر سے باہر گیا ہوا تھا اسی دوران غوثیہ بیگم نے اسے فون کیا اور حیران کن طور پر بتایا کہ اس نے اپنی بیٹی کو قتل کر دیا ہے اور وہ خود پولیس اسٹیشن جا رہی ہے۔
ابتدا میں عامر علی کو اس بات پر یقین نہیں آیا اور اس نے فوری طور پر اپنے قریبی رشتہ داروں کو گھر جا کر صورتحال دیکھنے کے لیے کہا۔جب رشتہ دار گھر پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ 14 ماہ کی معصوم بچی مردہ حالت میں پڑی ہوئی ہے۔ اس دلخراش منظر کو دیکھ کر انہوں نے فوراً عامر علی کو اطلاع دی جس کے بعد پولیس کو واقعہ کی خبر دی گئی۔
اطلاع ملنے پر گولکنڈہ پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور بچی کی نعش کو اپنی تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا۔ پولیس نے ابتدائی شواہد اکٹھے کرتے ہوئے مقدمہ درج کر لیا ہے اور ملزمہ غوثیہ بیگم سے تفتیش جاری ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ اصل حقائق سامنے لائے جا سکیں۔ ابتدائی طور پر گھریلو تنازعہ اور شوہر کی جانب سے بچی کو زیادہ توجہ دینے کو اس افسوسناک واقعہ کی ممکنہ وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ واقعہ نہ صرف خاندان بلکہ پورے علاقے کے لیے شدید صدمے کا باعث بنا ہے۔ مقامی افراد نے اس سانحہ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک معصوم جان کا اس طرح ضائع ہو جانا انتہائی افسوسناک ہے۔

